صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب نَهْيِ مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلاً أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا عَنْ حُضُورِ الْمَسْجِدِ: باب: لہسن، پیاز، گندنا یا کوئی بدبودار چیز کھا کر مسجد میں جانا اس وقت تک ممنوع ہے جب تک اس کی بو منہ سے نہ جائے اور اس کو مسجد سے نکالنا۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَذَكَرَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ ، قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي ثَلَاثَ نَقَرَاتٍ ، وَإِنِّي لَا أُرَاهُ إِلَّا حُضُورَ أَجَلِي ، وَإِنَّ أَقْوَامًا يَأْمُرُونَنِي أَنْ أَسْتَخْلِفَ ، وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ لِيُضَيِّعَ دِينَهُ ، وَلَا خِلَافَتَهُ ، وَلَا الَّذِي بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ ، فَالْخِلَافَةُ شُورَى بَيْنَ هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ ، الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ ، وَإِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَقْوَامًا يَطْعَنُونَ فِي هَذَا الأَمْرِ ، أَنَا ضَرَبْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الإِسْلَامِ ، فَإِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ ، فَأُولَئِكَ أَعْدَاءُ اللَّهِ الْكَفَرَةُ ، الضُّلَّالُ ، ثُمَّ إِنِّي لَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا أَهَمَّ عِنْدِي مِنَ الْكَلَالَةِ ، مَا رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مَا رَاجَعْتُهُ فِي الْكَلَالَةِ ، وَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْءٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهِ ، حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي ، فَقَالَ : يَا عُمَرُ ، أَلَا تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ ؟ وَإِنِّي إِنْ أَعِشْ ، أَقْضِ فِيهَا بِقَضِيَّةٍ يَقْضِي بِهَا مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ عَلَى أُمَرَاءِ الأَمْصَارِ ، وَإِنِّي إِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ عَلَيْهِمْ لِيَعْدِلُوا عَلَيْهِمْ ، وَلِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ ، وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَقْسِمُوا فِيهِمْ ، فَيْئَهُمْ وَيَرْفَعُوا إِلَيَّ مَا أَشْكَلَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَمْرِهِمْ ، ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ ، لَا أَرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ هَذَا ، الْبَصَلَ ، وَالثُّومَ ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا وَجَدَ رِيحَهُمَا مِنَ الرَّجُلِ فِي الْمَسْجِدِ ، أَمَرَ بِهِ ، فَأُخْرِجَ إِلَى الْبَقِيعِ ، فَمَنْ أَكَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا " ،ہشام نے کہا: ہم سے قتادہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے اور انہوں نے حضرت معدان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعے کے دن خطبہ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا، کہا: میں نے خواب دیکھا ہے، جیسے ایک مرغ نے مجھے تین ٹھونگیں ماری ہیں اور اس کو میں اپنی موت قریب آنے کے سوا اور کچھ نہیں سمجھتا۔ اور کچھ قبائل مجھ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ میں کسی کو اپنا جانشین بنا دوں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو ضائع نہیں ہونے دے گا، نہ اپنی خلافت کو اور نہ اس شریعت کو جس کے ساتھ اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ اگر مجھے جلد موت آ جائے تو خلافت ان چھ حضرات کے باہم مشورے سے طے ہو گی جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت خوش تھے۔ اور میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ جن کو میں نے اسلام کی خاطر اپنے اس ہاتھ سے مارا ہے، وہ اس امر (خلافت) پر اعتراض کریں گے، اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ اللہ کے دشمن، کافر اور گمراہ ہوں گے، پھر میں اپنے بعد جو (حل طلب) چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ان میں سے میرے نزدیک کلالہ کی وراثت کے مسئلے سے بڑھ کر کوئی مسئلہ زیادہ اہم نہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی مسئلے کے بارے میں اتنی دفعہ رجوع نہیں کیا جتنی دفعہ کلالہ کے بارے میں کیا اور آپ نے (بھی) میرے ساتھ کسی مسئلے میں اس قدر سختی نہیں برتی جتنی میرے ساتھ آپ نے اس مسئلے میں سختی کی حتیٰ کہ آپ نے انگلی میرے سینے میں چبھو کر فرمایا: ”اے عمر! کیا گرمی کے موسم میں اترنے والی آیت تمہارے لیے کافی نہیں جو سورة النساء کے آخر میں ہے؟“ میں اگر زندہ رہا تو میں اس مسئلے (کلالہ) کے بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا کہ (ہر انسان) جو قرآن پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا ہے اس کے مطابق فیصلہ کر سکے گا، پھر آپ نے فرمایا: اے اللہ! میں شہروں کے گورنروں کے بارے میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے لوگوں پر انہیں صرف اس لیے مقرر کر کے بھیجا کہ وہ ان سے انصاف کریں اور لوگوں کو ان کے دین اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تعلیم دیں اور ان کے اموال فیے ان میں تقسیم کریں اور اگر لوگوں کے معاملات میں انہیں کوئی مشکل پیش آئے تو اسے میرے سامنے پیش کریں۔ پھر اے لوگو! تم دو پودے کھاتے ہو، میں انہیں (بو کے اعتبار سے) برے پودے ہی سمجھتا ہوں، یہ پیاز اور لہسن ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب مسجد میں آپ کو کسی آدمی سے ان کی بو آتی تو آپ اسے بقیع کی طرف نکال دینے کا حکم صادر فرماتے، لہٰذا جو شخص انہیں کھانا چاہتا ہے وہ انہیں پکا کر ان کی بو مار دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ . ح ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كلاهما ، عَنْ شَبَابَةَ بْنِ سَوَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا ، عَنْ قَتَادَةَ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .سعید بن ابی عروبہ اور شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔