صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب جَوَازِ الْخُطْوَةِ وَالْخُطْوَتَيْنِ فِي الصَّلاَةِ: باب: نماز میں ضرورت سے ایک دو قدم چلنا درست ہے اور کسی ضرورت کی وجہ سے امام کا مقتدیوں سے بلند جگہ ہونا بھی درست ہے جیسے نماز کی تعلیم وغیرہ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ نَفَرًا ، جَاءُوا إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَدْ تَمَارَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ ، فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ ، إِنِّي لَأَعْرِفُ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ وَمَنْ عَمِلَهُ ، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، فَحَدِّثْنَا ، قَالَ : أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَى امْرَأَةٍ ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ : إِنَّهُ لَيُسَمِّهَا يَوْمَئِذٍ ، انْظُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ ، يَعْمَلْ لِي أَعْوَادًا ، أُكَلِّمُ النَّاسَ عَلَيْهَا ، فَعَمِلَ هَذِهِ الثَّلَاثَ دَرَجَاتٍ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوُضِعَتْ هَذَا الْمَوْضِعَ ، فَهِيَ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ ، " وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَامَ عَلَيْهِ ، فَكَبَّرَ ، وَكَبَّرَ النَّاسُ وَرَاءَهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ رَفَعَ ، فَنَزَلَ الْقَهْقَرَى ، حَتَّى سَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ عَادَ ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلَاتِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ " ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعَلَّموا صَلَاتِي ،عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے خبر دی کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے منبر نبوی کے بارے میں بحث کی تھی کہ وہ کس لکڑی سے بنا ہے؟ (انہوں نے کہا:) ہاں! اللہ کی قسم! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی ہے اور اسے کس نے بنایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلے دن اس پر بیٹھے تھے، میں نے آپ کو دیکھا تھا۔ (ابوحازم نے کہا:) میں نے کہا: ابوعباس! پھر تو (آپ) ہمیں (اس کی) تفصیل بتائیے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی طرف پیغام بھیجا۔ (ابوحازم نے کہا:) وہ اس دن اس کا نام بھی بتاتے تھے اور کہا: ”اپنے بڑھئی غلام کو دیکھ (اور کہو) وہ میرے لیے لکڑیوں (جوڑ کر منبر) بنا دے تاکہ میں اس پر سے لوگوں سے گفتگو کیا کروں۔“ تو اس نے یہ تین سیڑھیاں بنائیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا اور اسے اس جگہ رکھ دیا گیا اور یہ مدینہ کے جنگل کے درخت جھاؤ (کی لکڑی) سے بنا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اس پر کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی، لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے تکبیر کہی جبکہ آپ منبر ہی پر تھے، پھر آپ (نے رکوع سے سر اٹھایا، اٹھے) اور الٹے پاؤں نیچے اترے اور منبر کی جڑ میں (جہاں وہ رکھا ہوا تھا) سجدہ کیا، پھر دوبارہ وہی کیا (منبر پر کھڑے ہو گئے) حتیٰ کہ نماز پوری کر کے فارغ ہوئے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”لوگو! میں نے یہ کام اس لیے کیا ہے تاکہ تم (مجھے دیکھتے ہوئے) میری پیروی کرو اور میری نماز سیکھ لو۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ . ح ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، فَسَأَلُوهُ ، مِنْ أَيِّ شَيْءٍ مِنْبَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَاقُوا الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ .یعقوب بن عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ بن عبدقاری قرشی نے کہا: مجھے ابوحازم نے حدیث سنائی کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، نیز سفیان بن عیینہ نے ابوحازم سے حدیث سنائی کہ لوگ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر کس (لکڑی) سے (بنا ہوا) ہے (آگے ابن ابی حازم کی روایت کی حدیث کی طرح ہے)۔
تشریح، فوائد و مسائل
چنانچہ تعمیل کی گئی اور غابہ کے جھاؤ کی لکڑیوں سے منبر تیار کرکے پیش کردیاگیا۔
جب یہ پہلے دن استعمال کیاگیا تو آنحضرت ﷺ نے اس کھجور کے تنے کا سہارا چھوڑدیا جس پر آپ ٹیک دے کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔
یہی تنا تھا جو آپ ﷺ کی جدائی کے غم میں سبک سبک کر (سسک سسک کر)
رونے لگا تھا۔
جب آپ ﷺ نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا تب وہ خاموش ہوا۔
مہاجر کا لفظ ابوغسان راوی کا وہم ہے۔
اور صحیح یہ ہے کہ یہ عورت انصاری تھی۔
اس سے لکڑی کا منبر سنت ہونا ثابت ہوا جو بیشتر اہل حدیث مساجد میں دیکھا جاسکتا ہے۔
(1)
اس روایت کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ نے خود اس خاتون سے منبر تیار کرنے کی فرمائش کی، گویا آپ نے اس عورت سے ہدیہ طلب کیا تھا۔
مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد رسول اللہ ﷺ کھجور کے تنے کا سہارا لے کر خطبہ دیتے تھے۔
اس کے بعد باقاعدہ منبر کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ نے ایک خاتون کو پیغام بھیجا کہ اپنے بڑھئی ملازم سے ہمارے لیے منبر بنوا دیں، اس نے اپنے غلام کو یہ کام سونپا اور پھر منبر تیار کر کے مسجد میں رکھ دیا گیا۔
یہ مسجد نبوی کے پہلے منبر کی تاریخ ہے۔
(2)
معلوم ہوا کہ منبر کی تاریخ قدم ہے۔
منبر پر چڑھ کر خطیب خطبہ دیتے اور شعراء بڑی شان سے قصیدے پڑھتے تھے۔
اس روایت میں اس عورت کو مہاجر کہا گیا ہے جبکہ بعض روایات میں اس کے انصار میں سے ہونے کا ذکر ہے۔
ممکن ہے کہ سکونت کی وجہ سے مہاجرین میں شمار ہوتا ہو اگرچہ وہ نسبت کے اعتبار سے انصاریہ تھی۔
واللہ أعلم
جہاں جھاؤ کے درخت بہت عمدہ ہوا کرتے تھے۔
اسی سے آپ کے لیے منبر بنایا گیا تھا۔
حدیث سے ثابت ہوا کہ امام مقتدیوں سے اونچی جگہ پر کھڑا ہو سکتا ہے۔
اور یہ بھی نکلا کہ اتنا ہٹنا یا آگے بڑھنا نماز کو نہیں توڑتا۔
خطابی نے کہا کہ آپ کا منبرتین سیڑھیوں کا تھا۔
آپ دوسری سیڑھی پر کھڑے ہوں گے تواترنے چڑھنے میں صرف دوقدم ہوئے۔
امام احمدبن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے جب یہ حدیث علی بن مدینی سے سنی تواپنا مسلک یہی قرار دیا کہ امام مقتدیوں سے بلند کھڑا ہو تواس میں کچھ قباحت نہیں۔
سننے کی نفی سے مراد یہ کہ پوری روایت نہیں سنی۔
امام احمدنے اپنی سندسے سفیان سے یہ حدیث نقل کی ہے اس میں صرف اتنا ہی ذکر ہے کہ منبر غابہ کے جھاؤ کا بنایاگیا تھا۔
حنفیہ کے ہاں بھی اس صورت میں اقتدا صحیح ہے بشرطیکہ مقتدی اپنے امام کے رکوع اور سجدہ کو کسی ذریعہ سے جان سکے اس کے لیے اس کی بھی ضرورت نہیں کہ چھت میں کوئی سوراخ ہو۔
(تفہیم الباری، جلددوم، ص: 77)
1۔
رسول اللہ ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر اس لیے امامت کرائی تاکہ تمام مقتدی آپ کی نماز کا مشاہدہ کرلیں بصورت دیگر صرف وہی لوگ آپ کو دیکھ سکتے تھے جو پہلی صف میں ہوں، تمام لوگ آپ کو نہ دیکھ سکتے تھے۔
اس روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر نماز پڑھی جو لکڑی کا تھا اور سطح زمین سے بلند تھا۔
امام بخاری ؒ کا عنوان تین اجزا پر مشتمل تھا کہ چھت منبر اور تختوں پر نماز کا جواز۔
یہ تینوں اجزاء اسی ایک روایت سے ثابت ہوگئے۔
واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ کا منبر دو سیڑھیوں اور ایک نشست پر مشتمل تھا۔
دوران نماز میں منبر سے اترنے اور اس پر چڑھنے میں عمل کثیر کا شبہ نہیں ہونا چاہیے جو نماز کے لیے درست نہیں، کیونکہ اترنے اور چڑھنے کی صورت یہ تھی کہ ایک قدم اٹھایا اور رک گئے، پھر ایک قدم اٹھایا اور رک گئے یہ عمل کثیر نہیں بلکہ عمل قلیل کا تکرار ہے جو نماز کے منافی نہیں۔
چنانچہ علامہ خطابی ؒ لکھتے ہیں کہ دوران نماز میں اس قدر عمل یسیر نماز کے لیے باعث فساد نہیں، کیونکہ آپ کا منبر تین سیڑھیوں پر مشتمل تھا اور شاید آپ دوسری سیڑھی پر تھے اس طرح اترنے اور چڑھنے میں دو قدم آگے پیچھے ہونا پڑا ہو گا۔
(إعلام الحدیث: 360/1)
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر امام مقتدی حضرات سے اونچے مقام پر کھڑا ہو تو امامت اور اقتدا جائز ہے، اگرچہ ایسا کرنا کراہت سے خالی نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو تعلیم دینے کے لیے اونچا کھڑے ہوئے تھے تاکہ مقتدی حضرات آپ کی حرکات و سکنات سے واقف ہو سکیں۔
البتہ امام اور مقتدی کا یہ فرق اگر کسی ضرورت کی بنا پرہو تو بلا کراہت ایسا کرنا جائز ہے۔
مثلاً: امام مقتدی حضرات کو نماز کی تعلیم دینا چاہتا ہے۔
امام کی تکبیرات دوسروں تک پہنچانے کے لیے اونچا کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔
جگہ کم رہ جانے کی وجہ سے چھت پر نماز ادا کرنے کی نوبت آجائے وغیرہ۔
رسول اللہ ﷺ الٹے پاؤں اس لیے اترے تاکہ قبلے سے انحراف نہ ہو۔
(إعلام الحدیث: 360/1)
3۔
بلاوجہ امام کا اونچا کھڑا ہونا اس لیے مکروہ ہے کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے اس کی کراہت منقول ہے، مثلاً: حضرت حذیفہ ؓ نے ایک دفعہ اونچی دکان پر کھڑے ہو کر جماعت کرائی وہاں سجدہ کیا۔
دوران نماز میں حضرت ابومسعود ؓ نے انھیں نیچے کردیا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابو مسعود ؓ کہنے لگے۔
آپ کو معلوم نہیں کہ اس کی ممانعت ہے؟ حضرت حذیفہ ؓ نے جواب دیا اسی وجہ سے تو میں آہ کے اشارے سے نیچے آگیا تھا۔
(صحیح ابن خزیمة: 13/3)
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا: امام کا مقتدی حضرات سے اونچا کھڑا ہونا ایک ناپسندیدہ حرکت ہے۔
(مجمع الزوائد: 67/3)
امام ابو داود ؒ نے اپنی سنن میں اس کے متعلق ایک عنوان بھی قائم کیا ہے۔
4۔
حضرت امام احمد بن حنبل ؒ نے اپنے شیخ سفیان بن عیینہ سے پوری حدیث کا سماع نہیں کیا، بلکہ انھوں نے اپنی سند میں صرف اسی قدر نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا منبر غابہ جنگل کے جھاؤ کا تھا۔
باقی حدیث کا علم انھیں حضرت علی بن عبد اللہ المدینی سے ہوا جیسا کہ امام بخاری ؒ نے اس حدیث کے آخر میں اس کی وضاحت فرمائی ہے۔
(فتح الباري: 631/1)
پس ترجمہ باب نکل آیا بعضوں نے کہا کہ امام بخاری ؒ نے یہ حدیث لا کر اس کے دوسرے طریق کی طرف اشارہ کیا جس کو طبرانی نے نکالا کہ آپ نے اس منبر پر خطبہ پڑھا۔
غابہ نامی ایک گاؤں مدینہ کے قریب تھا وہاں جھاؤ کے درخت بہت تھے۔
آپ اس لیے الٹے پاؤں اترے تاکہ منہ قبلہ ہی کی طرف رہے۔
(1)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ منبر پر خطبہ دینا امیر المومنین کا حق ہے، چنانچہ ابن بطال نے لکھا ہے کہ اگر خطیب مسلمانوں کا خلیفہ ہو تو اسے چاہیے کہ منبر پر خطبہ دے، اگر اس کے علاوہ ہو تو اسے اختیار ہے منبر استعمال کرے یا زمین پر کھڑا ہو جائے۔
علامہ زین بن منیر کہتے ہیں کہ یہ بات امام بخاری ؒ کے مقصود کے برعکس ہے۔
اصل بات تو سامعین کو وعظ کرنا اور انہیں امور دین کی تعلیم دینا ہے۔
جو بھی یہ فریضہ سر انجام دے گا اسے منبر پر خطبہ دینے کی اجازت ہے۔
امام بخاری ؒ کا مقصود بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام اگر کوئی خلاف عادت کام کرے تو اسے چاہیے کہ عامۃ الناس کے سامنے اس کی وضاحت کر دے تاکہ شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں۔
(فتح الباري: 514/2) (3)
اس روایت میں تکبیر تحریمہ کے بعد قراءت کرنے اور رکوع کے بعد کھڑے ہونے کا ذکر نہیں ہے۔
اس قسم کی تفصیل ابو حازم سے سفیان نے بیان کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ أکبر کہا، پھر قراءت فرمائی، اس کے بعد رکوع کیا، پھر رکوع سے اپنے سر کو اٹھایا، اس کے بعد الٹے پاؤں واپس ہوئے۔
اس کے علاوہ طبرانی کی روایت یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے خطبہ دیا، پھر تکبیر کہی گئی تو آپ نے منبر پر ہی تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز کا آغاز فرمایا۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 134/6، حدیث: 5752)
اس روایت سے پتہ چلا کہ خطبہ نماز سے پہلے ہے۔
(فتح الباري: 514/2)
امام ابن حزم نے اس نماز کو نفل قرار دیا ہے لیکن طبرانی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے منبر پر جمعے کا خطبہ دیا، پھر نماز جمعہ ادا فرمائی تھی۔
واللہ أعلم۔
اس عورت کا نام معلوم نہیں ہو سکا البتہ غلام کا نام باقوم بتلایا گیا ہے۔
بعض نے کہا ہے کہ یہ منبر تمیم داری نے بنایا تھا۔
ابوحازم بن دینار بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ لوگ منبر کے سلسلے میں جھگڑ رہے تھے کہ کس لکڑی کا تھا؟ تو انہوں نے سہل بن سعد سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: قسم اللہ کی! میں جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا تھا اور میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا جب وہ رکھا گیا اور جب اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے پاس- جس کا سہل نے نام لیا- یہ پیغام بھیجا کہ تم اپنے نوجوان بڑھئی کو حکم دو کہ وہ میرے لیے چند لکڑیاں ایسی بنا دے جن پر بیٹھ کر میں لوگوں کو خطبہ دیا کروں، تو اس عورت نے اسے منبر کے بنانے کا حکم دیا، اس بڑھئی نے غابہ کے جھاؤ سے منبر بنایا پھر اسے لے کر وہ عورت کے پاس آیا تو اس عورت نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (ایک جگہ) رکھنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ منبر اسی جگہ رکھا گیا، پھر میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور تکبیر کہی پھر اسی پر رکوع بھی کیا، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا، پھر منبر پر واپس چلے گئے، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری پیروی کرو اور میری نماز کو جان سکو۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1080]
➊ خطبے وغیرہ کے لئے منبر کا استعمال مستحب ہے۔
➋ نماز کا معاملہ اس قدر اہم تھا اور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعلیم میں ازحد مبالغے سے کام لیا، حتیٰ کہ منبر پر کھڑے ہو کر نماز پڑھ کر دکھائی۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء بالعموم اور نماز میں بالخصوص فرض ہے۔
➍ طلباء کو اہم علمی مسائل کے ساتھ ساتھ بعض دیگر ضروری امور کی معرفت بھی حاصل کرنی چاہیے۔
ابوحازم بن دینار کہتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ لوگ منبر کی لکڑی کے بارے میں بحث کر رہے تھے کہ وہ کس چیز کی تھی؟ ان لوگوں نے سہیل رضی اللہ عنہ اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم میں خوب جانتا ہوں کہ یہ منبر کس لکڑی کا تھا، میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا تھا جس دن وہ رکھا گیا، اور جس دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہلے پہل اس پر بیٹھے (ہوا یوں تھا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت (سہل رضی اللہ عنہ نے اس کا نام لیا تھا) کو کہلوا بھیجا کہ آپ اپنے غلام سے جو بڑھئی ہے کہیں کہ وہ میرے لیے کچھ لکڑیوں کو اس طرح بنا دے کہ جب میں لوگوں کو وعظ و نصیحت کروں تو اس پر بیٹھ سکوں، تو اس عورت نے غلام سے منبر بنانے کے لیے کہہ دیا، چنانچہ غلام نے جنگل کے جھاؤ سے اسے تیار کیا، پھر اسے اس عورت کے پاس لے کر آیا تو اس نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے یہاں رکھا گیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس پر چڑھے، اور اس پر نماز پڑھی، آپ نے اللہ اکبر کہا، آپ اسی پر تھے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور آپ اسی پر تھے، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کے پایوں کے پاس سجدہ کیا، پھر آپ نے دوبارہ اسی طرح کیا، تو جب آپ فارغ ہو گئے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ” لوگو! میں نے یہ کام صرف اس لیے کیا ہے تاکہ تم لوگ میری پیروی کر سکو، اور (مجھ سے) میری نماز سیکھ سکو۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 740]
➋ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کبھی رش یا جگہ کی تنگی یا ناہمواری کی وجہ سے نماز کا کوئی رکن کچھ ہٹ کر یا نیچے اتر کر یا کچھ آگے پیچھے چل کر ادا کرنا پڑے تو نفل نماز میں گنجائش ہے، البتہ فرض نماز میں اضطراری حالت کے علاوہ ایسے نہ کیا جائے۔
➌ کہا گیا ہے کہ عورت کا نام سہلہ اور غلام کا نام میمون تھا۔ دیکھیے: [فتح الباري: 512/2، شرح حديث: 917]
➍ صحیح روایت میں صراحت ہے کہ منبر بنانے کی پیش کش اس عورت نے خود کی تھی۔ آپ نے منظوری یا یاددہانی کا پیغام بھیجا۔
➎ سجدہ کرنے کے لیے آپ کو کئی قدم اٹھانے پڑے کیونکہ سب سے اوپر والی سیڑھی سے اتر کر نیچے آنا اور مزید پیچھے ہٹ کر منبر کی قریب ترین جگہ پر سجدہ کرنا کئی قدموں کا متقاضی ہے، لہٰذا قدموں کی درجہ بندی کرنا کہ اگر مسلسل تین قدم اٹھائیں تو نماز باطل ہو جائے گی، درست نہیں۔ اس کی بجائے عمل کو ضرورت کے ساتھ مقید کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ امام کو لوگوں کو نماز کی اچھی ٹریننگ دینی چاہیے، تاکہ اسلام کا اہم رکن نماز قرآن و حدیث کے مطابق ادا کیا جائے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی تربیت کی غرض سے منبر پر چڑھ کر قیام و رکوع وغیر ہ کر سکتے ہیں، تو آ ج کا عالم دین اس طرح کیوں نہیں کر سکتا؟