صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلاَةِ باب: مسجدوں اور نماز کی جگہوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ ، جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ ، وَجُعِلَتْ لَنَا الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا ، وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا ، إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ ، وَذَكَرَ خَصْلَةً أُخْرَى "محمد بن فضیل نے ابومالک اشجعی (سعد بن طارق) سے، انہوں نے ربعی (بن حراش) سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں لوگوں پر تین (باتوں) کے ذریعے سے فضیلت دی گئی ہے: ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں، ہمارے لیے ساری زمین کو سجدہ گاہ بنا دیا گیا ہے اور جب ہمیں پانی نہ ملے تو اس (زمین) کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے والی بنا دی گئی ہے۔“ (اس کے ساتھ تیمم کر کے پاکیزگی حاصل کی جا سکتی ہے۔) ایک خصوصیت اور بھی بیان کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِمِثْلِهِ .امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
پہلی امتیں صف بندی نہیں کرتی تھیں اور مسلمانوں کو فرشتوں کی طرح صف بندی کا حکم دیا گیا ہے۔
(2)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ تیمم کے لیے صرف مٹی ہی استعمال ہو سکتی ہے اور ارض سے مراد راب ہی ہے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک زمین کی جنس سے جو چیز بھی ہو، ڈھیلہ، پتھر، اینٹ، چونا وغیرہ تیمم ہو سکتا ہے۔