صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب الصَّلاَةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَصِفَةِ لُبْسِهِ: باب: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان اور اس کے پہننے کا طریقہ۔
حدیث نمبر: 515
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ سَائِلًا ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ؟ فَقَالَ : " أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ ؟ ! " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سائل نے رسول اللہ ﷺ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا تو آپﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں؟
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح قَالَ : وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، وَحَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ كِلَاهُمَا ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .یونس اور عقیل بن خالد دونوں نے ابن شہاب (زہری) سے، انہوں نے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کے مانند روایت بیان کی۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَادَى رَجُلٌ ، النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ؟ فَقَالَ : أَوَ كُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ ؟ ! " .محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکار کر پوچھا: کیا ہم میں سے کوئی شخص صرف ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں؟“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 515
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 358 | صحيح البخاري: 359 | صحيح البخاري: 360 | صحيح البخاري: 365 | صحيح مسلم: 515 | صحيح مسلم: 516 | سنن ابي داود: 625 | سنن ابي داود: 626 | سنن ابي داود: 627 | سنن نسائي: 764 | سنن نسائي: 770 | سنن ابن ماجه: 1047 | بلوغ المرام: 162 | موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 201 | معجم صغير للطبراني: 196 | معجم صغير للطبراني: 324 | مسند الحميدي: 966 | مسند الحميدي: 993
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 360 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
360. حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ’’جو شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے، اسے چاہئے کہ اس کے دونوں کناروں کو الٹ لے، یعنی اس کا دایاں کنارہ بائیں طرف اور بایاں کنارہ دائیں طرف ڈال لے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:360]
حدیث حاشیہ:
1۔
امام بخاری ؒ نے اس باب میں نمازی کے لیے بحالت نماز سترپوشی کی ایک قسم بیان فرمائی ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے، کیونکہ نمازی کے لیے دوران نماز میں بسااوقات جسم کے کسی ایسے حصے کو چھپانا بھی ضروری ہوتا ہے جسے نماز کے علاوہ عام حالات میں ظاہر کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ بعض اوقات نماز میں کسی ایسے حصے کو ظاہر کرنا ہوتا ہے جسے عام حالات میں عورتوں کے لیے مردوں سے چھپانا ضروری ہوتا ہے۔
پہلی صورت کی مثال کندھے ہیں کہ بحالت نماز ان کا ڈھانپنا ضروری ہے۔
یہ حکم حق نماز کی وجہ سے ہے، جبکہ مرد حضرات عام حالات میں اپنے کندھوں کو ننگارکھ سکتے ہیں۔
دوسری صورت کی مثال چہرہ، ہاتھ اور پاؤں کا حکم ہے کہ عورت کے لیے عام حالات میں اجنبی مردوں کے سامنے ان کا کھولنا جائز نہیں، لیکن نماز کی حالت میں عورت کے لیے ان کا چھپانا ضروری نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں اس نوعیت کی سترپوشی اللہ کاحق ہے اور یہی وجہ ہے کہ رات کی تاریکی میں تن تنہا بھی بیت اللہ کا عریاں ہوکر طواف نہیں کیاجاسکتا۔
جیسا کہ اکیلے آدمی کو اختیاری حالات میں ننگے ہوکر نماز پڑھنےکی اجازت نہیں۔
اس بحث کو امام ابن تیمیہ ؒ نے اپنے ایک رسالے میں بڑے خوبصورت اندازمیں پیش کیا ہے جس کا ہم نے اردو ترجمہ بعنوان’’مسلمان عورت کا پردہ اور اس کا لباسِ نماز‘‘ کیاہے۔
2۔
حافظ ا بن حجر ؒ کہتے ہیں کہ نماز کی حالت میں کندھوں پر کپڑا ڈالنے کی تاکید جمہور کے نزدیک استحباب کے لیے ہے اورجن احادیث میں ممانعت ہے وہ کراہت تنزیہی پر محمول ہے، لیکن امام احمد ؒ سے ایک قول یہ منقول ہے کہ کندھوں پر کپڑا ڈالے بغیر نماز جائز نہیں، گویا انھوں نے اس کو شرط صحت صلاۃ قراردیاہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ نماز ہوجائے گی، لیکن ترک واجب کی وجہ سے گناہکار ہوگا۔
(فتح الباري: 611/1)
علامہ کرمانی ؒ کہتے ہیں کہ بظاہر ممانعت کا تقاضا تو تحریم ہی ہے مگر اجماع جواز ترک پر ہوچکاہے، کیونکہ اصل مقصود تو سترعورۃ ہے، وہ کسی بھی طریقے سے کیاجاسکتا ہے۔
(شرح الکرماني: 18/2)
علامہ کرمانیؒ کا یہ اجماع کا دعویٰ محل نظر ہے، کیونکہ امام احمد بن حنبل ؒ نے اس موقف سے اختلاف کیاہے۔
علامہ خطابی ؒ نے عدم وجوب پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی جس کا ایک کنارہ کسی زوجہ محترمہ پر تھا اور وہ سورہی تھیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کپڑا اتنا بڑا نہیں تھا کہ کندھوں پر ڈالا جاسکتا اور نہ اتنا چھوٹا ہی تھا کہ اسے بطور تہہ بند ہی استعمال کیا جاسکتا۔
اگرکندھوں کا ڈھانپنا ضروری ہوتا تو دوسرے کنارے سے انھیں ڈھانپا جاسکتا تھا، لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ دوران نماز میں کندھوں کا ڈھانپنا ضروری نہیں۔
(إعلام الحدیث: 250/1)
حافظ ابن حجر ؒ خطابی ؒ کا استدلال ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ محل نظر ہے۔
(فتح الباري: 612/1)
بظاہر امام بخاری ؒ کے مسلک میں تفصیل ہے کہ کپڑاگربڑا ہوتو اسے کندھوں پر ڈالنا ضروری ہے اور اگرتنگ ہوتو اسے تہبند استعمال کیاجائے، کندھوں پر ڈالنا ضروری نہیں۔
ان کا موقف امام احمد ؒ کے موقف سے مختلف ہے۔
امام احمد ؒ کندھوں کے ڈھانپنے کو صحت صلاۃ کے لیے شرائط قراردیتے ہیں، جبکہ امام بخاری ؒ صرف وجوب کے قائل ہیں اور اس وجوب کو بھی تنگی کے وقت اٹھا دیتے ہیں۔
جیسا کہ آئندہ عنوان سے معلوم ہوتا ہے۔
3۔
علامہ کرمانی ؒ نے عنوان سے دوسری حدیث کی مطابقت بایں الفاظ بیان کی ہے کہ اس حدیث میں مخالفت طرفین کا حکم ہے اور اس پر عمل کرنا اسی وقت ممکن ہوگا جب کندھوں پر کچھ ڈالا جائے گا، اس کے بغیر مخالفت طرفین نہیں ہوسکتی۔
(شرح الکرماني: 19/2)
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بھی تراجم بخاری میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے، فرماتے ہیں: اس حدیث کی عنوان پر دلالت بایں طورہے کہ کپڑے کے دونوں کناروں کا ایک دوسرے کے مخالف سمت ہونا ہی اس بات کا سبب ہے کہ کوئی کنارہ اس کے کندھوں پر ضرور ڈالا جائےگا۔
حافظ ابن حجر ؒ جو امام بخاری ؒ کے رمزشناس ہیں، کہتے ہیں کہ امام بخاری ؒ نے حسب عادت اس انداز سے ایک روایت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس میں مخالفت طرفین کے وقت کندھوں پر کپڑا ڈالنے کی صراحت ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو صرف ایک کپڑے میں نماز پڑھے اسے چاہیے کہ کندھوں پر کپڑا ڈال کر اس کے دونوں کناروں کو اُلٹ لے۔
(مسند احمد: 255/2)
علامہ اسماعیلی ؒ اور ابونعیم ؒ نے بھی حسین کے طریق سے اسی طرح بیا ن کیاہے۔
(فتح الباري: 611/1)
مختصر یہ ہے کہ جب کپڑا اس قدر وسیع ہوکہ ستر پوشی کے بعد کندھوں کو ڈھانپاجاسکتا ہو تو ایسا ہی کرنا چاہیے۔
اس کے برعکس اگر کپڑا تنگ ہو کہ کندھوں کو چھپانے کے بعد ستر کھلنے کا اندیشہ ہوتو ایسی حالت میں کندھوں کو کھلا رکھتے ہوئے تہ بند باندھ کر نماز پڑھ لینا بالاتفاق جائزہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
امام بخاری ؒ نے اس باب میں نمازی کے لیے بحالت نماز سترپوشی کی ایک قسم بیان فرمائی ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے، کیونکہ نمازی کے لیے دوران نماز میں بسااوقات جسم کے کسی ایسے حصے کو چھپانا بھی ضروری ہوتا ہے جسے نماز کے علاوہ عام حالات میں ظاہر کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ بعض اوقات نماز میں کسی ایسے حصے کو ظاہر کرنا ہوتا ہے جسے عام حالات میں عورتوں کے لیے مردوں سے چھپانا ضروری ہوتا ہے۔
پہلی صورت کی مثال کندھے ہیں کہ بحالت نماز ان کا ڈھانپنا ضروری ہے۔
یہ حکم حق نماز کی وجہ سے ہے، جبکہ مرد حضرات عام حالات میں اپنے کندھوں کو ننگارکھ سکتے ہیں۔
دوسری صورت کی مثال چہرہ، ہاتھ اور پاؤں کا حکم ہے کہ عورت کے لیے عام حالات میں اجنبی مردوں کے سامنے ان کا کھولنا جائز نہیں، لیکن نماز کی حالت میں عورت کے لیے ان کا چھپانا ضروری نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں اس نوعیت کی سترپوشی اللہ کاحق ہے اور یہی وجہ ہے کہ رات کی تاریکی میں تن تنہا بھی بیت اللہ کا عریاں ہوکر طواف نہیں کیاجاسکتا۔
جیسا کہ اکیلے آدمی کو اختیاری حالات میں ننگے ہوکر نماز پڑھنےکی اجازت نہیں۔
اس بحث کو امام ابن تیمیہ ؒ نے اپنے ایک رسالے میں بڑے خوبصورت اندازمیں پیش کیا ہے جس کا ہم نے اردو ترجمہ بعنوان’’مسلمان عورت کا پردہ اور اس کا لباسِ نماز‘‘ کیاہے۔
2۔
حافظ ا بن حجر ؒ کہتے ہیں کہ نماز کی حالت میں کندھوں پر کپڑا ڈالنے کی تاکید جمہور کے نزدیک استحباب کے لیے ہے اورجن احادیث میں ممانعت ہے وہ کراہت تنزیہی پر محمول ہے، لیکن امام احمد ؒ سے ایک قول یہ منقول ہے کہ کندھوں پر کپڑا ڈالے بغیر نماز جائز نہیں، گویا انھوں نے اس کو شرط صحت صلاۃ قراردیاہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ نماز ہوجائے گی، لیکن ترک واجب کی وجہ سے گناہکار ہوگا۔
(فتح الباري: 611/1)
علامہ کرمانی ؒ کہتے ہیں کہ بظاہر ممانعت کا تقاضا تو تحریم ہی ہے مگر اجماع جواز ترک پر ہوچکاہے، کیونکہ اصل مقصود تو سترعورۃ ہے، وہ کسی بھی طریقے سے کیاجاسکتا ہے۔
(شرح الکرماني: 18/2)
علامہ کرمانیؒ کا یہ اجماع کا دعویٰ محل نظر ہے، کیونکہ امام احمد بن حنبل ؒ نے اس موقف سے اختلاف کیاہے۔
علامہ خطابی ؒ نے عدم وجوب پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی جس کا ایک کنارہ کسی زوجہ محترمہ پر تھا اور وہ سورہی تھیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کپڑا اتنا بڑا نہیں تھا کہ کندھوں پر ڈالا جاسکتا اور نہ اتنا چھوٹا ہی تھا کہ اسے بطور تہہ بند ہی استعمال کیا جاسکتا۔
اگرکندھوں کا ڈھانپنا ضروری ہوتا تو دوسرے کنارے سے انھیں ڈھانپا جاسکتا تھا، لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ دوران نماز میں کندھوں کا ڈھانپنا ضروری نہیں۔
(إعلام الحدیث: 250/1)
حافظ ابن حجر ؒ خطابی ؒ کا استدلال ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ محل نظر ہے۔
(فتح الباري: 612/1)
بظاہر امام بخاری ؒ کے مسلک میں تفصیل ہے کہ کپڑاگربڑا ہوتو اسے کندھوں پر ڈالنا ضروری ہے اور اگرتنگ ہوتو اسے تہبند استعمال کیاجائے، کندھوں پر ڈالنا ضروری نہیں۔
ان کا موقف امام احمد ؒ کے موقف سے مختلف ہے۔
امام احمد ؒ کندھوں کے ڈھانپنے کو صحت صلاۃ کے لیے شرائط قراردیتے ہیں، جبکہ امام بخاری ؒ صرف وجوب کے قائل ہیں اور اس وجوب کو بھی تنگی کے وقت اٹھا دیتے ہیں۔
جیسا کہ آئندہ عنوان سے معلوم ہوتا ہے۔
3۔
علامہ کرمانی ؒ نے عنوان سے دوسری حدیث کی مطابقت بایں الفاظ بیان کی ہے کہ اس حدیث میں مخالفت طرفین کا حکم ہے اور اس پر عمل کرنا اسی وقت ممکن ہوگا جب کندھوں پر کچھ ڈالا جائے گا، اس کے بغیر مخالفت طرفین نہیں ہوسکتی۔
(شرح الکرماني: 19/2)
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بھی تراجم بخاری میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے، فرماتے ہیں: اس حدیث کی عنوان پر دلالت بایں طورہے کہ کپڑے کے دونوں کناروں کا ایک دوسرے کے مخالف سمت ہونا ہی اس بات کا سبب ہے کہ کوئی کنارہ اس کے کندھوں پر ضرور ڈالا جائےگا۔
حافظ ابن حجر ؒ جو امام بخاری ؒ کے رمزشناس ہیں، کہتے ہیں کہ امام بخاری ؒ نے حسب عادت اس انداز سے ایک روایت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس میں مخالفت طرفین کے وقت کندھوں پر کپڑا ڈالنے کی صراحت ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو صرف ایک کپڑے میں نماز پڑھے اسے چاہیے کہ کندھوں پر کپڑا ڈال کر اس کے دونوں کناروں کو اُلٹ لے۔
(مسند احمد: 255/2)
علامہ اسماعیلی ؒ اور ابونعیم ؒ نے بھی حسین کے طریق سے اسی طرح بیا ن کیاہے۔
(فتح الباري: 611/1)
مختصر یہ ہے کہ جب کپڑا اس قدر وسیع ہوکہ ستر پوشی کے بعد کندھوں کو ڈھانپاجاسکتا ہو تو ایسا ہی کرنا چاہیے۔
اس کے برعکس اگر کپڑا تنگ ہو کہ کندھوں کو چھپانے کے بعد ستر کھلنے کا اندیشہ ہوتو ایسی حالت میں کندھوں کو کھلا رکھتے ہوئے تہ بند باندھ کر نماز پڑھ لینا بالاتفاق جائزہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 360 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 359 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´نماز میں کندھے ڈھانپنا فرض ہے`
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقَيْهِ شَيْءٌ . . .»
”. . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو بھی ایک کپڑے میں نماز اس طرح نہ پڑھنی چاہیے کہ اس کے کندھوں پر کچھ نہ ہو . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ: 359]
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقَيْهِ شَيْءٌ . . .»
”. . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو بھی ایک کپڑے میں نماز اس طرح نہ پڑھنی چاہیے کہ اس کے کندھوں پر کچھ نہ ہو . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ: 359]
فوائد:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں کندھے ڈھانپنا فرض ہے۔
➋ بعض لوگ نماز میں مردوں پر سر ڈھانپنا لازمی قرار دیتے ہیں لیکن اس کی شریعت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔
شمائل الترمذی [ص 71 و فى نسختنا ص 4 حديث: 33، 125] کی روایت جس میں: «يكثر القناع» ”یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اوقات اپنے سر مبارک پر کپڑا رکھتے تھے“ آیا ہے۔ وہ یزید بن ابان الرقاشی کی وجہ سے ضعیف ہے، یزید پر جرح کے لئے تہذیب التہذیب [ج11 ص 270] وغیرہ دیکھیں، ◈ امام نسائی رحمه الله نے فرمایا: «متروك بصري» [كتاب الضعفاء: 642]
◈ حافظ ہیثمی نے کہا: «ويزيد الرقاشي ضعفه الجهمور» ”اور یزید الرقاشی کو جمہور نے ضعیف کہا ہے۔“ [مجمع الزوائد 226/6]
◈ تقریب التہذیب [7683] میں لکھا ہوا ہے «زاهد ضعيف»
دیوبندیوں اور بریلویوں کی معتبر و مستند کتاب ”در مختار“ میں لکھا ہوا ہے کہ جو شخص عاجزی کے لئے ننگے سر نماز پڑھے تو ایسا کرنا جائز ہے [الدرالمختار مع رد المختار 474/1]
اب دیوبندی فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:
سوال: ایک کتاب میں لکھا ہے کہ جو شخص ننگے سر اس نیت سے نماز پڑھے کہ عاجزانہ درگاہ خدا میں حاضر ہو تو کچھ حرج نہیں۔
جواب: یہ تو کتب فقہ میں بھی لکھا ہے کہ بہ نیت مذکورہ ننگے سر نماز پڑھنے میں کراہت نہیں ہے۔ [فتاويٰ دارالعلوم ديوبند 94/4]
احمد رضاخان بریلوی صاحب نے لکھا ہے: ”اگر بہ نیت عاجزی ننگے سر پڑھتے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔“ [احكام شريعت حصهٔ اول ص 130]
بعض مساجد میں نماز کے دوران میں سر ڈھانپنے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، اس لئے انہوں نے تنکوں سے بنی ہوئی ٹوپیاں رکھی ہوتی ہیں، ایسی ٹوپیاں نہیں پہننی چاہئیں، کیونکہ وہ عزت اور وقار کے منافی ہیں کیا کوئی ذی شعور انسان ایسی ٹوپی پہن کر کسی پروقار مجلس وغیرہ میں جاتا ہے؟ یقیناً نہیں تو پھر اللہ کے دربار میں حاضری دیتے وقت تو لباس کو خصوصی اہمیت دینی چاہئیے۔
اس کے علاوہ سر ڈھانپنا اگر سنت ہے اور اس کے بغیر نماز میں نقص رہتا ہے تو پھر داڑھی رکھنا تو اس سے بھی زیادہ ضروری بلکہ فرض ہے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی کے بغیر کوئی نماز پڑھی ہے؟ اللہ تعالیٰ فہم دین اور اتباع سنت کی توفیق عطا فرمائے۔
تنبیہ:
راقم الحروف کی تحقیق میں، ضرورت کے وقت ننگے سر مرد کی نماز جائز ہے لیکن بہتر و افضل یہی ہے کہ سر پر ٹوپی، عمامہ یا رومال ہو۔
❀ نافع تابعی کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ وہ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے ہیں تو انہوں نے فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں دو کپڑے نہیں دیئے؟ …کیا میں تمہیں اس حالت میں باہر بھیجوں تو چلے جاؤ گے؟“ نافع نے کہا: نہیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اللہ اس کا زیادہ مستحق نہیں ہے کہ اس کے سامنے زینت اختیار کی جائے یا انسان اس کے زیادہ مستحق ہیں؟ پھر انہوں نے نافع رحمہ اللہ کو ایک حدیث سنائی جس سے دو کپڑوں میں نما زپڑھنے کا حکم ثابت ہوتا ہے۔ [السنن الكبريٰ للبيهقي ملخصًا 236/2 و سنده صحيح]
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں کندھے ڈھانپنا فرض ہے۔
➋ بعض لوگ نماز میں مردوں پر سر ڈھانپنا لازمی قرار دیتے ہیں لیکن اس کی شریعت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔
شمائل الترمذی [ص 71 و فى نسختنا ص 4 حديث: 33، 125] کی روایت جس میں: «يكثر القناع» ”یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اوقات اپنے سر مبارک پر کپڑا رکھتے تھے“ آیا ہے۔ وہ یزید بن ابان الرقاشی کی وجہ سے ضعیف ہے، یزید پر جرح کے لئے تہذیب التہذیب [ج11 ص 270] وغیرہ دیکھیں، ◈ امام نسائی رحمه الله نے فرمایا: «متروك بصري» [كتاب الضعفاء: 642]
◈ حافظ ہیثمی نے کہا: «ويزيد الرقاشي ضعفه الجهمور» ”اور یزید الرقاشی کو جمہور نے ضعیف کہا ہے۔“ [مجمع الزوائد 226/6]
◈ تقریب التہذیب [7683] میں لکھا ہوا ہے «زاهد ضعيف»
دیوبندیوں اور بریلویوں کی معتبر و مستند کتاب ”در مختار“ میں لکھا ہوا ہے کہ جو شخص عاجزی کے لئے ننگے سر نماز پڑھے تو ایسا کرنا جائز ہے [الدرالمختار مع رد المختار 474/1]
اب دیوبندی فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:
سوال: ایک کتاب میں لکھا ہے کہ جو شخص ننگے سر اس نیت سے نماز پڑھے کہ عاجزانہ درگاہ خدا میں حاضر ہو تو کچھ حرج نہیں۔
جواب: یہ تو کتب فقہ میں بھی لکھا ہے کہ بہ نیت مذکورہ ننگے سر نماز پڑھنے میں کراہت نہیں ہے۔ [فتاويٰ دارالعلوم ديوبند 94/4]
احمد رضاخان بریلوی صاحب نے لکھا ہے: ”اگر بہ نیت عاجزی ننگے سر پڑھتے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔“ [احكام شريعت حصهٔ اول ص 130]
بعض مساجد میں نماز کے دوران میں سر ڈھانپنے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، اس لئے انہوں نے تنکوں سے بنی ہوئی ٹوپیاں رکھی ہوتی ہیں، ایسی ٹوپیاں نہیں پہننی چاہئیں، کیونکہ وہ عزت اور وقار کے منافی ہیں کیا کوئی ذی شعور انسان ایسی ٹوپی پہن کر کسی پروقار مجلس وغیرہ میں جاتا ہے؟ یقیناً نہیں تو پھر اللہ کے دربار میں حاضری دیتے وقت تو لباس کو خصوصی اہمیت دینی چاہئیے۔
اس کے علاوہ سر ڈھانپنا اگر سنت ہے اور اس کے بغیر نماز میں نقص رہتا ہے تو پھر داڑھی رکھنا تو اس سے بھی زیادہ ضروری بلکہ فرض ہے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی کے بغیر کوئی نماز پڑھی ہے؟ اللہ تعالیٰ فہم دین اور اتباع سنت کی توفیق عطا فرمائے۔
تنبیہ:
راقم الحروف کی تحقیق میں، ضرورت کے وقت ننگے سر مرد کی نماز جائز ہے لیکن بہتر و افضل یہی ہے کہ سر پر ٹوپی، عمامہ یا رومال ہو۔
❀ نافع تابعی کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ وہ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے ہیں تو انہوں نے فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں دو کپڑے نہیں دیئے؟ …کیا میں تمہیں اس حالت میں باہر بھیجوں تو چلے جاؤ گے؟“ نافع نے کہا: نہیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اللہ اس کا زیادہ مستحق نہیں ہے کہ اس کے سامنے زینت اختیار کی جائے یا انسان اس کے زیادہ مستحق ہیں؟ پھر انہوں نے نافع رحمہ اللہ کو ایک حدیث سنائی جس سے دو کپڑوں میں نما زپڑھنے کا حکم ثابت ہوتا ہے۔ [السنن الكبريٰ للبيهقي ملخصًا 236/2 و سنده صحيح]
درج بالا اقتباس ۔۔۔، حدیث/صفحہ نمبر: 1 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 359 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
359. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جبکہ اس کے کندھے پر کوئی چیز نہ ہو، یعنی شانے ننگے ہوں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:359]
حدیث حاشیہ:
1۔
امام بخاری ؒ نے اس باب میں نمازی کے لیے بحالت نماز سترپوشی کی ایک قسم بیان فرمائی ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے، کیونکہ نمازی کے لیے دوران نماز میں بسااوقات جسم کے کسی ایسے حصے کو چھپانا بھی ضروری ہوتا ہے جسے نماز کے علاوہ عام حالات میں ظاہر کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ بعض اوقات نماز میں کسی ایسے حصے کو ظاہر کرنا ہوتا ہے جسے عام حالات میں عورتوں کے لیے مردوں سے چھپانا ضروری ہوتا ہے۔
پہلی صورت کی مثال کندھے ہیں کہ بحالت نماز ان کا ڈھانپنا ضروری ہے۔
یہ حکم حق نماز کی وجہ سے ہے، جبکہ مرد حضرات عام حالات میں اپنے کندھوں کو ننگارکھ سکتے ہیں۔
دوسری صورت کی مثال چہرہ، ہاتھ اور پاؤں کا حکم ہے کہ عورت کے لیے عام حالات میں اجنبی مردوں کے سامنے ان کا کھولنا جائز نہیں، لیکن نماز کی حالت میں عورت کے لیے ان کا چھپانا ضروری نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں اس نوعیت کی سترپوشی اللہ کاحق ہے اور یہی وجہ ہے کہ رات کی تاریکی میں تن تنہا بھی بیت اللہ کا عریاں ہوکر طواف نہیں کیاجاسکتا۔
جیسا کہ اکیلے آدمی کو اختیاری حالات میں ننگے ہوکر نماز پڑھنےکی اجازت نہیں۔
اس بحث کو امام ابن تیمیہ ؒ نے اپنے ایک رسالے میں بڑے خوبصورت اندازمیں پیش کیا ہے جس کا ہم نے اردو ترجمہ بعنوان’’مسلمان عورت کا پردہ اور اس کا لباسِ نماز‘‘ کیاہے۔
2۔
حافظ ا بن حجر ؒ کہتے ہیں کہ نماز کی حالت میں کندھوں پر کپڑا ڈالنے کی تاکید جمہور کے نزدیک استحباب کے لیے ہے اورجن احادیث میں ممانعت ہے وہ کراہت تنزیہی پر محمول ہے، لیکن امام احمد ؒ سے ایک قول یہ منقول ہے کہ کندھوں پر کپڑا ڈالے بغیر نماز جائز نہیں، گویا انھوں نے اس کو شرط صحت صلاۃ قراردیاہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ نماز ہوجائے گی، لیکن ترک واجب کی وجہ سے گناہکار ہوگا۔
(فتح الباري: 611/1)
علامہ کرمانی ؒ کہتے ہیں کہ بظاہر ممانعت کا تقاضا تو تحریم ہی ہے مگر اجماع جواز ترک پر ہوچکاہے، کیونکہ اصل مقصود تو سترعورۃ ہے، وہ کسی بھی طریقے سے کیاجاسکتا ہے۔
(شرح الکرماني: 18/2)
علامہ کرمانیؒ کا یہ اجماع کا دعویٰ محل نظر ہے، کیونکہ امام احمد بن حنبل ؒ نے اس موقف سے اختلاف کیاہے۔
علامہ خطابی ؒ نے عدم وجوب پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی جس کا ایک کنارہ کسی زوجہ محترمہ پر تھا اور وہ سورہی تھیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کپڑا اتنا بڑا نہیں تھا کہ کندھوں پر ڈالا جاسکتا اور نہ اتنا چھوٹا ہی تھا کہ اسے بطور تہہ بند ہی استعمال کیا جاسکتا۔
اگرکندھوں کا ڈھانپنا ضروری ہوتا تو دوسرے کنارے سے انھیں ڈھانپا جاسکتا تھا، لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ دوران نماز میں کندھوں کا ڈھانپنا ضروری نہیں۔
(إعلام الحدیث: 250/1)
حافظ ابن حجر ؒ خطابی ؒ کا استدلال ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ محل نظر ہے۔
(فتح الباري: 612/1)
بظاہر امام بخاری ؒ کے مسلک میں تفصیل ہے کہ کپڑاگربڑا ہوتو اسے کندھوں پر ڈالنا ضروری ہے اور اگرتنگ ہوتو اسے تہبند استعمال کیاجائے، کندھوں پر ڈالنا ضروری نہیں۔
ان کا موقف امام احمد ؒ کے موقف سے مختلف ہے۔
امام احمد ؒ کندھوں کے ڈھانپنے کو صحت صلاۃ کے لیے شرائط قراردیتے ہیں، جبکہ امام بخاری ؒ صرف وجوب کے قائل ہیں اور اس وجوب کو بھی تنگی کے وقت اٹھا دیتے ہیں۔
جیسا کہ آئندہ عنوان سے معلوم ہوتا ہے۔
3۔
علامہ کرمانی ؒ نے عنوان سے دوسری حدیث کی مطابقت بایں الفاظ بیان کی ہے کہ اس حدیث میں مخالفت طرفین کا حکم ہے اور اس پر عمل کرنا اسی وقت ممکن ہوگا جب کندھوں پر کچھ ڈالا جائے گا، اس کے بغیر مخالفت طرفین نہیں ہوسکتی۔
(شرح الکرماني: 19/2)
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بھی تراجم بخاری میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے، فرماتے ہیں: اس حدیث کی عنوان پر دلالت بایں طورہے کہ کپڑے کے دونوں کناروں کا ایک دوسرے کے مخالف سمت ہونا ہی اس بات کا سبب ہے کہ کوئی کنارہ اس کے کندھوں پر ضرور ڈالا جائےگا۔
حافظ ابن حجر ؒ جو امام بخاری ؒ کے رمزشناس ہیں، کہتے ہیں کہ امام بخاری ؒ نے حسب عادت اس انداز سے ایک روایت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس میں مخالفت طرفین کے وقت کندھوں پر کپڑا ڈالنے کی صراحت ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو صرف ایک کپڑے میں نماز پڑھے اسے چاہیے کہ کندھوں پر کپڑا ڈال کر اس کے دونوں کناروں کو اُلٹ لے۔
(مسند احمد: 255/2)
علامہ اسماعیلی ؒ اور ابونعیم ؒ نے بھی حسین کے طریق سے اسی طرح بیا ن کیاہے۔
(فتح الباري: 611/1)
مختصر یہ ہے کہ جب کپڑا اس قدر وسیع ہوکہ ستر پوشی کے بعد کندھوں کو ڈھانپاجاسکتا ہو تو ایسا ہی کرنا چاہیے۔
اس کے برعکس اگر کپڑا تنگ ہو کہ کندھوں کو چھپانے کے بعد ستر کھلنے کا اندیشہ ہوتو ایسی حالت میں کندھوں کو کھلا رکھتے ہوئے تہ بند باندھ کر نماز پڑھ لینا بالاتفاق جائزہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
امام بخاری ؒ نے اس باب میں نمازی کے لیے بحالت نماز سترپوشی کی ایک قسم بیان فرمائی ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے، کیونکہ نمازی کے لیے دوران نماز میں بسااوقات جسم کے کسی ایسے حصے کو چھپانا بھی ضروری ہوتا ہے جسے نماز کے علاوہ عام حالات میں ظاہر کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ بعض اوقات نماز میں کسی ایسے حصے کو ظاہر کرنا ہوتا ہے جسے عام حالات میں عورتوں کے لیے مردوں سے چھپانا ضروری ہوتا ہے۔
پہلی صورت کی مثال کندھے ہیں کہ بحالت نماز ان کا ڈھانپنا ضروری ہے۔
یہ حکم حق نماز کی وجہ سے ہے، جبکہ مرد حضرات عام حالات میں اپنے کندھوں کو ننگارکھ سکتے ہیں۔
دوسری صورت کی مثال چہرہ، ہاتھ اور پاؤں کا حکم ہے کہ عورت کے لیے عام حالات میں اجنبی مردوں کے سامنے ان کا کھولنا جائز نہیں، لیکن نماز کی حالت میں عورت کے لیے ان کا چھپانا ضروری نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں اس نوعیت کی سترپوشی اللہ کاحق ہے اور یہی وجہ ہے کہ رات کی تاریکی میں تن تنہا بھی بیت اللہ کا عریاں ہوکر طواف نہیں کیاجاسکتا۔
جیسا کہ اکیلے آدمی کو اختیاری حالات میں ننگے ہوکر نماز پڑھنےکی اجازت نہیں۔
اس بحث کو امام ابن تیمیہ ؒ نے اپنے ایک رسالے میں بڑے خوبصورت اندازمیں پیش کیا ہے جس کا ہم نے اردو ترجمہ بعنوان’’مسلمان عورت کا پردہ اور اس کا لباسِ نماز‘‘ کیاہے۔
2۔
حافظ ا بن حجر ؒ کہتے ہیں کہ نماز کی حالت میں کندھوں پر کپڑا ڈالنے کی تاکید جمہور کے نزدیک استحباب کے لیے ہے اورجن احادیث میں ممانعت ہے وہ کراہت تنزیہی پر محمول ہے، لیکن امام احمد ؒ سے ایک قول یہ منقول ہے کہ کندھوں پر کپڑا ڈالے بغیر نماز جائز نہیں، گویا انھوں نے اس کو شرط صحت صلاۃ قراردیاہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ نماز ہوجائے گی، لیکن ترک واجب کی وجہ سے گناہکار ہوگا۔
(فتح الباري: 611/1)
علامہ کرمانی ؒ کہتے ہیں کہ بظاہر ممانعت کا تقاضا تو تحریم ہی ہے مگر اجماع جواز ترک پر ہوچکاہے، کیونکہ اصل مقصود تو سترعورۃ ہے، وہ کسی بھی طریقے سے کیاجاسکتا ہے۔
(شرح الکرماني: 18/2)
علامہ کرمانیؒ کا یہ اجماع کا دعویٰ محل نظر ہے، کیونکہ امام احمد بن حنبل ؒ نے اس موقف سے اختلاف کیاہے۔
علامہ خطابی ؒ نے عدم وجوب پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی جس کا ایک کنارہ کسی زوجہ محترمہ پر تھا اور وہ سورہی تھیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کپڑا اتنا بڑا نہیں تھا کہ کندھوں پر ڈالا جاسکتا اور نہ اتنا چھوٹا ہی تھا کہ اسے بطور تہہ بند ہی استعمال کیا جاسکتا۔
اگرکندھوں کا ڈھانپنا ضروری ہوتا تو دوسرے کنارے سے انھیں ڈھانپا جاسکتا تھا، لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ دوران نماز میں کندھوں کا ڈھانپنا ضروری نہیں۔
(إعلام الحدیث: 250/1)
حافظ ابن حجر ؒ خطابی ؒ کا استدلال ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ محل نظر ہے۔
(فتح الباري: 612/1)
بظاہر امام بخاری ؒ کے مسلک میں تفصیل ہے کہ کپڑاگربڑا ہوتو اسے کندھوں پر ڈالنا ضروری ہے اور اگرتنگ ہوتو اسے تہبند استعمال کیاجائے، کندھوں پر ڈالنا ضروری نہیں۔
ان کا موقف امام احمد ؒ کے موقف سے مختلف ہے۔
امام احمد ؒ کندھوں کے ڈھانپنے کو صحت صلاۃ کے لیے شرائط قراردیتے ہیں، جبکہ امام بخاری ؒ صرف وجوب کے قائل ہیں اور اس وجوب کو بھی تنگی کے وقت اٹھا دیتے ہیں۔
جیسا کہ آئندہ عنوان سے معلوم ہوتا ہے۔
3۔
علامہ کرمانی ؒ نے عنوان سے دوسری حدیث کی مطابقت بایں الفاظ بیان کی ہے کہ اس حدیث میں مخالفت طرفین کا حکم ہے اور اس پر عمل کرنا اسی وقت ممکن ہوگا جب کندھوں پر کچھ ڈالا جائے گا، اس کے بغیر مخالفت طرفین نہیں ہوسکتی۔
(شرح الکرماني: 19/2)
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بھی تراجم بخاری میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے، فرماتے ہیں: اس حدیث کی عنوان پر دلالت بایں طورہے کہ کپڑے کے دونوں کناروں کا ایک دوسرے کے مخالف سمت ہونا ہی اس بات کا سبب ہے کہ کوئی کنارہ اس کے کندھوں پر ضرور ڈالا جائےگا۔
حافظ ابن حجر ؒ جو امام بخاری ؒ کے رمزشناس ہیں، کہتے ہیں کہ امام بخاری ؒ نے حسب عادت اس انداز سے ایک روایت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس میں مخالفت طرفین کے وقت کندھوں پر کپڑا ڈالنے کی صراحت ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو صرف ایک کپڑے میں نماز پڑھے اسے چاہیے کہ کندھوں پر کپڑا ڈال کر اس کے دونوں کناروں کو اُلٹ لے۔
(مسند احمد: 255/2)
علامہ اسماعیلی ؒ اور ابونعیم ؒ نے بھی حسین کے طریق سے اسی طرح بیا ن کیاہے۔
(فتح الباري: 611/1)
مختصر یہ ہے کہ جب کپڑا اس قدر وسیع ہوکہ ستر پوشی کے بعد کندھوں کو ڈھانپاجاسکتا ہو تو ایسا ہی کرنا چاہیے۔
اس کے برعکس اگر کپڑا تنگ ہو کہ کندھوں کو چھپانے کے بعد ستر کھلنے کا اندیشہ ہوتو ایسی حالت میں کندھوں کو کھلا رکھتے ہوئے تہ بند باندھ کر نماز پڑھ لینا بالاتفاق جائزہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 359 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 365 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
365. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ایک آدمی کھڑا ہوا اور نبی ﷺ سے سوال کیا: آیا ایک کپڑے میں نماز پڑھی جا سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’کیا تم میں سے سب کے پاس دو، دو کپڑے ہیں؟‘‘ پھر کسی شخص نے حضرت عمر ؓ سے یہی سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا: جب اللہ تعالیٰ وسعت فرمائے تو اس وسعت کا اظہار کرو۔ چاہیے کہ لوگ اپنے جسم پر اللہ کے دیے ہوئے کپڑے استعمال کریں، یعنی ازار اور چادر میں، ازار اور قمیص میں، ازار اور قبا میں، پاجامہ اور چادر میں، پاجامہ اور قمیص میں، پاجامہ اور قبا میں، جانگھیے اور قبا میں، جانگھیے اور قمیص میں نماز پڑھیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: میں گمان کرتا ہوں کہ حضرت عمر ؓ نے جانگھیے اور چادر میں ادائیگی نماز کے متعلق بھی فرمایا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:365]
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت عمر ؓ کی کپڑوں کے متعلق بیان کردہ تفصیل میں ستر پوشی، پھر بدن پوشی کی رعایت مقدم معلوم ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ کپڑے جو وسط جسم کے ستر کے لیے استعمال ہوتے ہیں انھیں آپ نے پہلے بیان فرمایا، کیونکہ جسم کے جس حصے کا سترضروری ہے وہ وسط جسم ہی ہے، پھر جو کپڑے وسط جسم کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتے ہیں وہ تین ہیں: ازار، پاجامہ اور جانگیہ۔
ان تینوں میں سے ازار کو سب سے پہلے رکھا، یہ کثیر الاستعمال بھی ہے اور جسم کے لیے ساتربھی۔
گویا آپ نے سترعورۃ کے لحاظ سے کپڑوں کے تین درجے بتائے ہیں: پہلے ازار، پھرپاجامہ، آخر میں جانگیے اس لیے رکھا کہ اس میں سترسب سے کم ہے، ہاں اگرچادریاقمیص کے ساتھ اس کااستعمال ہوتو چنداں حرج نہیں۔
مطلب یہ ہے کہ اگرنمازی دوکپڑوں میں نماز پڑھے توتہ بند کے ساتھ اوپر کے جسم کے لیے چادر، کرتایا قبا بھی ہو، اگرپاجامے کے ساتھ پڑھے تو اس کے ساتھ بھی چادر یا کرتا یا قبا ہو۔
اگرجانگیے پہنے ہوئے ہوتواس کے ساتھ چادر یاکرتایا قبا ہوتا کہ سترپوشی کی رعایت زیادہ سے زیادہ ہوسکے۔
(فتح الباري: 617/1)
حافظ ابن حجر ؒ نےلکھاہے کہ نماز کے وقت کپڑوں کا اہتمام ضروری ہے۔
جیساکہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے اورایک کپڑے میں نماز پڑھنا صرف تنگی اور افلاس کے وقت ہے۔
وہ کپڑوں میں نماز پڑھنا بہ نسبت ایک کپڑے کے افضل ہے۔
اگرچہ قاضی عیاض ؒ نے اس کےمتعلق اختلاف کی نفی کی ہے، تاہم ابن منذر ؒ کی عبارت سے اختلاف کا ثبوت ملتا ہے۔
انھوں نے ائمہ سے ایک کپڑے میں جواز صلاۃ کا کرکے لکھاہے کہ بعض حضرات نے دوکپڑوں میں نماز کو مستحب قراردیاہے، مگر اشبب کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر کوئی قدرت ووسعت کے باوجود صرف ایک کپڑے میں نماز پڑھے گا تو وقت کے دوران میں اسکا اعادہ کرنا ہوگا ہاں اگروہ کپڑا موٹا ہوتو اعادے کی ضرورت نہیں اور بعض حنفیہ نے بھی شخص مذکور کی نماز کومکروہ کہا ہے۔
(عمدة القاري: 286/3)
2۔
مصنف عبدالرزاق (356/1)
میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ایک کپڑے میں نماز کو مکروہ کہتے تھے اور اس کی اجازت کو اسلام کے ابتدائی دورمیں تنگی کے وقت پرمحمول کرتے تھے۔
جب لوگوں کو زیادہ کپڑے میسر نہ تھے۔
حضرت ابی بن کعب ؓ اس کے خلاف ایک کپڑے میں نماز کومکروہ نہیں کہتے تھے۔
ان دونوں حضرات کے اختلاف کو سن کر حضرت عمر ؓ منبر پرکھڑے ہوئے اور اعلان فرمایا کہ درست بات وہی ہے جو حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں نہ کہ وہ جو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں۔
1۔
حضرت عمر ؓ کی کپڑوں کے متعلق بیان کردہ تفصیل میں ستر پوشی، پھر بدن پوشی کی رعایت مقدم معلوم ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ کپڑے جو وسط جسم کے ستر کے لیے استعمال ہوتے ہیں انھیں آپ نے پہلے بیان فرمایا، کیونکہ جسم کے جس حصے کا سترضروری ہے وہ وسط جسم ہی ہے، پھر جو کپڑے وسط جسم کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتے ہیں وہ تین ہیں: ازار، پاجامہ اور جانگیہ۔
ان تینوں میں سے ازار کو سب سے پہلے رکھا، یہ کثیر الاستعمال بھی ہے اور جسم کے لیے ساتربھی۔
گویا آپ نے سترعورۃ کے لحاظ سے کپڑوں کے تین درجے بتائے ہیں: پہلے ازار، پھرپاجامہ، آخر میں جانگیے اس لیے رکھا کہ اس میں سترسب سے کم ہے، ہاں اگرچادریاقمیص کے ساتھ اس کااستعمال ہوتو چنداں حرج نہیں۔
مطلب یہ ہے کہ اگرنمازی دوکپڑوں میں نماز پڑھے توتہ بند کے ساتھ اوپر کے جسم کے لیے چادر، کرتایا قبا بھی ہو، اگرپاجامے کے ساتھ پڑھے تو اس کے ساتھ بھی چادر یا کرتا یا قبا ہو۔
اگرجانگیے پہنے ہوئے ہوتواس کے ساتھ چادر یاکرتایا قبا ہوتا کہ سترپوشی کی رعایت زیادہ سے زیادہ ہوسکے۔
(فتح الباري: 617/1)
حافظ ابن حجر ؒ نےلکھاہے کہ نماز کے وقت کپڑوں کا اہتمام ضروری ہے۔
جیساکہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے اورایک کپڑے میں نماز پڑھنا صرف تنگی اور افلاس کے وقت ہے۔
وہ کپڑوں میں نماز پڑھنا بہ نسبت ایک کپڑے کے افضل ہے۔
اگرچہ قاضی عیاض ؒ نے اس کےمتعلق اختلاف کی نفی کی ہے، تاہم ابن منذر ؒ کی عبارت سے اختلاف کا ثبوت ملتا ہے۔
انھوں نے ائمہ سے ایک کپڑے میں جواز صلاۃ کا کرکے لکھاہے کہ بعض حضرات نے دوکپڑوں میں نماز کو مستحب قراردیاہے، مگر اشبب کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر کوئی قدرت ووسعت کے باوجود صرف ایک کپڑے میں نماز پڑھے گا تو وقت کے دوران میں اسکا اعادہ کرنا ہوگا ہاں اگروہ کپڑا موٹا ہوتو اعادے کی ضرورت نہیں اور بعض حنفیہ نے بھی شخص مذکور کی نماز کومکروہ کہا ہے۔
(عمدة القاري: 286/3)
2۔
مصنف عبدالرزاق (356/1)
میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ایک کپڑے میں نماز کو مکروہ کہتے تھے اور اس کی اجازت کو اسلام کے ابتدائی دورمیں تنگی کے وقت پرمحمول کرتے تھے۔
جب لوگوں کو زیادہ کپڑے میسر نہ تھے۔
حضرت ابی بن کعب ؓ اس کے خلاف ایک کپڑے میں نماز کومکروہ نہیں کہتے تھے۔
ان دونوں حضرات کے اختلاف کو سن کر حضرت عمر ؓ منبر پرکھڑے ہوئے اور اعلان فرمایا کہ درست بات وہی ہے جو حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں نہ کہ وہ جو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 365 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 358 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
358. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ سائل نے رسول اللہ ﷺ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کی بابت دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ’’کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہوتے ہیں؟‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:358]
حدیث حاشیہ: ایک ہی کپڑا جس سے ستر پوشی ہوسکے اس میں نماز جائزو درست ہے۔
جمہورامت کا یہی فتویٰ ہے۔
جمہورامت کا یہی فتویٰ ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 358 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 358 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
358. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ سائل نے رسول اللہ ﷺ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کی بابت دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ’’کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہوتے ہیں؟‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:358]
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ ﷺ کے سوال کا مقصد یہ ہے کہ تم دیکھتے نہیں ہو، ایک واضح اور بدیہی امر کے متعلق سوال کر رہے ہو، تمھیں سوچنا چاہیے تھا کہ اگر ایک کپڑے میں نماز جائز نہ ہوتی تو میں ضرور انکارکردیتا، لیکن نہ تو میں نے انکار کیا اور نہ اس معاملے کی تفتیش ہی کی کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے والا فاقد ثوب ہے یا واجد ثوب، اس سلسلے میں وسعت اورتنگی کا فرق بھی نہیں۔
ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا جواز ہے، کیونکہ نماز میں کپڑوں کی تعداد پر انحصار نہیں، بلکہ مدار سترعورۃ پر ہے، البتہ مستحب ہے کہ بشرط گنجائش ایک سے زائد کپڑے استعمال کیے جائیں۔
علامہ خطابی ؒ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سوالیہ انداز میں جواب دیا لیکن دراصل آپ تنگی کے ایام کی خبر دینا چاہتے ہیں اور فحوائے کلام سے اصل سوال کا جواب بھی سمجھاجاسکتا ہے کہ جب سترعورۃ واجب ہے اور نماز کا ادا کرنا بھی ضروری ہے اورتم میں سے ہر ایک کے لیے کپڑے بھی نہیں ہوتے، ایسے حالات میں تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک کپڑے میں نماز جائز ہے۔
اگرجائز نہ ہوتی تو میں اس کی وضاحت کردیتا۔
(إعلام الحدیث: 349/1)
2۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ایک دوسری روایت میں اضافہ ہے کہ حضرت عمر ؓ سے بھی کسی نے یہی سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے لباس کے معاملے میں وسعت دی ہے تو انھیں بھی وسعت سے کام لینا چاہیے، وہ اس طرح کہ لوگ اپنے جسم پر اللہ کے دیے ہوئے کپڑے استعمال کریں، یعنی انھیں چاہیے کہ وہ ازار اور چادر میں ازاراورقمیص میں، ازار اورقبا میں، پائجامہ اور چادر میں، پائجامہ اور قمیص میں، پائجامہ اورقبا میں، جانگیہ اور قبا میں، نیز جانگیہ اور قمیص میں نما ز پڑھیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: میں گمان کرتا ہوں کہ حضرت عمر ؓ نے اسی کے ساتھ جانگیہ اورچادر میں نماز پڑھنے کے متعلق بھی فرمایا تھا۔
(صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 365)
1۔
رسول اللہ ﷺ کے سوال کا مقصد یہ ہے کہ تم دیکھتے نہیں ہو، ایک واضح اور بدیہی امر کے متعلق سوال کر رہے ہو، تمھیں سوچنا چاہیے تھا کہ اگر ایک کپڑے میں نماز جائز نہ ہوتی تو میں ضرور انکارکردیتا، لیکن نہ تو میں نے انکار کیا اور نہ اس معاملے کی تفتیش ہی کی کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے والا فاقد ثوب ہے یا واجد ثوب، اس سلسلے میں وسعت اورتنگی کا فرق بھی نہیں۔
ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا جواز ہے، کیونکہ نماز میں کپڑوں کی تعداد پر انحصار نہیں، بلکہ مدار سترعورۃ پر ہے، البتہ مستحب ہے کہ بشرط گنجائش ایک سے زائد کپڑے استعمال کیے جائیں۔
علامہ خطابی ؒ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سوالیہ انداز میں جواب دیا لیکن دراصل آپ تنگی کے ایام کی خبر دینا چاہتے ہیں اور فحوائے کلام سے اصل سوال کا جواب بھی سمجھاجاسکتا ہے کہ جب سترعورۃ واجب ہے اور نماز کا ادا کرنا بھی ضروری ہے اورتم میں سے ہر ایک کے لیے کپڑے بھی نہیں ہوتے، ایسے حالات میں تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک کپڑے میں نماز جائز ہے۔
اگرجائز نہ ہوتی تو میں اس کی وضاحت کردیتا۔
(إعلام الحدیث: 349/1)
2۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ایک دوسری روایت میں اضافہ ہے کہ حضرت عمر ؓ سے بھی کسی نے یہی سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے لباس کے معاملے میں وسعت دی ہے تو انھیں بھی وسعت سے کام لینا چاہیے، وہ اس طرح کہ لوگ اپنے جسم پر اللہ کے دیے ہوئے کپڑے استعمال کریں، یعنی انھیں چاہیے کہ وہ ازار اور چادر میں ازاراورقمیص میں، ازار اورقبا میں، پائجامہ اور چادر میں، پائجامہ اور قمیص میں، پائجامہ اورقبا میں، جانگیہ اور قبا میں، نیز جانگیہ اور قمیص میں نما ز پڑھیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: میں گمان کرتا ہوں کہ حضرت عمر ؓ نے اسی کے ساتھ جانگیہ اورچادر میں نماز پڑھنے کے متعلق بھی فرمایا تھا۔
(صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 365)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 358 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 515 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کو پکار کر پوچھا: کیا ہم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ تو آپﷺ نے جواب دیا: ’’کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں؟‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1150]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جس دور میں سائل نے آپﷺ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا تھا وہ انتہائی فقرواحتیاج کا دور تھا اور ہر انسان کے پاس اتنی سکت نہ تھی کہ وہ دو کپڑے پہنے اس لیے شریعت نے نماز کے لیے کپڑوں کی تحدید نہیں کی، انسان کے پاس جس قدروسعت وگنجائش ہو یا جتنے کپڑے وہ پہنتا ہو انہیں میں نماز پڑھ لے ستر کو چھپانا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 515 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 625 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کتنے کپڑوں میں نماز پڑھنی درست ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 625]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 625]
625۔ اردو حاشیہ:
یعنی جب فی الواقع ہر انسان کو دو کپڑے مہیا نہیں تو شریعت میں بھی تنگی نہیں، ایک کپڑے میں بھی نماز جائز ہے، اس کے باندھنے کا طریقہ درج ذیل احادیث سے بیان ہوا ہے۔
یعنی جب فی الواقع ہر انسان کو دو کپڑے مہیا نہیں تو شریعت میں بھی تنگی نہیں، ایک کپڑے میں بھی نماز جائز ہے، اس کے باندھنے کا طریقہ درج ذیل احادیث سے بیان ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 625 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 627 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کتنے کپڑوں میں نماز پڑھنی درست ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس کے داہنے کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو داہنے کندھے پر ڈال لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 627]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس کے داہنے کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو داہنے کندھے پر ڈال لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 627]
627۔ اردو حاشیہ:
یعنی کمر پر اس طرح لپٹیے کہ اس کا دایاں پلّو بائیں کندھے پر اور بایاں پلّو دائیں کندھے پر آ جائے، اس طرح یہ کپڑا تہ بند اوپر کی چادر، دونوں کا کام دے گا۔
یعنی کمر پر اس طرح لپٹیے کہ اس کا دایاں پلّو بائیں کندھے پر اور بایاں پلّو دائیں کندھے پر آ جائے، اس طرح یہ کپڑا تہ بند اوپر کی چادر، دونوں کا کام دے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 627 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 770 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مرد کا ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان جس کا کوئی حصہ اس کے کندھے پر نہ ہو۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس کا کوئی حصہ اس کے کندھے پر نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 770]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس کا کوئی حصہ اس کے کندھے پر نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 770]
770۔ اردو حاشیہ: یہ اس وقت ہے جب کپڑا وسیع ہو۔ اگر کپڑا چھوٹا ہو تو اسے ازار کے طور پر باندھ لیا جائے۔ اگر کوئی اور کپڑا میسر نہ ہو تو ناف سے گھٹنوں تک پردہ کفایت کر جائے گا اور شرعاً یہ جائز ہے کیونکہ مجبوری میں اس معاملے میں تخفیف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 770 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1047 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم میں سے ہر شخص کو دو کپڑے میسر ہیں “؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1047]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم میں سے ہر شخص کو دو کپڑے میسر ہیں “؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1047]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مرد ایک کپڑا اوڑھ کر نماز ادا کرسکتاہے۔
عربوں میں ایک کپڑا اوڑھنے کا طریقہ یہ تھا کہ کمر پر کپڑا تہہ بند کی طرح رکھ کر آگے کی طرف لاکر اس کا دایاں سرا بایئں کندھے پر ڈال لیا جائے۔
اور بایاں پلو دایئں کندھے پر ڈال لیا جائے۔
اس طرح ایک ہی کپڑے سے ستر چھپ جائے گا۔
پیٹ وغیرہ بھی اور کندھے بھی۔
گویا ایک بڑے کپڑے سے دو کپڑوں کا کام چل جاتا ہے۔
(2)
اگر کپڑا چھوٹا ہو اور مذکورہ بالاطریقے سے اوڑھنا ممکن نہ ہو۔
تودوسرا کپڑا بھی استعمال کرنا چاہیے۔
ایک کپڑے کو تہہ بند کی طرح باندھ لیا جائے۔
اور دوسرے کو چادر کی طرح اوڑھ لیا جائے۔
اگر اوڑھا نہ جا سکتا ہو۔
تو کندھوں پر ڈال لیا جائے۔
کیونکہ نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے۔
کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کچھ نہ ہو (صحیح البخاري، الصلاة، باب إذا صلی فی الثوب الواحد فلیجعل علی عاتقیه، حدیث: 359)
(3)
حدیث میں (عَاتِق)
کالفظ ہے۔
جس کا ترجمہ کندھا کیا گیا ہے کندھے کےلئے دوسرا لفظ منکب ہے۔
جو اس مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔
جو اردو میں کندھے کا متعارف مفہوم ہے۔
عاتق کا اصل مطلب منکب اور گردن کے درمیان کی جگہ ہے مطلب یہ ہے کہ جسم کے بالائی حصہ پر بھی کوئی لباس یا کپڑا ہونا چاہیے۔
(4)
اگر کپڑا ایک ہی ہو اور اسے اوڑھا نہ جا سکتا ہو تو تہہ بند کی طرح باندھ کر نماز پڑھ لی جائے۔
ارشاد نبوی ﷺ ہے۔
اگر کپڑا کھلا ہوتو اس میں لپٹ جاؤ اور اگر تنگ ہو تو اسے تہہ بند بنا لو (صحیح البخاري، الصلاة، باب إذا کان الثوب ضیقاً، حدیث: 361)
(5)
عورت کو نماز میں اپنا تمام جسم ڈھانپنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مرد ایک کپڑا اوڑھ کر نماز ادا کرسکتاہے۔
عربوں میں ایک کپڑا اوڑھنے کا طریقہ یہ تھا کہ کمر پر کپڑا تہہ بند کی طرح رکھ کر آگے کی طرف لاکر اس کا دایاں سرا بایئں کندھے پر ڈال لیا جائے۔
اور بایاں پلو دایئں کندھے پر ڈال لیا جائے۔
اس طرح ایک ہی کپڑے سے ستر چھپ جائے گا۔
پیٹ وغیرہ بھی اور کندھے بھی۔
گویا ایک بڑے کپڑے سے دو کپڑوں کا کام چل جاتا ہے۔
(2)
اگر کپڑا چھوٹا ہو اور مذکورہ بالاطریقے سے اوڑھنا ممکن نہ ہو۔
تودوسرا کپڑا بھی استعمال کرنا چاہیے۔
ایک کپڑے کو تہہ بند کی طرح باندھ لیا جائے۔
اور دوسرے کو چادر کی طرح اوڑھ لیا جائے۔
اگر اوڑھا نہ جا سکتا ہو۔
تو کندھوں پر ڈال لیا جائے۔
کیونکہ نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے۔
کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کچھ نہ ہو (صحیح البخاري، الصلاة، باب إذا صلی فی الثوب الواحد فلیجعل علی عاتقیه، حدیث: 359)
(3)
حدیث میں (عَاتِق)
کالفظ ہے۔
جس کا ترجمہ کندھا کیا گیا ہے کندھے کےلئے دوسرا لفظ منکب ہے۔
جو اس مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔
جو اردو میں کندھے کا متعارف مفہوم ہے۔
عاتق کا اصل مطلب منکب اور گردن کے درمیان کی جگہ ہے مطلب یہ ہے کہ جسم کے بالائی حصہ پر بھی کوئی لباس یا کپڑا ہونا چاہیے۔
(4)
اگر کپڑا ایک ہی ہو اور اسے اوڑھا نہ جا سکتا ہو تو تہہ بند کی طرح باندھ کر نماز پڑھ لی جائے۔
ارشاد نبوی ﷺ ہے۔
اگر کپڑا کھلا ہوتو اس میں لپٹ جاؤ اور اگر تنگ ہو تو اسے تہہ بند بنا لو (صحیح البخاري، الصلاة، باب إذا کان الثوب ضیقاً، حدیث: 361)
(5)
عورت کو نماز میں اپنا تمام جسم ڈھانپنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1047 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 162 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نماز میں چادر اوڑھنا یا پہننا`
«. . . ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال له: إذا كان الثوب واسعا فالتحف به في الصلاة . . .»
”. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: جب کپڑا بڑا اور فراخ ہو تو (نماز میں) کپڑا خوب (جسم پر) لپیٹ لو . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 162]
«. . . ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال له: إذا كان الثوب واسعا فالتحف به في الصلاة . . .»
”. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: جب کپڑا بڑا اور فراخ ہو تو (نماز میں) کپڑا خوب (جسم پر) لپیٹ لو . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 162]
� لغوی تشریح:
«فالتحف» ، «التحاف» سے امر کا صغیہ مراد ہے۔ معنی ہیں: چادر اوڑھنا یا پہننا۔ اس اوڑھنے کی کیفیت کی وضاحت اگلا جملہ «فخالف بين طرفيه» کر رہا ہے۔ اس کی صورت یہ ہو گی کہ کپڑے کے درمیان کو اپنے جسم کے درمیان میں پچھلی جانب رکھے، پر دائیں جانب کو پکڑ کر سامنے سے بائیں کندھے پر ڈال دے اور اسی طرح بائیں جانب کو دائیں کندھے پر ڈال دے اور گدی کے پاس دونوں کونوں کو گانٹھ (گرہ) دے لے۔
«فَاتَّزَرْ» باب افتعال سے امر کا صیغہ ہے، معنی ہیں: تہ بند باندھنا، ازار پہننا۔
فائدہ:
اس کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ چادر اگر بڑی ہو تو اس کا ایک حصہ ازار کے طور پر اور کچھ رواء (اوپر والی چادر) کے طور پر اس طرح اوڑھ لے کہ اس کے دونوں کنارے (ایک دوسرے کے مخالف) کندھوں پر ہوں، کندھے ننگے نہ رہیں۔ اور اگر چادر چھوٹی ہو تو پھر اسے ازار (تہ بند) کے طور پر باندھ لے۔ مشہور قول کے مطابق مرد کے لیے قابل ستر حصہ ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے۔ [سبل السلام]
«فالتحف» ، «التحاف» سے امر کا صغیہ مراد ہے۔ معنی ہیں: چادر اوڑھنا یا پہننا۔ اس اوڑھنے کی کیفیت کی وضاحت اگلا جملہ «فخالف بين طرفيه» کر رہا ہے۔ اس کی صورت یہ ہو گی کہ کپڑے کے درمیان کو اپنے جسم کے درمیان میں پچھلی جانب رکھے، پر دائیں جانب کو پکڑ کر سامنے سے بائیں کندھے پر ڈال دے اور اسی طرح بائیں جانب کو دائیں کندھے پر ڈال دے اور گدی کے پاس دونوں کونوں کو گانٹھ (گرہ) دے لے۔
«فَاتَّزَرْ» باب افتعال سے امر کا صیغہ ہے، معنی ہیں: تہ بند باندھنا، ازار پہننا۔
فائدہ:
اس کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ چادر اگر بڑی ہو تو اس کا ایک حصہ ازار کے طور پر اور کچھ رواء (اوپر والی چادر) کے طور پر اس طرح اوڑھ لے کہ اس کے دونوں کنارے (ایک دوسرے کے مخالف) کندھوں پر ہوں، کندھے ننگے نہ رہیں۔ اور اگر چادر چھوٹی ہو تو پھر اسے ازار (تہ بند) کے طور پر باندھ لے۔ مشہور قول کے مطابق مرد کے لیے قابل ستر حصہ ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے۔ [سبل السلام]
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 162 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 201 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´مردوں کے لئے ایک کپڑے مثلاً ایک چادر یا صرف قمیض میں نماز پڑھنا جائز ہے`
کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز (پڑھنے) کے بارے میں پوچھا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر آدمی کے پاس دو کپڑے موجود ہیں؟“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 201]
کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز (پڑھنے) کے بارے میں پوچھا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر آدمی کے پاس دو کپڑے موجود ہیں؟“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 201]
تخریج الحدیث:
[الموطأ رواية يحييٰ بن يحييٰ 140/1 ح 316، ك 8 ب 9 ح 30، التمهيد 363/6، الاستذكار: 286، و أخرجه البخاري 358، ومسلم 515، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ مردوں کے لئے ایک کپڑے مثلاً ایک چادر یا صرف قمیض میں نماز پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ کندھے ڈھکے ہوئے ہوں لیکن بہتر یہ ہے کہ دو (یا زیادہ) کپڑوں میں نماز پڑھیں۔
➋ کسی کام میں مشغولیت کی وجہ سے نافع رحمہ اللہ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے تو نماز کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں دو کپڑے نہیں دیئے تھے؟ نافع نے کہا: جی ہاں! ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں تمہیں ایک کپڑے میں باہر بھیجوں تو چلے جاؤ گے؟ نافع نے کہا: نہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اللہ اس کا مستحق ہے کہ اس کے لئے زینت اختیار کی جائے یا لوگ؟ نافع نے کہا: اللہ، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (یا عمر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: «إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ثَوْبَيْنِ فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا۔۔۔» اگر تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو ان میں نماز پڑھے [التمهيد 371/6 وسنده صحيح]
● نیز دیکھئے [السنن الكبريٰ للبيهقي 236/2 وسنده صحيح، شرح معاني الآثار للطحاوي 377/1، ومجموع فتاويٰ ابن تيميه 117/22، ولفظه غريب]
➌ مرد کے لئے ننگے سر نماز پڑھنا جائز ہے لیکن حج و عمرے کے علاوہ بہتر یہ ہے کہ سر پر ٹوپی، رومال، عمامہ یا کپڑا ہو۔ دیکھئے میری کتاب: [هدية المسلمين حديث نمبر 10]
➍ عورت کو گھر میں چہرے کے علاوہ باقی جسم ڈھانک کر نماز پڑھنی چاہئے اور غیر مردوں کی موجودگی میں اپنا چہرہ بھی چھپانا چاہئے، یہ بہتر اور افضل ہے۔ نیز دیکھئے: [التمهيد 364/6]
[الموطأ رواية يحييٰ بن يحييٰ 140/1 ح 316، ك 8 ب 9 ح 30، التمهيد 363/6، الاستذكار: 286، و أخرجه البخاري 358، ومسلم 515، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ مردوں کے لئے ایک کپڑے مثلاً ایک چادر یا صرف قمیض میں نماز پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ کندھے ڈھکے ہوئے ہوں لیکن بہتر یہ ہے کہ دو (یا زیادہ) کپڑوں میں نماز پڑھیں۔
➋ کسی کام میں مشغولیت کی وجہ سے نافع رحمہ اللہ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے تو نماز کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں دو کپڑے نہیں دیئے تھے؟ نافع نے کہا: جی ہاں! ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں تمہیں ایک کپڑے میں باہر بھیجوں تو چلے جاؤ گے؟ نافع نے کہا: نہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اللہ اس کا مستحق ہے کہ اس کے لئے زینت اختیار کی جائے یا لوگ؟ نافع نے کہا: اللہ، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (یا عمر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: «إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ثَوْبَيْنِ فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا۔۔۔» اگر تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو ان میں نماز پڑھے [التمهيد 371/6 وسنده صحيح]
● نیز دیکھئے [السنن الكبريٰ للبيهقي 236/2 وسنده صحيح، شرح معاني الآثار للطحاوي 377/1، ومجموع فتاويٰ ابن تيميه 117/22، ولفظه غريب]
➌ مرد کے لئے ننگے سر نماز پڑھنا جائز ہے لیکن حج و عمرے کے علاوہ بہتر یہ ہے کہ سر پر ٹوپی، رومال، عمامہ یا کپڑا ہو۔ دیکھئے میری کتاب: [هدية المسلمين حديث نمبر 10]
➍ عورت کو گھر میں چہرے کے علاوہ باقی جسم ڈھانک کر نماز پڑھنی چاہئے اور غیر مردوں کی موجودگی میں اپنا چہرہ بھی چھپانا چاہئے، یہ بہتر اور افضل ہے۔ نیز دیکھئے: [التمهيد 364/6]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 12 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 966 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
966- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص کھڑا ہوا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز ادا کرسکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دوکپڑے ہوتے ہیں“؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا: جس نے ان سے سوال کیا تھا، کیا تم ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)کو جانتے ہو؟ وہ ایک ہی کپڑے میں نماز ادا کرلیتا ہے۔ حالانکہ اس کا دوسرا کپڑا کھونٹی پر لٹکا ہوا ہوتا ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:966]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنا درست ہے، اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام نے تنگ دستی کی حالت میں اسلام کے احکامات کو اپنا شعار بنائے رکھا۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنا درست ہے، اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام نے تنگ دستی کی حالت میں اسلام کے احکامات کو اپنا شعار بنائے رکھا۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 965 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 993 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
993- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کوئی بھی شخص یہ ہر گز نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے، تو میری مغفرت کردے۔ اے اللہ! اگر تو چاہے، تو مجھ پر رحم کر۔ آدمی کو پر عزم طریقے سے مانگنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:993]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دعا پورے وثوق سے کرنی چاہیے، نہ کہ تردد اور شک سے۔ اللہ تعالیٰ سے جب بھی سوال کرنا ہے یقین کی بنیاد پر کرنا ہے، اور اللہ تعالیٰ سے مانگنا عبادت ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دعا پورے وثوق سے کرنی چاہیے، نہ کہ تردد اور شک سے۔ اللہ تعالیٰ سے جب بھی سوال کرنا ہے یقین کی بنیاد پر کرنا ہے، اور اللہ تعالیٰ سے مانگنا عبادت ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 992 سے ماخوذ ہے۔