صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب كَرَاهَةِ الصَّلاَةِ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ الَّذِي يُرِيدُ أَكْلَهُ فِي الْحَالِ وَكَرَاهَةِ الصَّلاَةِ مَعَ مُدَافَعَةِ الأَخْبَثَيْنِ. باب: جب کھانا سامنے آ جائے اور اس کے کھانے کا قصد ہو تو بغیر کھائے نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، قَالَ : تَحَدَّثْتُ أَنَا وَالْقَاسِمُ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدِيثًا ، وَكَانَ الْقَاسِمُ رَجُلًا لَحَّانَةً ، وَكَانَ لِأُمِّ وَلَدٍ ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : مَا لَكَ ، لَا تَحَدَّثُ كَمَا يَتَحَدَّثُ ابْنُ أَخِي هَذَا ؟ أَمَا إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ ، مِنْ أَيْنَ أُتِيتَ هَذَا ، أَدَّبَتْهُ أُمُّهُ ، وَأَنْتَ ، أَدَّبَتْكَ أُمُّكَ ؟ قالَ: فَغَضِبَ القَاسِمُ وأَضَبَّ عَلَيْهَا، فَلَمَّا رَأَى مَائِدَةَ عَائِشَةَ، قَدْ أُتِيَ بِهَا ، قَامَ قَالَتْ : أَيْنَ ؟ قَالَ : أُصَلِّي ، قَالَتْ : اجْلِسْ ؟ قَالَ : إِنِّي أُصَلِّي ، قَالَتْ : اجْلِسْ غُدَرُ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ ، وَلَا هُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ " ،حضرت ابن ابی عتیق سے روایت ہے کہ میں نے اور قاسم نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ایک گفتگو کی اور قاسم گفتگو میں اعرابی غلطی بہت کرتے تھے کیونکہ وہ لونڈی کے بیٹے تھے، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسے کہا، کیا بات ہے تم میرے اس بھتیجے کی طرح گفتگو نہیں کرتے ہو؟ ہاں، میں جانتی ہوں تم میں یہ بات کہاں سے آئی ہے، اس کو اس کی ماں نے ادب سکھایا (تعلیم دی) اور تجھے تیری ماں نے ادب سکھایا، اس پر قاسم ناراض ہو گیا اور حسد و کینہ کا اظہار کیا اور جب اس نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا دسترخوان آتے دیکھا تو اٹھ کھڑا ہوا، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہاں جاتے ہو؟ اس نے کہا نماز پڑھنے، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا بیٹھ جاؤ، اس نے کہا نماز پڑھتا ہوں۔ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: اے بے وفا! بیٹھ جا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، کھانا سامنے آ جائے تو نماز نہ پڑھو، اسی طرح پیشاب، پاخانہ روک کر نماز نہ پڑھو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَزْرَةَ الْقَاصُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ : قِصَّةَ الْقَاسِمِ .امام صاحب نے اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت کی اور اس حدیث میں قاسم کا واقعہ نہیں بیان کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
لَحَّانَةً: اعراب میں بہت غلطی کرنے والا۔
(2)
مِنْ اَيْنَ اَتَيْتَ: تجھ میں یہ اعرابی غلطی کہاں سے آئی۔
(3)
اَضَبَّ: ضب (حسد و کینہ)
سے ماخوذ ہے، طیش اورغصہ کا اظہار کیا۔
(4)
غُدَرُ: یعنی اےبےوفا۔
(5)
اَلْاَخْبَثَان: پیشاب وپاخانہ۔
(6)
يُدَافِعُ: ہٹانا، دور کرنا مراد ان کو روکنا ہے۔
«. . . فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يُصَلَّى بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ . . .»
". . . میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: "کھانا موجود ہو تو نماز نہ پڑھی جائے اور نہ اس حال میں پڑھی جائے جب دونوں ناپسندیدہ چیزیں (پاخانہ و پیشاب) اسے زور سے لگے ہوئے ہوں . . ." [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 89]
➊ اس روایت کا ایک پس منظر ہے کہ جناب قاسم بن محمد کی والدہ ام ولد (لونڈی) تھیں اور اس کی تربیت کے اثر سے جناب قاسم کے عربی تکلم میں قدرے لحن تھا۔ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں تادیب کی تو وہ کچھ خفا ہو گئے اور کھانا چھوڑ کر نماز پڑھنے لگے۔ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ حدیث سنائی اور امر بالمعروف کا فریضہ ادا کیا۔
➋ خیال رہے کہ بھوک اور قضائے حاجت ایسے فطری امور ہیں جو انسان کے اپنے کنٹرول میں نہیں ہوتے۔ شریعت نے خصوصی طور پر ان سے فراغت حاصل کر لینے کا حکم دیا ہے، مگر ایسے اعمال جو انسان کے اپنے بس میں ہوں مثلاً کوئی کام ادھورا رہا ہو یا ویسے ہی ذہن پر سوار ہو تو دینی تقاضا یہ ہے کہ انسان ان امور سے اپنے آپ کو خالی الذہن کر کے نماز کی طرف متوجہ ہو اور اپنے کام یا تو قبل از نماز نمٹا لے یا بعد از نماز مکمل کرے، مثلاً سفر میں جمع بین الصلوٰتین کی رخصت موجود ہے۔ ماں کو بچہ پریشان کر رہا ہو، تو اجازت ہے کہ اسے اٹھا کر نماز پڑھ لے۔