حدیث نمبر: 573
حَدَّثَنِي ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وعَمْرٌو النَّاقِدُ جميعا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ ، إِمَّا الظُّهْرَ ، وَإِمَّا الْعَصْرَ ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَتَى جِذْعًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَاسْتَنَدَ إِلَيْهَا مُغْضَبًا ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، فَهَابَا أَنْ يَتَكَلَّمَا ، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ ، قُصِرَتِ الصَّلَاةُ ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ ، أَمْ نَسِيتَ ؟ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَمِينًا ، وَشِمَالًا ، فَقَالَ : مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ قَالُوا : صَدَقَ ، لَمْ تُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ ، " فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، وَسَلَّمَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، فَرَفَعَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، وَسَجَدَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، وَرَفَعَ " ، قَالَ : وَأُخْبِرْتُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّهُ قَالَ : وَسَلَّمَ .

سفیان بن عیینہ نے کہا: ہم سے ایوب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے محمد بن سیرین سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کے بعد کی ایک نماز ظہر یا عصر پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، پھر قبلے کی سمت (گڑے ہوئے) کجھور کے ایک تنے کے پاس آئے اور غصے کی کیفیت میں اس سے ٹیک لگا لی۔ لوگوں میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما موجود (بھی) تھے، انہوں نے آپ کی ہیبت کی بنا پر گفتگو نہ کی جبکہ جلد باز لوگ (نماز پڑھ کر) نکل گئے، اور کہنے لگے: نماز میں کمی ہو گئی ہے۔ تو ذوالیدین (نامی شخص) کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز مختصر کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں اور بائیں دیکھ کر پوچھا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: سچ کہہ رہا ہے، آپ نے دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں۔ چنانچہ آپ نے دو رکعتیں (مزید) پڑھیں اور سلام پھیر دیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا۔ (محمد بن سیرین نے) کہا: عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے بتایا گیا کہ انہوں نے کہا: اور سلام پھیرا۔

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے دوپہر کی ایک نماز پڑھائی، سفیان کے ہم معنی حدیث سنائی۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ ، فَقَالَ : قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ " .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی۔ اور دو رکعتوں پر سلام پھیردیا تو ذوالیدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر پوچھا، اے اللہ کے رسول ﷺ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپﷺ ہی بھول گئے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دونوں کام نہیں ہوئے۔ تو اس نے عرض کی، ایک کام تو ہوا ہے، اے اللہ کے رسول ﷺ! رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ! تو رسول اللہ ﷺ نے باقی ماندہ نماز پوری کی، پھر دو سجدے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے کیے۔

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْخَزَّازُ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ ، أَمْ نَسِيتَ ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ .

علی بن مبارک نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوسلمہ نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیر دیا تو بنو سلیم کا ایک آدمی آپ کے قریب آیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ (آگے (سابقہ) حدیث بیان کی۔)

وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَاةَ الظُّهْرِ ، سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ .

شیبان نے یحییٰ سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (اقتداء میں) ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا، اس پر بنی سلیم کا ایک آدمی کھڑا ہوا (آگے (مذکورہ بالا) حدیث بیان کی۔)

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 573
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»