صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب دُنُوِّ الْمُصَلِّي مِنَ السُّتْرَةِ: باب: جائے نماز کا سترہ کے قریب ہونا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ الأَكْوَعِ ، " أَنَّهُ كَانَ يَتَحَرَّى مَوْضِعَ مَكَانِ الْمُصْحَفِ يُسَبِّحُ فِيهِ ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَتَحَرَّى ذَلِكَ الْمَكَانَ ، وَكَانَ بَيْنَ الْمِنْبَرِ ، وَالْقِبْلَةِ ، قَدْرُ مَمَرِّ الشَّاةِ " .حماد بن مسعدہ نے یزید بن ابی عبید سے اور انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ (سلمہ رضی اللہ عنہ) کوشش کر کے (مسجد نبوی میں) اس جگہ نفلی نماز پڑھتے جہاں مصحف (رکھا ہوا) تھا اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ کی کوشش فرماتے تھے اور (یہاں) منبر اور قبلے کی دیوار کے درمیان بکری کے راستے کے برابر فاصلہ تھا۔
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ ، قَالَ يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ، قَالَ : " كَانَ سَلَمَةُ ، يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَ الأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ ، فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ ، أَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَ هَذِهِ الأُسْطُوَانَةِ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَهَا " .مکی (بن ابراہیم) نے کہا: ہمیں یزید بن ابی عبید نے خبر دی، انہوں نے کہا: حضرت سلمہ (بن اکوع) رضی اللہ عنہ اس ستون کے پاس نماز پڑھنے کی جستجو کرتے جو مصحف کے پاس تھا۔ میں نے ان سے کہا: اے ابومسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ اس ستون کے پاس نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے قریب نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے دیکھا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
يَتَحَرّٰي: کوشش کرتے، اس کا انتخاب کرتے، یعنی اس جگہ کو ترجیح دیتے۔
(2)
مَكَانَ المُصْحَف: وہ جگہ، جہاں مسجد نبوی میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مصحف امام کے لیے صندوق رکھوایا تھا، جہاں اسطوانة المهاجرين (مہاجروں کے بیٹھنے کا ستون)
تھا۔
فوائد ومسائل: دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں محراب نہ تھا اس لیے منبر دیوار کے قریب رکھا گیا تھا منبر اور دیوار کا فاصلہ بکری گزرنے کے بقدر تھا اور آپﷺ منبر کے پاس کھڑے ہوتے تھے اس لیے آپﷺ کی سجدہ گاہ اور دیوار کا فاصلہ بقدر مَمَرََالشَّاۃ تھا۔