صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب سُتْرَةِ الْمُصَلِّي: باب: نمازی کا سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا استحباب، اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنا، اور گزرنے والے کا حکم اور گزرنے والے کو روکنا، نمازی کے آگے لیٹنے کا جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کا حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيِ الصَّفِّ ، فَنَزَلْتُ ، فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ " .مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں گدھی پر سوار ہو کر آیا، ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، میں صف کے سامنے سے گزرا اور اتر کر گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں داخل ہو گیا تو مجھے کسی نے اس پر نہیں ٹوکا۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ : " أَنَّهُ أَقْبَلَ يَسِيرُ عَلَى حِمَارٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَائِمٌ يُصَلِّي بِمِنًى فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، قَالَ : فَسَارَ الْحِمَارُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ ، ثُمَّ نَزَلَ عَنْهُ ، فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ " ،یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے کہا: گدھا صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرا، پھر وہ اس سے اتر کر لوگوں کے ساتھ صف میں مل گئے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، قَالَ : وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِعَرَفَةَ .سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ روایت بیان کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے۔ (ابن عباس اپنی سواری پر حج کر رہے تھے۔ یہ واقعہ ان کے ساتھ غالباً منیٰ اور عرفہ دونوں مقامات پر پیش آیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر جگہ سترے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔)
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ : مِنًى ، وَلَا عَرَفَةَ ، وَقَالَ : فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَوْ يَوْمَ الْفَتْحِ .معمر نے بھی زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ہے اور اس میں منیٰ یا عرفہ کا تذکرہ کرنے کے بجائے حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے دن کا ذکر کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت ابن عباس اس وقت نابالغ تھے، ان کا صف میں شریک ہونا اور وضو کرنا نماز پڑھنا ثابت ہوا۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ بلوغت سے پہلے بھی لڑکوں کو ضرورضرور نماز کی عادت ڈلوانی چاہیے۔
اسی لیے سات سال کی عمر سے نماز کا حکم کرنا ضروری ہے اور دس سال کی عمر ہونے پر ان کو دھمکا کر بھی نماز کا عادی بنانا چاہیے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب بچہ سمجھ داراور ہوشیار ہو جائے تو حامل حدیث ہو سکتا ہے لیکن ادائے حدیث کے لیے اس کا بالغ ہونا شرط ہے۔
امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ تحمل حدیث کے لیے راوی کی عمر کم ازکم پندرہ سال ہونی چاہیےکیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو احد کے دن جنگ میں شریک نہیں ہونے دیا تھا اسی طرح حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی جنگ بدر کے موقع پر واپس کردیا تھا، کیونکہ ان دونوں کی عمریں پندرہ سال سے کم تھیں لیکن امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تحمل حدیث کے لیے سمجھدار اور ہوشیار ہونا تو ضروری ہے لیکن عمر کی قید نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن صحابہ کو جنگ میں شریک نہیں کیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ جنگ میں قوت اور معاملہ فہمی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس لیے آپ نے چھوٹی عمر والوں کو واپس کردیا تھا البتہ تحمل حدیث کے لیے طاقت درکار نہیں ہوتی بلکہ اس کا مدار صرف ہوشیاری اورسمجھداری پر ہے۔
سمجھدار بچہ اگر بچپن کی کوئی بات بالغ ہونے کے بعد نقل کرتا ہے تو وہ معتبر ہوگی چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث سے محدثین نے کئی ایک مسائل کا استنباط کیا ہے۔
(فتح الباري: 225/1)
حضرت ابن عباس ؓ دوران جماعت میں رسول اللہ ﷺ کے آگے سے نہیں گزرے تھے بلکہ کچھ مقتدیوں کے آگے سے گزرے تھے۔
چونکہ امام کا سترہ لوگوں کاسترہ ہوتا ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان کی کوئی سرزنش نہیں فرمائی۔
جب جماعت ہورہی ہوتو امام کے آگے سے اور جب نمازی اکیلا پڑھ رہا ہوتو اس کے آگے سے گزرنا سخت منع ہے۔
امام اور انفرادی نماز پڑھنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آگے سترہ ضرور رکھیں۔
چونکہ اس حدیث میں حجۃ الوداع کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو ذکر فرمایا ہے۔
باوجود اس کے انہوں نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ حج کیا، امام بخاری ؒ نے باب کا مطلب اسی سے ثابت فرمایا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: میں اور فضل دونوں اپنی ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے (پھر انہوں نے ایک بات کہی جس کا مفہوم تھا:) تو ہم صف کے کچھ حصہ سے گزرے، پھر ہم اترے اور ہم نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نہیں کہا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 753]
اس لیے یہ روایت اس باب کے تحت نہیں آنی چاہیے تھی۔ بعض لوگوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ گدھے کا گزرنا نماز نہیں توڑتا، مگر یہ استدلال کمزور ہے کیونکہ توڑنے نہ توڑنے کی بحث اس وقت ہے جب آگے سترہ نہ ہو اور وہ سترے اور نمازیوں کے درمیان سے گزری ہو۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزرے، پھر ہم سواری سے اترے اور گدھی کو چھوڑ دیا، پھر ہم صف میں شامل ہو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 947]
فائدہ: اس سے معلوم ہواکہ نمازی کے آگے سے گدھا گزر جائے تو نماز نہیں ٹوٹتی جب کہ حدیث 950 تا 952 میں آرہا ہے۔
کہ گدھے کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
لیکن نماز نہ ٹوٹنے پر اس حدیث سےاستدلال قوی نہیں کیونکہ امام کا سترہ مقتدیوں کے لئے کافی ہوتا ہے اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے امام نبی اکرمﷺ کے سامنے سے نہیں گزرے تھے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گدھا نا پاک نہیں ہے، صرف اس کا گوشت کھانا حرام ہے، اس پر سوار ہونا ٹھیک ہے، تمام مقتدیوں کا سترہ امام کا سترہ ہی ہوتا ہے، ان کو سترہ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اس حدیث سے تقریری حدیث کی حجیت ثابت ہوتی ہے۔