حدیث نمبر: 536
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، قَالَا جَمِيعًا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ : قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ : فِي الإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ ، فَقَالَ : هِيَ السُّنَّةُ ، فَقُلْنَا لَهُ : إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرَّجُلِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " بَلْ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

طاوس نے بیان کیا کہ ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دونوں پیروں پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: یہ سنت ہے۔ ہم نے ان سے عرض کی: ہمارا تو خیال ہے کہ یہ انسان (یا اگر را کی زیر کے ساتھ رجل پڑھا جائے تو پاؤں) پر زیادتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: (نہیں) بلکہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 536
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 845

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت طاؤس بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے قدموں پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے جواب دیا یہ سنت ہے تو ہم نے عرض کیا ہمارا خیال ہے کہ یہ پاؤں پر زیادتی ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، بلکہ یہ تو تیرے نبی ﷺ کی سنت ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1198]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
اَلْاِقْعَاء: اقعاء کی دوصورتیں ہیں: (1)
اپنی سرین کو زمین پر رکھ کر پنڈلیوں کو کھڑا کرکے ہاتھوں کو کتے کی طرح زمین پر بچھا دینا، یہ بالا تفاق ممنوع ہے اور دوسری حدیث میں اس سے روکا گیا ہے۔
(2)
دونوں سجدوں کے درمیان اپنی سرین قدموں (ایڑیوں)
پر رکھ کر بیٹھنا اس کو ابن عباس رضی اللہ عنہ سنت قرار دے رہے ہیں، صحابہ، محدثین اور امام شافعی رحمہ اللہ اس کو جائز قرار دیتے ہیں۔
(2)
جَفَاء: گرانی اور مشقت، بدسلوکی۔
الرِّجل: اگر اس کو رجل پڑھیں تو پاؤں مراد ہو گا اور رَجُل قرار دیں تو انسان مراد ہوگا کہ اس طرح بیٹھنا انسان کے لیے گرانی اور مشقت کا باعث ہے۔
فوائد ومسائل: مرد اور عورت کی نماز میں کسی ہیئت اور کیفیت میں اختلاف کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے اور اِقْعَاء کی صورت اس انسان کے لیے ہے جس کے لیے اس انداز میں بیٹھنے میں سہولت اور آسانی ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 536 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 845 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء کرنے یعنی ایڑیوں پر بیٹھنے کا حکم۔`
طاؤس کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: دونوں سجدوں کے بیچ میں دونوں قدموں پر اقعاء ۱؎ (سرین کو ایڑیوں پر رکھ کر پنجے کو کھڑا کر کے بیٹھنا) کیسا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔ طاؤس کہتے ہیں: ہم نے کہا: ہم تو اسے آدمی کے ساتھ زیادتی سمجھتے تھے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 845]
845۔ اردو حاشیہ:
ایڑیوں پر بیٹھنے کو اقعاء کہتے ہیں اور سجدوں کے درمیان کبھی کبھار اس طرح بیٹھنا جائز ہے۔ مگر اقعاء کی دوسری کیفیت عقبت الشیطان ناجائز ہے۔ یعنی انسان اپنی پنڈلیوں کو کھڑا کر لے اور سرین پر بیٹھ جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 845 سے ماخوذ ہے۔