صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب كَرَاهَةِ مَسْحِ الْحَصَى وَتَسْوِيَةِ التُّرَابِ فِي الصَّلاَةِ: باب: نماز میں کنکریاں پونچھنے اور مٹی برابر کرنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ مُعَيْقِيبٍ ، قَالَ : ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْحَ فِي الْمَسْجِدِ يَعْنِي الْحَصَى ، قَالَ : " إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا ، فَوَاحِدَةً " .وکیع نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں ہشام دستوائی نے حدیث سنائی، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ہاتھ سے کنکریاں صاف کرنے کا تذکرہ کیا اور فرمایا: ”اگر تمہارے لیے اسے کیے بغیر چارہ نہ ہو تو ایک بار (کر لو۔)“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ مُعَيْقِيبٍ ، " أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الْمَسْحِ فِي الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " وَاحِدَةً " .یحییٰ بن سعید نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز (کے دوران) میں ہاتھ سے (کنکریاں وغیرہ) صاف کرنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ”ایک بار (کی جا سکتی ہیں۔)“
وحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِيهِ حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ .مجھے یہی روایت عبیداللہ بن عمر قواریری نے خالد (یعنی حارث کا بیٹا) کے واسطہ سے ہشام کی مذکورہ بالا سند سے سنائی اور عن معیقیب کی بجائے حدثنی معیقیب کہا۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ ، قَالَ : " إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا ، فَوَاحِدَةً " .حضرت معیقیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کے بارے میں جو سجدہ کرتے وقت سجدہ گاہ سے مٹی برابر کرتا ہے فرمایا: ”اگر ایسا کرنا ہی ہے تو ایک بار کر۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی نماز ادا کر رہا ہو تو سجدہ گاہ سے کنکریوں کو مت ہٹائے کیونکہ اس وقت رحمت الٰہی اس کے سامنے ہوتی ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 945)
لیکن اگر کنکریاں تکلیف کا باعث ہوں تو ایک مرتبہ انہیں دور کر دیا جائے، بار بار اس عمل کو دہرانا صحیح نہیں۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ’’اگر کنکریاں ہٹانا ضروری ہو تو ایک مرتبہ ہٹا لو یا انہیں پڑا رہنے دو۔
‘‘ (مسندأحمد: 163/5)
اگرچہ اس حدیث کو بعض معاصرین نے کمزور کہا ہے، تاہم یہ اس بنا پر قابل حجت ہے کہ مذکورہ صحیح بخاری کی حدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
حدیث میں بار بار کنکریوں کو ہٹانے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ نماز کے وقت اللہ کی رحمت نمازی کے روبرو ہوتی ہے، اس لیے توجہ ہٹا کر کنکریوں کو بار بار ہموار کرنا گویا اللہ کی رحمت سے روگردانی کرنا ہے۔
(2)
عنوان میں کنکریوں کا ذکر ہے جبکہ حدیث میں تراب، یعنی مٹی کے الفاظ ہیں، چونکہ منیٰ میں عموماً کنکریاں ہوتی ہیں، اس لیے ظن غالب کی بنیاد پر اس حدیث سے عنوان ثابت ہوتا ہے۔
ممکن ہے کہ امام بخاری ؒ نے کنکریوں اور منیٰ دونوں کے لیے ایک حکم ہونے کی تنبیہ فرمائی ہو، نیز صحیح مسلم کی روایت میں کنکریوں کے الفاظ بھی ہیں۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1219(546)
معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نماز پڑھنے کی حالت میں (کنکریوں پر) ہاتھ نہ پھیرو، یعنی انہیں برابر نہ کرو، اگر کرنا ضروری ہو تو ایک دفعہ برابر کر لو۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 946]
شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے، لیکن شواہد کی بنا پر قابل استدلال ہے۔ بنابریں نمازی کو چاہیے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے اپنی جگہ صاف کر لے اور مصلیٰ وغیرہ درست کر کے کھڑا ہو۔ نماز کے دوران یہ عمل جائز نہیں، اگر کرنا بھی ہو تو صرف ایک بار میں اس کی رخصت ہے۔
معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کنکریوں کے ہٹانے کے بارے میں فرمایا: ” اگر تمہیں ایسا کرنا ضروری ہو تو ایک بار کر لو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1026]
فوائد و مسائل:
(1)
نماز کے دوران میں اگر محسوس کیا جائے کہ کنکریاں زیادہ اونچی نیچی ہیں۔
جو چہرے میں چبھ کر نماز سے توجہ ہٹانے کا باعث بن رہی ہیں۔
تو ایک بار ہاتھ پھیر کرمعمولی سی برابر کر لی جایئں زیادہ تکلف کرنا مناسب نہیں۔
(2)
نماز میں خشوع کے منافی حرکت کرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی لیکن ثواب میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔
اس لئے زیادہ حرکات سے ثواب بہت زیادہ کم ہوسکتا ہے۔
جو مومن کےلئے انتہائی خسارے کا باعث ہے۔