صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ: باب: نماز کے بعد کیا پڑھنا چاہئے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : أَخْبَرَنِي بِذَا أَبُو مَعْبَدٍ ، ثُمَّ أَنْكَرَهُ بَعْدُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كُنَّا نَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ " .زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو (بن دینار) سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے ابومعبدنے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بات کی خبر دی، بعد میں (بھول جانے کی وجہ سے) اس سے انکار کر دیا، انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کا پتہ تکبیر سے چلتا تھا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُخْبِرُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَا كُنَّا نَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا بِالتَّكْبِيرِ " ، قَالَ عَمْرٌو : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي مَعْبَدٍ ، فَأَنْكَرَهُ ، وَقَالَ : لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهَذَا ، قَالَ عَمْرٌو : وَقَدْ أَخْبَرَنِيهِ قَبْلَ ذَلِك .حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی نماز کے ختم ہونے کو بلند آواز سے اَللہ اَکْبَر کہنے ہی سے پہچانتے تھے، عمرو بیان کرتے ہیں، میں نے یہ روایت (بعد میں) ابو معبدکو سنائی تو اس نے اس کا انکار کیا اور کہا میں نے تمہیں یہ حدیث نہیں سنائی، عمرو کہتے ہیں، حالانکہ اس نے پہلے مجھے یہ روایت سنائی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ ، حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ ، كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَأَنَّهُ قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُنْتُ أَعْلَمُ ، إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ ، إِذَا سَمِعْتُهُ .حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فرض نماز کے بعد لوگوں کے سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے ذکر نبی اکرم ﷺ کے دور میں تھا اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بتایا، مجھےسلام پھیرنے کا علم اس کے سننے سے ہوتا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حدیث سابق میں بآواز بلند ذکر کرنے سے مراد اللہ أکبر کہنا ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ فرض نماز کا سلام پھیر کر بآواز بلند اللہ أکبر کہتے تھے۔
اس سے ثابت ہوا کہ امام اور مقتدیوں کو نماز سے فارغ ہوتے ہی بلند آواز سے ایک بار "اللہ أکبر" کہنا چاہیے۔
نماز سے فراغت کے بعد دیگر اذکار پڑھنے کا ثبوت بھی احادیث سے ملتا ہے، چنانچہ حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی نماز ختم کرتے تو تین بار أستغفرالله کہتے اور اس کے بعد یہ کلمات کہتے: اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذالجلال والإكرام ’’اے اللہ! تو سراپا سلام ہے۔
تیری ہی طرف سے سلامتی ہے۔
اے عظمت و جلال والے! تو بڑا ہی بابرکت ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1334(591) (2)
حدیث کے آخر میں حضرت ابن عباس ؓ کے غلام ابو معبد نافذ کا تذکرہ ہے جس کے متعلق راوئ حدیث عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے ابو معبد سے اس حدیث کا تذکرہ کیا تو اس نے صاف انکار کر دیا کہ میں نے تجھے یہ حدیث بیان نہیں کی۔
امام شافعی نے فرمایا ہے کہ شاید وہ بیان کے بعد بھول گئے ہوں، بہرحال حدیث کے صحیح ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے۔
(فتح الباري: 421/2)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ختم ہونے کو تکبیر کے ذریعہ جانتا تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1336]
➋ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نابالغ ہونے کی وجہ سے پچھلی صفوں میں کھڑے ہوتے تھے، اس لیے ان تک سلام کی آواز نہیں پہنچتی تھی۔ سلام کے بعد جب تکبیر کی آوازگونجتی تو انہیں نماز کے ختم ہونے کا پتہ چلتا۔ ممکن ہے تکبیر بلند آواز سے کہنے میں یہ حکمت بھی ہو کہ لوگوں کو نماز ختم ہونے کا پتہ چل جائے، جیسے نماز میں تکبیرات انتقال بلند آواز سے کہی جاتی ہیں، اذان بلند آواز سے کہی جاتی ہے وغیرہ، لہٰذا یہ بات کمزور ہے کہ ذکر میں اخفا مناسب ہے، اس لیے سلام کے بعد تکبیر آہستہ کہی جائے جیسا کہ یہ جمہور اہل علم کا موقف ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز کا سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے اللہ اکبر کہنا چاہیے، لیکن آج کل بعض لوگوں نے سنت کو چھوڑ کر بدعت کو اختیار کر لیا ہے کہ اللہ اکبر کو چھوڑ کر سلام کے بعد «لا اله الا الله» کا ورد سب مل کر بلند آواز سے کرتے ہیں یا اللہ ھو اللہ ھو کی ضربیں لگانا شروع کر دیتے ہیں یہ قطعی طور پر غیر شرعی کام ہیں، نماز کے مکمل ہونے کے بعد اونچی آواز میں اللہ اکبر کہنا مسنون ہے۔ شیخ ابوعمر عبدالعزیز نورستانی حفطہ اللہ نے اس مسئلہ پرمستقل رسالہ لکھا ہے جو لائق مطالعہ ہے۔ انظر [سلسلة مجموع الرسائل الشيخ نورستاني صفحہ: 400 تا 426]