حدیث نمبر: 503
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ بِالأَبْطَحِ ، فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ ، قَالَ : فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوئِهِ ، فَمِنْ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ ، قَالَ : فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ ، هَا هُنَا ، وَهَهُنَا ، يَقُولُ : يَمِينًا وَشِمَالًا ، يَقُولُ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، قَالَ : ثُمَّ رُكِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ ، فَتَقَدَّمَ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ، يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ ، لَا يُمْنَعُ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ " .

سفیان نے بیان کیا: ہمیں عون بن ابی جحیفہ نے اپنے والد (حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ ابطح کے مقام پر چمڑے کے ایک سرخ خیمے میں (قیام پذیر) تھے۔ (ابوجحیفہ نے) کہا: بلال رضی اللہ عنہ آپ کے وضو کا پانی لے کر باہر آئے (بعدازاں جب آپ نے وضو کر لیا تو) اس میں سے کسی کو پانی مل گیا اور کسی نے (دوسرے سے اس کی) نمی لے لی۔ انہوں نے کہا: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ حلہ (لباس کے اوپر لمبا چوغہ) پہنے ہوئے نکلے، (ایسا لگتا ہے) جیسے (آج بھی) میں آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں۔ آپ نے وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، انہوں نے کہا: میں بھی ان کے منہ کے پیچھے اس طرح اور اس طرف رخ کرنے لگا، (جب) وہ «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کہہ رہے تھے تو انہوں نے دائیں بائیں رخ کیا، کہا: پھر آپ کے لیے نیزہ گاڑا گیا اور آپ نے آگے بڑھ کر ظہر کی دو رکعتیں (قصر) پڑھائیں، آپ کے آگے سے گدھا اور کتا گزرتا تھا، انہیں روکا نہ جاتا تھا، پھر آپ نے عصر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر مدینہ واپسی تک مسلسل دو رکعتیں ہی پڑھاتے رہے۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ " رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ ، وَرَأَيْتُ بِلَالًا أَخْرَجَ وَضُوءًا ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ ذَلِكَ الْوَضُوءَ ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا ، تَمَسَّحَ بِهِ ، وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ ، أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ ، ثُمَّ رَأَيْتُ بِلَالًا أَخْرَجَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمِّرًا ، فَصَلَّى إِلَى الْعَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيِ الْعَنَزَة " .

عون بن ابی جحیفہ سے روایت ہے کہ اس کے باپ نے رسول اللہ ﷺ کو چمڑے کے سرخ خیمہ میں دیکھا، اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا، اس نے آپﷺ کے وضو کا پانی باہر نکالا اس نے کہا تو میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس پانی کو لینے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کو اس سے کچھ پانی مل گیا، اس نے اس کو بدن پر مل لیا اور جس کو نہ ملا اس نے اپنے ساتھی کے تر ہاتھ سے ہاتھ تر کیا، پھر میں نے بلال کو دیکھا، اس نے ایک نیزہ نکالا اور اس کو گاڑا اور رسول اللہ ﷺ سرخ جوڑے میں اس کو اوپر اٹھائے ہوئے نکلے یا جلدی سے نکلے اور نیزہ کی طرف رخ کر کے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور میں نے لوگوں اور چوپاؤں کو دیکھا وہ نیزہ کے سامنے سے گزر رہے تھے۔

حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ ، وَعُمَرَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ : فَلَمَّا كَانَ بِالْهَاجِرَةِ ، خَرَجَ بِلَالٌ ، فَنَادَى بِالصَّلَاةِ .

امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے روایت بیان کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے زیادہ بیان کرتا ہے، مالک بن مغول کی حدیث میں ہے جب تم میں سے کوئی دوپہر کا وقت ہوا، بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نکل کر نماز کے لیے اذان دی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ إِلَى الْبَطْحَاءِ ، فَتَوَضَّأَ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ " ، قَالَ شُعْبَةُ : وَزَادَ فِيهِ عَوْنٌ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، وَكَانَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ .

محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: سخت گرمی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء کی طرف نکلے، وضو کر کے اس عالم میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے سامنے نیزہ تھا۔ شعبہ نے کہا: عون نے اپنے والد ابوجحیفہ سے (روایت کرتے ہوئے) یہ اضافہ کیا کہ نیزے کی دوسری طرف سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مِثْلَهُ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ الْحَكَمِ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ .

امام صاحب اپنے اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں جس میں یہ اضافہ کیا ہے لوگ آپﷺ کے وضو کے بچے باقی ماندہ پانی کو حاصل کر رہے تھے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 503
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3566 | صحيح مسلم: 503 | سنن نسائي: 471 | معجم صغير للطبراني: 452

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عون بن ابی جحیفہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپﷺ ابطح مقام پر سرخ چمڑے کے ایک خیمہ میں تھے تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپﷺ کے وضو کا پانی لے کر نکلے، کسی کو پانی مل گیا اور کسی پر دوسرے نے چھڑک دیا پھر نبی اکرم ﷺ سرخ جوڑا پہنے ہوئے نکلے، گویا کہ میں آپﷺ کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں، آپﷺ نے وضو کیا، اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان کہی، اور میں ان کے منہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1119]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
نَائِل: اخذ کرنا، لینا، نَالَ، يَنَالُ سے، نَاضِح: چھڑکنا یعنی بعض تو براہ راست پانی لے رہے تھے اور بعض پر پانی لینے والے چھڑک رہے تھے۔
(2)
حُلَّة حَمرَاء: حلہ جوڑا، ایک باندھنے کے لیے تہبند اور دوسری اوڑھنے کی چادر۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ وضو میں استعمال ہونے والا پانی پلید نہیں ہے اس لیے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین آپﷺ کے وضوء پر جھپٹتے تھے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے آپﷺ کے غسالہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا تبرک حاصل کرنا اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ بزرگوں کے آثار سے تبرک حاصل کرنا جائز ہے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور بڑی شخصیت کے لیے نہیں کیا خلفائے راشدین سے افضل اور برتر کونسا بزرگ ہو سکتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ان کے آثار سے تبرک حاصل نہیں کیا اور آپﷺ کے فضلات کا کیا حکم ہے؟ اب اس پر بحث کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ پاک تھے یا پلید تو یہ آپﷺ کی زندگی کے دور کا مسئلہ تھا آپﷺ کے لعاب دہن اور وضو کے پانی پر تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جھپٹتے تھے بول وبراز خون کے سلسلہ میں تو یہ واقعہ پیش نہیں آیا تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 503 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3566 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3566. حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیاگیا جبکہ آپ ابطح نامی وادی میں ایک خیمے کے اندر تشریف فر تھے۔ دوپہر کے وقت حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر آئے اور نماز کے لے اذان کہی۔ پھر اندر چلے گئے اور رسول اللہ ﷺ کے وضو سے بچاپانی لے کر برآمد ہوئے تو لوگ اس پانی پر ٹوٹ پڑے اور اس پانی کو حاصل کرنے لگے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر اندرگئے اورایک نیزہ باہر نکال لائے۔ اس دوران میں رسول اللہ ﷺ بھی باہر تشریف لائےگویا میں رسول اللہ ﷺ کی پنڈلیوں کی چمک کو اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ن نیزہ گاڑدیا۔ پھر آپ ﷺ نے ظہر اورعصر کی دو، دورکعتیں پڑھائیں اورآپ کے آگے سے گدھے اور عورتیں گزر رہی تھیں۔ (جس سے نماز میں کوئی خلل نہ پڑا۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3566]
حدیث حاشیہ: برچھی سترہ کے طورپر آپ کے آگے گاڑدی گئی تھی۔
ترجمہ باب اس سے نکلا کہ آپ کی پنڈلیاں نہایت خوبصورت اور چمکدار تھیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3566 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3566 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3566. حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیاگیا جبکہ آپ ابطح نامی وادی میں ایک خیمے کے اندر تشریف فر تھے۔ دوپہر کے وقت حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر آئے اور نماز کے لے اذان کہی۔ پھر اندر چلے گئے اور رسول اللہ ﷺ کے وضو سے بچاپانی لے کر برآمد ہوئے تو لوگ اس پانی پر ٹوٹ پڑے اور اس پانی کو حاصل کرنے لگے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر اندرگئے اورایک نیزہ باہر نکال لائے۔ اس دوران میں رسول اللہ ﷺ بھی باہر تشریف لائےگویا میں رسول اللہ ﷺ کی پنڈلیوں کی چمک کو اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ن نیزہ گاڑدیا۔ پھر آپ ﷺ نے ظہر اورعصر کی دو، دورکعتیں پڑھائیں اورآپ کے آگے سے گدھے اور عورتیں گزر رہی تھیں۔ (جس سے نماز میں کوئی خلل نہ پڑا۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3566]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسرتی پنڈلیوں کاذکر ہے کہ وہ سفید اور چمک دار تھیں۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں زیادہ بھاری بھرکم اور پُرگوشت نہ تھیں بلکہ ہلکی ہلکی سونتی ہوئی تھیں۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 513/11)
حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوارتھے،میں نے قریب ہوکر آپ کی پنڈلی کا مشاہدہ کیا جو سفید رنگت اور لطافت میں خوشئہ کھجور کے اندرونی گودے کی طرح تھی۔
(دلائل النبوة: 207/1)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3566 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 503 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دوپہر کے وقت رسول اللہ ﷺ بطحاء کی طرف نکلے اور وضو کر کے ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے سامنے نیزہ تھا، شعبہ نے کہا، عون نے اپنے باپ ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ اضافہ کیا کہ نیزہ کے پار سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1122]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سفر میں دونوں نمازیں اکٹھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
(جمع بھی تقدیم ہے)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 503 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 471 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سفر میں ظہر کی نماز کا بیان۔`
حکم بن عتیبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر میں نکلے (ابن مثنی کی روایت میں ہے: بطحاء کی طرف نکلے) تو آپ نے وضو کیا، اور ظہر کی نماز دو رکعت پڑھی، اور عصر کی دو رکعت پڑھی، اور آپ کے سامنے نیزہ (بطور سترہ) تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 471]
471۔ اردو حاشیہ: آپ کے آگے عنزہ (چھوٹا نیزہ) سترے کے طور پر گاڑا گیا تھا، لہٰذا کھلی یا بند جگہ میں سترہ ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 471 سے ماخوذ ہے۔