صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب الاِعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ وَوَضْعِ الْكَفَّيْنِ عَلَى الأَرْضِ وَرَفْعِ الْمِرْفَقَيْنِ عَنِ الْجَنْبَيْنِ وَرَفْعِ الْبَطْنِ عَنِ الْفَخِذَيْنِ فِي السُّجُودِ: باب: سجدوں میں میانہ روی اور سجدہ میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے اور کہنیوں کو پہلوؤں سے اوپر رکھنے اور پیٹ کو رانوں سے اوپر رکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا سَجَدَ ، خَوَّى بِيَدَيْهِ ، يَعْنِي جَنَّحَ ، حَتَّى يُرَى وَضَحُ إِبْطَيْهِ مِنْ وَرَائِهِ ، وَإِذَا قَعَدَ ، اطْمَأَنَّ عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى " .نبی اکرم ﷺ کی زوجہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کشادہ کرتے یعنی کھولتے، حتیٰ کہ پیچھے سے آپﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی اور جب بیٹھتے تو بائیں ران پر بیٹھتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا سَجَدَ ، جَافَى ، حَتَّى يَرَى مَنْ خَلْفَهُ وَضَحَ إِبْطَيْهِ " ، قَالَ وَكِيعٌ : يَعْنِي بَيَاضَهُمَا .وکیع نے کہا: ہمیں جعفر بن برقان نے یزید بن اصم سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو (دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے) دور رکھتے یہاں تک کہ جو آپ کے پیچھے ہوتا وہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ سکتا تھا۔ وکیع نے کہا: (وضح سے) مراد بغلوں کی سفیدی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے پہلو سے جدا رکھتے یہاں تک کہ اگر کوئی بکری کا بچہ آپ کے ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1110]
➋ یہ ہیئت خشوع و خضوع اور تواضع کے زیادہ قریب ہے۔
➌ امہات المؤمنین کی فضیلت کہ انہوں نے نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقۂ عبادت کو بغور دیکھا اور سمجھا، بعد ازاں امت تک ایسے واضح انداز سے پہنچایا کہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہا……… رضي اللہ عنھن………
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے پہلو سے جدا رکھتے یہاں تک کہ آپ کے پیچھے آپ کے بغل کی سفیدی نظر آتی، اور جب بیٹھتے تو اپنی بائیں ران زمین پر لگا کر بیٹھتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1148]
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلو سے الگ رکھتے کہ اگر ہاتھ کے بیچ سے کوئی بکری کا بچہ گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 880]
فائدہ: سجدہ کرتےوقت بازو پہلووں سے اور پیٹ رانوں سے الگ ہونا چاہیے۔
اس حدیث میں سجدے کی کیفیت کا بیان ہے کہ سجدہ میں پیٹ کو اس قدر رانوں سے جدا رکھنا چاہیے کہ اگر نیچے سے بکری کا بچہ بھی گزرنا چا ہے تو گزر جائے۔ مرد وعورت کے سجدہ کرنے کے طریقے میں کوئی فرق نہیں ہے۔