صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْقُدْسِ إِلَى الْكَعْبَةِ: باب: بیت المقدس کی طرف سے خانہ کعبہ کی طرف قبلہ ہونا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يُصَلِّي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَنَزَلَتْ قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 144 " ، فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ، وَقَدْ صَلَّوْا رَكْعَةً ، فَنَادَى أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ ، فَمَالُوا كَمَا هُمْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ .حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے، پھر یہ آیت: «وَنَرَى وَجْهَكَ يَتَوَجَّهُ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» اتری۔ بنو سلمہ کا ایک آدمی (عباد بن بشر رضی اللہ عنہ) گزرا، (اس وقت) لوگ (مسجد قباء میں) صبح کی نماز میں رکوع کر رہے تھے اور ایک رکعت اس سے پہلے پڑھ چکے تھے، اس نے آواز دی: سنو! قبلہ تبدیل کیا جا چکا ہے۔ چنانچہ وہ جس حالت میں تھے، اسی میں (رکوع ہی کے عالم میں) قبلے کی طرف پھر گئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشربن براء بن معرور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے موقع پر ان کی والدہ کے پاس تعزیت کے لیے تشریف لائے تھے ان کا گھر بنو سلمہ میں تھا ظہر کا وقت وہیں ہو گیا تو آپﷺ نے بنو سلمہ کی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کی جب آپﷺ دو رکعتیں ادا کر چکے تو قبلہ نماز ہی میں تبدیل ہو گیا اور آپﷺ آگے سے صفوں کے پیچھے آ گئے اور نماز مکمل کی اس لیے بنو سلمہ کی مسجد کو مسجد (ذِی الْقِبْلَتَیْنِ)
کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں ایک ہی نماز دو قبلوں کی طرف رخ کر کے پڑھی گئی ہے اور سب سے پہلے مکمل نماز بیت اللہ کی طرف رخ کر کے مسجد نبوی میں عصر کی نماز پڑھی گئی۔
(3)
حضرت عباد بن بشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عصر کی نماز آپﷺ کے ساتھ بیت اللہ کی طرف رخ کر کے پڑھ کر گئے تو راستہ میں بنو حارثہ کی مسجد سے گزرے وہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے حضرت عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بتانے پر وہ نماز ہی میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے اور حضرت عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا کوئی اور صحابی قباء میں عمرو بن عوف کی مسجد میں صبح کی نماز میں ایک رکعت ہو جانے کے بعد پہنچے اور ان کو قبلہ کی تبدیلی سے آگاہ کیا تو انھوں نے بھی نماز ہی میں اپنا رخ تبدیل کر لیا۔
(4)
جب تک انسان کو کسی شرعی حکم کا علم نہ ہو وہ اس کا مکلف نہیں ہو گا اہل قباء کو قبلہ کی تبدیلی کا علم صبح کی نماز میں ہوا اس لیے عصر، مغرب اور عشاء کی نماز انھوں نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے پڑھی اور آپﷺ نے ان کو کچھ نہیں کہا۔
(5)
ایک آدمی اگر قابل اعتماد ہو تو اس کی بات پر عمل کیا جائے گا بنو حارثہ اور بنو عمرو بن عوف نے صرف ایک آدمی کی خبر پر قطعی اور یقینی قبلہ کی طرف سے رخ دوسرے قبلہ کی طرف کر لیا، کیونکہ قبلہ کی تبدیلی کی آپﷺ کی خواہش سے وہ آگاہ تھے اس لیے اس قرینہ کی بنا پر ایک آدمی کی خبر نے یقین کا فائدہ دیا۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، جب آیت کریمہ: «فول وجهك شطر المسجدالحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره» ”یعنی اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں“ (سورۃ البقرہ: ۱۵۰) نازل ہوئی تو قبیلہ بنو سلمہ کا ایک شخص لوگوں کے پاس سے ہو کر گزرا اس حال میں کہ وہ لوگ نماز فجر میں رکوع میں تھے اور بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے تھے تو اس نے انہیں دو بار آواز دی: لوگو! آگاہ ہو جاؤ، قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا ہے (یہ حکم سنتے ہی) لوگ حالت رکوع ہی میں کعبہ کی طرف پھر گئے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1045]
➊ اسلام میں احکام کا نسخ ثابت ہے اور جب تک اس کا علم نہ ہو جائے کوئی اس کا مکلف نہیں ہوا کرتا۔
➋ کسی قابل اعتماد فرد واحد کی خبر بھی قابل قبول ہوتی ہے، جسے اصطلاحاً خبر واحد کہتے ہیں۔
➌ لاعلمی میں اگر قبلہ کی طرف نماز پڑھ لی گئی ہو تو وہ صحیح ہے۔
➍ ضرورت کے پیش نظر نمازی کو حالت نماز میں وہ شخص تعلیم دے سکتا ہے، جو نماز نہ پڑھ رہا ہو۔
➎ ایسی تعلیم سے نمازی کی نماز خراب نہیں ہوتی۔ «والله اعلم»