مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 569
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا ، نَشَدَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الأَحْمَرِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وَجَدْتَ ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ " .

سفیان ثوری نے ہمیں خبر دی، انہوں نے علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد (بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ ایک آدمی نے مسجد میں اعلان کیا اور کہا: جو سرخ اونٹ (کی نشاندہی) کے لیے آواز دے گا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے (تیرا اونٹ) نہ ملے، مسجدیں صرف انہی کاموں کے لیے بنائی گئی ہیں جن کے لیے انہیں بنایا گیا۔“ (یعنی عبادت اور اللہ کے ذکر کے لیے۔)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمَّا صَلَّى ، قَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الأَحْمَرِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا وَجَدْتَ ، " إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ " .

حضرت سلیمان بن بریدہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہو گئے، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا سرخ اونٹ کے لیے کس نے بلایا ہے؟ یعنی سرخ اونٹ کس کو ملا ہے، کے بارے میں کون بتا سکتا ہے؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”تجھے نہ ملے، مساجد صرف انہیں کاموں کے لیے ہیں جن کے لیے ان کو بنایا گیا ہے۔‘‘

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ بَعْدَ مَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ ، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا ، قَالَ مُسْلِم : هُو وَشَيْبَةُ بْنُ نَعَامَةَ أَبُو نَعَامَةَ ، رَوَى عَنْهُ مِسْعَرٌ ، وَهُشَيْمٌ ، وَجَرِيرٌ ، وَغَيْرُهُمْ مِنْ الْكُوفِيِّينَ .

محمد بن شیبہ نے علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے (سلیمان) بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ چکے تو ایک بدوی آیا اور مسجد کے دروازے سے اپنا سر اندر کیا (پھر ان دونوں کی حدیث کی طرح بیان کیا۔) امام مسلم نے کہا: محمد بن شیبہ سے مراد ابونعامہ شیبہ بن نعامہ ہے جس سے مسعر، ہشیم، جریر اور دوسرے کوفی راویوں نے روایت کی۔

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ كِلَاهُمَا ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .

سفیان بن عیینہ اور لیث بن سعد نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا نُودِيَ بِالأَذَانِ ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ الأَذَانَ ، فَإِذَا قُضِيَ الأَذَانُ أَقْبَلَ ، فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ ، فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ ، يَخْطُرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ ، يَقُولُ : اذْكُرْ كَذَا ، اذْكُرْ كَذَا ، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى ، فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " ,

یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے، کہا: ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث سنائی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اذان کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، گوز مار رہا ہوتا ہے تاکہ اذان (کی آواز) نہ سنے۔ جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو (واپس) آتا ہے، پھر جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے، جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو آ جاتا ہے تاکہ انسان اور اس کے دل کے درمیان خیال آرائی شروع کرائے، وہ کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں چیز یاد کرو، وہ چیزیں (اسے یاد کراتا ہے) جو اسے یاد نہیں ہوتیں حتیٰ کہ وہ شخص یوں ہو جاتا ہے کہ اسے یاد نہیں رہتا اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، چنانچہ جب تم میں سے کسی کو یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو وہ (تشہد میں) بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ وَلَّى ، وَلَهُ ضُرَاطٌ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ : فَهَنَّاهُ وَمَنَّاهُ وَذَكَّرَهُ مِنْ حَاجَاتِهِ ، مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ .

عبدالرحمن اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے (آگے اوپر کی روایت کی طرح ذکر کیا) اور یہ اضافہ کیا: ”اسے رغبت اور امید دلاتا ہے اور اسے اس کی ایسی ضرورتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہیں ہوتیں۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 569
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 569 | سنن ابن ماجه: 765

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت سلیمان بن بریدہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے مسجد میں اعلان کیا کہ سرخ اونٹ کے بارے میں کون بتائے گا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تجھے نہ ملے، مسجدیں صرف انہیں کاموں کے لیے بنی ہیں جن کے لیے بنائی جاتی ہیں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1262]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مسجد بنانے کا اصل مقصد نماز، تلاوت، ذکر و اذکار اور دین کی تعلیمات اور وعظ و نصیحت ہے، اور لوگوں کے اجتماع سے فائدہ اٹھا کر گمشدہ چیز کا اعلان کرنا ان مقاصد کے منافی ہے حتی کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ علمی بحث اور مذاکرہ کو بھی آواز کے بلند ہو جانے کی بنا پر ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں اور بعض حضرات کا خیال ہے کہ انسان اپنی ذات کی ضرورت کے لیے مسجد میں سوال بھی نہیں کر سکتا، صرف دینی ضرورت کے لیے یا مفادِعامہ کی چیز کا سوال کر سکتا ہے۔
اس لیے آپﷺ نے اپنے گمشدہ اونٹ کے بارے میں اعلان کرنے والے کو رَحْمَةٌ الِّلْعَالَمِیْن ہونے کے باوجود بدعا دی، جس سے ثابت ہوتا ہے مسجد سے خارج گمشدہ چیز کا اعلان مسجد میں کرنا درست نہیں ہے۔
خاص کر نماز اور تعلیم وتدریس کے اوقات میں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 569 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 765 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مساجد میں گمشدہ چیزوں کو پکار کر ڈھونڈنا منع ہے۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، تو ایک شخص نے کہا: میرا سرخ اونٹ کس کو ملا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کرے تمہیں نہ ملے، مسجدیں خاص مقصد کے لیے بنائی گئی ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 765]
اردو حاشہ: (1) (ضالة)
گمشدہ جانور کو کہا جاتا ہے تاہم دوسری گمشدہ اشیاء پر بھی اس کا اطلاق ہوسکتا ہے۔

(2)
اس بد دعا کا مقصد اس اعلان سے ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔
یہ بھی تنبیہ کا ایک اسلوب ہے۔

(3)
مسجدوں کی تعمیر کا مقصد نماز کی ادائیگی وعظ ونصیحت اور تعلیم وتعلم ہے، مسجد سے باہر گم ہونے والی چیزوں کی تلاش نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 765 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔