صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب السَّلاَمِ لِلتَّحْلِيلِ مِنَ الصَّلاَةِ عِنْدَ فَرَاغِهَا وَكَيْفِيَّتِهِ: باب: نماز ختم کرتے وقت سلام کیوں پھیرنا چاہئیے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، ومَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، أَنَّ أَمِيرًا ، كَانَ بِمَكَّةَ ، يُسَلِّمُ تَسْلِيمَتَيْنِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَنَّى عَلِقَهَا ، قَالَ الْحَكَمُ فِي حَدِيثِهِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَفْعَلُهُ .زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حکم اور منصور سے، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے ابومعمر سے روایت کی کہ ایک حاکم جو مکہ میں تھا دو طرف سلام پھیرتا تھا۔ حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے کہا: وہ کہاں سے اس سنت سے وابستہ ہوا ہے؟ حکم نے اپنی حدیث میں کہا: (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ شُعْبَةُ : رَفَعَهُ مَرَّةً ، " أَنَّ أَمِيرًا أَوْ رَجُلًا ، " سَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ " ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَنَّى عَلِقَهَا .احمد بن حنبل نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے حدیث سنائی، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابومعمر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ شعبہ نے کہا: حکم نے ایک بار یہ روایت مرفوع بیان کی کہ ایک حاکم یا ایک آدمی نے دو طرف سلام پھیرا تو عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے کہا: اس نے یہ (سنت) کہاں سے اپنا لی ہے؟ گویا اس دور کے حاکموں نے ایسی سنتیں بھی ترک کی ہوئی تھیں۔ جس نے اہتمام کیا صحابہ نے اسے سراہا۔ محدثین کی کاوشوں سے یہ سب سنتیں زندہ ہوئیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
اَنّٰي عَلَّمَهَا: اس نے یہ سنت کہاں سے حاصل کر لی، یعنی اس حاکم نے سنت سلام کی معرفت پر تعجب کا اظہار کیا۔
ہمارے زمانہ میں یہ بلابہت پھیلی ہے۔
بے اصل کاموں کو عوام کیا بلکہ خواص نے لازم قرار دے لیا ہے (مولانا وحید الزماں)
تیجہ، فاتحہ چہلم وغیرہ سب اسی قسم کے کام ہیں۔
(1)
شریعت نے اگر کسی کام کے متعلق دو حیثیت سے وسعت دی ہو تو کسی ایک پر جمود یا انحصار کرنا درست نہیں، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض اوقات ترک مستحب پر تنبیہ بھی کی جا سکتی ہے۔
ابن منیر نے کہا ہے کہ مستحب مکروہ کے دائرے میں شامل ہو جاتا ہے جبکہ اسے اس کے مرتبے سے اونچا کر دیا جائے کیونکہ دائیں جانب تمام کاموں میں مستحب ہے لیکن جب حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو خطرہ محسوس ہوا کہ لوگ اسے اپنے آپ پر واجب قرار دے لیں گے تو اس کے مکروہ ہونے کی طرف اشارہ فرمایا۔
جب مباح کام کو لازم قرار دینے سے شیطان کا حصہ سمجھا جائے تو جو کام ناجائز یا بدعت ہے اسے اگر کوئی لازم قرار دے لے اور اس کے نہ کرنے پر دوسروں کو ملامت کرے تو ایسے انسان پر تو شیطان پوری طرح مسلط ہو جاتا ہے۔
(فتح الباري: 437/2)
ہمارے اس دور میں یہ وبا بہت عام ہے کہ بدعات و رسومات، مثلاً: قل خوانی، فاتحہ، چہلم اور برسی وغیرہ کو عام و خاص نے اپنے آپ پر لازم قرار دے لیا ہے اور نہ کرنے والوں کو لعن طعن کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
واللہ المستعان۔
(2)
حضرت انس ؓ کے کہنے کے مطابق نماز سے فراغت کے بعد اکثر طور پر رسول اللہ ﷺ دائیں جانب مڑتے تھے جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اکثر بائیں جانب مڑتے دیکھا ہے۔
ان دونوں حضرات کے بیان میں بظاہر تضاد ہے۔
تطبیق کی حسب ذیل دو صورتیں ہیں: ٭ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت کو مسجد میں نماز پڑھنے پر محمول کیا جائے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن کے گھر مسجد کی بائیں جانب تھے جبکہ حضرت انس ؓ کے بیان کو اس کے علاوہ سفر وغیرہ پر محمول کیا جائے۔
٭ بحالت نماز اگر پھرنے کی ضرورت ہوتی تو اکثر اوقات بائیں جانب سے پھرتے جیسا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا ہے۔
اگر مقتدی حضرات کی طرف منہ کرنا ہوتا تو نماز کے بعد دائیں جانب سے ان کی طرف پھرتے جیسا کہ حضرت انس ؓ نے کہا ہے۔
اس بنا پر انصراف کسی معین جہت کے ساتھ خاص نہ تھا۔
(فتح الباري: 437/2)
واللہ أعلم۔
لیکن اب سوال یہ ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فوت شدہ مسلمانوں کو ایصال ثواب کے لیے تیسرے دسویں اور چالیسوں دن قرآن پا ک کی تلاوت کرنا اور صدقہ کرنا ثابت نہیں ہے تو کیا اس کا امر مستحب قراردینا شریعت سازی نہیں ہے جب کہ صورت حال یہ ہے تیجا، ساتواں اور دسواں وغیرہ نہ کرنے والے کو ملامت کی جاتی ہے اور یہ واجب ٹھہرانے کی علامت ہے- علامہ سعیدی لکھتے ہیں، واجب اور مستحب میں یہ فرق ہے کہ واجب کے تارک کو نہ کرنے پر ٹوکا جاتا ہے اور اسے ملامت کی جاتی ہے کہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا اور مستحب کے تارک کو ملامت نہیں کی جاتی نہ ہی نہ کرنے پر ٹوکا جاتا ہے اگر کوئی شخص کسی مستحب کام کے نہ کرنے پر ٹوک رہا ہے تو دوسرے لفظوں میں وہ اس مستحب کو واجب بنا رہا ہے۔
(اَلْعَيَاذُ بِاللهِ)
(شرح مسلم الرواح: 2 /418)
پہلے تو تیجے، ساتویں وغیرہ کی اپنی طرف سے تعیین کر لی جب کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے اور پھر یہ کام نہ کرنے والے کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کیا یہ اس کو لازم اور واجب قرار دینا نہیں ہے جو گمراہی میں بدعت سئیہ ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں «السلام عليكم ورحمة الله السلام عليكم ورحمة الله» کہہ کر سلام پھیرتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 295]
1؎:
اس سے دونوں طرف دائیں اور بائیں سلام پھیرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے، ابو داؤد کی روایت میں ((حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ)) کا اضافہ ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز کا کچھ حصہ شیطان کے لیے نہ بنائے کہ وہ صرف دائیں طرف ہی سے پلٹے، حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ اکثر بائیں طرف سے پلٹتے تھے، عمارہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں مدینہ آیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کو (بحالت نماز) آپ کے بائیں جانب دیکھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1042]
➊ حضرت عمارہ رضی اللہ عنہا کا استشہاد یوں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز کے بعد اذکار وغیرہ سے فارغ ہو کر اپنے گھروں کو بائیں جانب ہی جانا ہوتا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عموماًاپنے بائیں جانب سے ہی اپنا منہ موڑتے رہے ہوں گے۔
➋ بقول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سنت کے کسی ایک ہی انداز میں اس قدر اصرار کے دوسرے سے اعراض یا اس کی تکذیب سمجھی جائے۔ دین میں بےحد برا عمل ہے، گویا شیطان کا حصہ ملانا ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے دائیں گال کی سفیدی دکھائی دینے لگتی، اور بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے بائیں گال کی سفیدی دکھائی دینے لگتی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1326]
➊ دائیں اور بائیں دونوں جانب «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» کہنا اور یہ طریقہ زیادہ مشہور اور معمول بہ ہے کیونکہ اکثر روایات میں یہی طریقہ مروی ہے۔
➋ دائیں اور بائیں دونوں جانب «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وبركاتُه» کہنا۔
➌ دابئیں جانب «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» اور بائیں جانب «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ»
➍ صرف سامنے کی طرف منہ کر کے «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» کہنا اور چہرے کا میلان تھوڑا سا دائیں جانب ہو۔ بعض علماء دائیں جانب «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وبركاتُه» اور بائیں جانب «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» کہنے کے قائل ہیں لیکن ان کا یہ موقف محل نظر ہے کیونکہ سنن ابی داود کی جس روایت سے صرف دائیں جانب «وبرکاتہ» کا اضافہ ثابت ہے علمائے محققین اس کی بابت فرماتے ہیں کہ سنن ابی داود کے صحیح اور معتمد نسخوں میں دونوں طرف «وبركاتُه» کا اضافہ منقول ہے۔ بنابریں دائیں اور بائیں دونوں جانب «وبركاتُه» کہنا چاہیے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [أصل صفة صلاة النبي، للألباني، ص: 1036-1023، وذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 306-296/15]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اپنی ذات میں شیطان کے لیے حصہ مقرر نہ کرے، وہ یہ سمجھے کہ اس پر اللہ کا یہ حق ہے کہ نماز کے بعد وہ صرف اپنے دائیں جانب سے پھرے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اکثر بائیں جانب سے مڑتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 930]
فوائد ومسائل: (1)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین بدعت سے اس قدر احتیاط فرماتے تھے کہ بظاہر معمولی نظر آنے والے امور میں بھی سنت پر من عن عمل کرنا ضروری سمجھتے تھے۔
(2)
غیر واجب اور مستحب کو واجب کی طرح اختیار کرلینا درست نہیں۔
ایسے معاملات میں کبھی کبھار دوسرے طریقے پر بھی عمل کرلینا چاہیے۔
(3)
شیطان انسان کو افراط وتفریط دونوں طریقوں سے گمراہ کرتا ہے۔
نفل کو فرض کا درجہ دینا بھی ایک غلو ہے۔
اس لئے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے شیطان کا حصہ قرار دیا ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دکھائی دینے لگتی، اور آپ کہتے: «السلام عليكم ورحمة الله» ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 914]
فوائدومسائل: (1)
نماز سے فارغ ہونے کا طریقہ سلام پھیرنا ہے۔
جیسے کہ حدیث 275 اور 276 میں بیان ہوا ہے۔
(2)
سلام پھیرنے کے مختلف طریقے وارد ہیں۔
مثلاً
(الف)
السلام و علیکم ورحمة اللہ۔
السلام علیکم ورحمة اللہ (جیسے حدیث 916 میں آرہا ہے۔)
(ب)
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته۔
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته۔ (بلوغ المرام، لإبن حجر، الصلاۃ، باب صفة الصلاۃ، حدیث: 253)
(ج)
صرف ایک سلام کےساتھ نماز سے فارغ ہونا بھی درست ہے۔
ایک سلام کہتے ہوئے تھوڑا سا دایئں طرف منہ کرنا چاہیے۔ (جامع الترمذي، الصلاة، باب: 106، حدیث: 296)