حدیث نمبر: 522
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ ، جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ ، وَجُعِلَتْ لَنَا الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا ، وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا ، إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ ، وَذَكَرَ خَصْلَةً أُخْرَى "

محمد بن فضیل نے ابومالک اشجعی (سعد بن طارق) سے، انہوں نے ربعی (بن حراش) سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں لوگوں پر تین (باتوں) کے ذریعے سے فضیلت دی گئی ہے: ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں، ہمارے لیے ساری زمین کو سجدہ گاہ بنا دیا گیا ہے اور جب ہمیں پانی نہ ملے تو اس (زمین) کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے والی بنا دی گئی ہے۔“ (اس کے ساتھ تیمم کر کے پاکیزگی حاصل کی جا سکتی ہے۔) ایک خصوصیت اور بھی بیان کی۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِمِثْلِهِ .

امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 522
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمیں لوگوں پر تین وجہ سے فضیلت دی گئی ہے ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح قرار دی گئی ہیں، ہمارے لیے تمام روئے زمین میں سجدہ گاہ بنا دی گئی ہے۔ اور اس کی مٹی جب تم میں سے کوئی ہمیں پانی نہ ملے ہمارے لیے پاکیزگی کا ذریعہ (پاک کرنے والی) بنا دی گئی ہے اور ایک خصوصیت بھی بیان کی۔ (سورة بقرہ کی آخری آیات کا نزول مراد ہے)۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1165]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: (1)
پہلی امتیں صف بندی نہیں کرتی تھیں اور مسلمانوں کو فرشتوں کی طرح صف بندی کا حکم دیا گیا ہے۔
(2)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ تیمم کے لیے صرف مٹی ہی استعمال ہو سکتی ہے اور ارض سے مراد راب ہی ہے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک زمین کی جنس سے جو چیز بھی ہو، ڈھیلہ، پتھر، اینٹ، چونا وغیرہ تیمم ہو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 522 سے ماخوذ ہے۔