صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب تَحْرِيمِ الْكَلاَمِ فِي الصَّلاَةِ وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ: باب: نماز میں باتیں کرنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ ، قَالَ قُتَيْبَةُ : يُصَلِّي ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَأَشَارَ إِلَيَّ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، دَعَانِي ، فَقَالَ : " إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي ، وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ " .قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے اپنی اپنی سند کے ساتھ لیث (بن سعد) سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، پھر میں آپ کو آ کر ملا، آپ سفر میں تھے، قتیبہ نے کہا: آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کہا، آپ نے مجھے اشارہ فرمایا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلوایا اور فرمایا: ”ابھی تم نے سلام کہا جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔“ اور اس وقت (سواری پر نماز پڑھتے ہوئے) آپ کا رخ مشرق کی طرف تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ ، فَكَلَّمْتُهُ ، فَقَالَ لِي بِيَدِهِ : هَكَذَا ، وَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ بِيَدِهِ ، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ ، فَقَالَ لِي : هَكَذَا ، فَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ أَيْضًا بِيَدِهِ نَحْوَ الأَرْضِ ، وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ يُومِئُ بِرَأْسِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ : " مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ لَهُ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " ، قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو الزُّبَيْرِ : جَالِسٌ مُسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ بِيَدِهِ أَبُو الزُّبَيْرِ : إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، فَقَالَ بِيَدِهِ : إِلَى غَيْرِ الْكَعْبَةِ .زہیر نے کہا: مجھے ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا اور آپ بنو مصطلق کی طرف جا رہے تھے، میں واپسی پر آپ کے پاس آیا تو آپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ سے بات کی تو آپ نے مجھے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا۔ زہیر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے دکھایا۔ میں نے دوبارہ بات کی تو مجھے اس طرح (اشارے سے کچھ) کہا۔ زہیر نے بھی اپنے ہاتھ سے زمین کی طرف اشارہ کیا۔ اور میں سن رہا تھا کہ آپ قراءت فرما رہے ہیں، آپ (رکوع و سجود کے لیے) سر سے اشارہ فرماتے تھے، جب آپ فارغ ہوئے تو پوچھا: ”جس کام کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا، تم نے (اس کے بارے میں) کیا کیا؟ مجھے تم سے گفتگو کرنے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔“ زہیر نے کہا: ابوزبیر کعبہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے، ابوزبیر نے بنو مصطلق کی طرف اشارہ کیا اور انہوں (ابوزبیر) نے ہاتھ سے قبلے کی دوسری سمت کی طرف اشارہ کیا (سواری پر نماز کے دوران آپ کا رخ کعبہ کی طرف نہیں تھا۔)
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ ، فَرَجَعْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَوَجْهُهُ ، عَلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " .حماد بن زید نے کثیر (بن شنظیر) سے، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے، آپ نے مجھے کسی کام سے بھیجا، میں واپس آیا تو آپ اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا رخ قبلے کی بجائے دوسری طرف تھا، میں نے آپ کو سلام کہا تو آپ نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا، جب آپ نے سلام پھیر لیا تو فرمایا: ”تمہارے سلام کا جواب دینے سے مجھے صرف اس بات نے روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔“
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّاد .عبدالوارث بن سعید نے کہا: ہمیں کثیر بن شنظیر نے حدیث سنائی، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کی غرض سے بھیجا (آگے حماد بن زید کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی)۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، جب میں (واپس آیا تو) میں نے آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، تو میں نے (اسی حالت میں) آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، جب آپ نماز پڑھ چکے تو مجھے بلایا، اور فرمایا: " تم نے ابھی مجھے سلام کیا تھا، اور میں نماز پڑھ رہا تھا "، اور اس وقت آپ پورب کی طرف رخ کیے ہوئے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1190]