صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب أَعْضَاءِ السُّجُودِ وَالنَّهْيِ عَنْ كَفِّ الشَّعْرِ وَالثَّوْبِ وَعَقْصِ الرَّأْسِ فِي الصَّلاَةِ: باب: سجدوں کے اعضاء کا بیان، اور بالوں اور کپڑوں کے سمیٹنے کی ممانعت اور جوڑا باندھ کر نماز پڑھنے کا بیان۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ ، وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرَهُ وَثِيَابَهُ " ، هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى ، وقَال أَبُو الرَّبِيعِ : عَلَى سَبْعَةِ ، أَعْظُمٍ ، وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرَهُ ، وَثِيَابَهُ الْكَفَّيْنِ ، وَالرُّكْبَتَيْنِ ، وَالْقَدَمَيْنِ ، وَالْجَبْهَةِ .یحییٰ اور ابوربیع نے حدیث بیان کی، یحییٰ نے کہا: حماد بن زید نے ”ہمیں خبر دی“ اور ابوربیع نے کہا: ”ہمیں حدیث سنائی“، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ سات ہڈیوں (والے اعضاء) پر سجدہ کیا کریں اور آپ کو بالوں اور کپڑوں کو اڑسنے سے منع کیا گیا۔ یہ یحییٰ کی حدیث ہے اور ابوربیع نے کہا: سات ہڈیوں (والے اعضاء) پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور اپنے بالوں اور اپنے کپڑوں کو اڑسنے سے منع کیا گیا (سات اعضاء سے) دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے، دونوں قدم اور پیشانی (مراد ہیں۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ ، وَلَا أَكُفَّ ثَوْبًا ، وَلَا شَعْرًا " .شعبہ نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا کہ میں سات ہڈیوں (والے اعضاء) پر سجدہ کروں اور یہ کہ میں (نماز میں) نہ کپڑا اڑسوں اور نہ بال۔“
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ ، وَنُهِيَ أَنْ يَكْفِتَ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ " .سفیان بن عیینہ نے (عبداللہ) بن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ سات (اعضاء) پر سجدہ کریں اور بالوں اور کپڑوں کو اڑسنے سے روکا گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ الْجَبْهَةِ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ ، وَالْيَدَيْنِ ، وَالرِّجْلَيْنِ ، وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ ، وَلَا نَكْفِتَ الثِّيَابَ ، وَلَا الشَّعْرَ .وہیب نے عبداللہ بن طاؤس سے حدیث بیان کی، انہوں نے (اپنے والد) طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سات ہڈیوں: پیشانی، اور (ساتھ ہی) آپ نے اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کی طرف اشارہ کیا، دونوں ہاتھوں، دونوں ٹانگوں (گھٹنوں) اور دونوں پاؤں کے کناروں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ کہ ہم (نماز پڑھتے ہوئے) کپڑوں اور بالوں کو نہ اڑسیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ ، وَلَا أَكْفِتَ الشَّعْرَ ، وَلَا الثِّيَابَ الْجَبْهَةِ ، وَالأَنْفِ ، وَالْيَدَيْنِ ، وَالرُّكْبَتَيْنِ ، وَالقَدَمَيْنِ " .حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سات (اعضاء) پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کا کہ بالوں کو نہ سمیٹنوں اور نہ کپڑوں کو، پیشانی اور ناک، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں قدموں پر۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
أَن يَّكُفَّ: كف روکنا، یا زمین پر گرنے سے سمیٹنا اور اکٹھا کرنا۔
اور کفت کا معنی بھی جمع کرنا اور سمیٹنا ہے۔
یعنی باب اور حدیث میں مطابقت یہ ہے کہ جب بالوں کو لپیٹا نہ جاے تو وہ بھی سر کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں۔
جیسے دوسری روایت میں ہے سنن ابو داؤد میں مرفوعاً روایت ہے کہ بالوں کے جوڑے پر شیطان بیٹھ جاتا ہے سات اعضاءجن کا سجدہ میں زمین پر لگنا فرض ہے۔
ان کا تفصیلی بیان تیسرے پارے میں گزر چکا ہے
(1)
اس حدیث میں سر کے بال مراد ہیں۔
انہیں دوران نماز میں سمیٹنے کی ممانعت ہے کیونکہ وہ بھی نمازی کے ساتھ اللہ کے حضور سجدہ کرتے ہیں۔
اگر انہیں سمیٹ کر جوڑا بنا لیا جائے تو دوران نماز میں وہ شیطان کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔
جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابو رافع نے حضرت حسن بن علی کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے بالوں کو سمیٹ کر گدی پر جمع کر رکھا تھا تو انہوں نے انہیں کھول دیا اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے بیان کیا کہ ایسا کرنا شیطان کو بیٹھنے کے لیے جگہ مہیا کرنا ہے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 646) (2)
دوران نماز میں بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنے کا حکم امتناعی نماز کے ساتھ خاص ہے یا اپنے عموم پر ہے؟ اس کے متعلق بعض فقہاء کا خیال ہے کہ دوران نماز میں ایسا کرنا منع ہے۔
اگر نماز سے پہلے اپنے بالوں اور کپڑوں کو سمیٹ لیا جائے اور اسے حالت میں نماز پڑھ لی جائے تو ممانعت نہیں لیکن جمہور محدثین نے اس حکم امتناعی کو عموم پر محمول کیا ہے کہ اس حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت ہے، خواہ دوران نماز میں ہو یا نماز کے علاوہ کپڑوں اور بالوں کو سمیٹ لیا جائے، بہرحال اس حالت میں نماز پڑھنا درست نہیں۔
(3)
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ شرح تراجم بخاری میں لکھتے ہیں کہ نماز مہذبانہ شکل و صورت میں ادا کرنی چاہیے۔
بالوں کو سمیٹنا اور انہیں سر پر جوڑا بنا لینا عربوں کے ہاں غیر مہذب عادت تھی، اس لیے یہ حالت نماز کے لیے غیر موزوں قرار دی گئی ہے۔
لیکن ہمارے نزدیک بالوں کو کھلا چھوڑ کر نماز پڑھنے کا استحباب اس لیے ہے کہ بال بھی سجدہ کرتے ہیں، اس لیے انہیں سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
اگر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی بات مان لی جائے تو حکم امتناعی صرف وقتی حالات کے پیش نظر ہو گا کیونکہ اگر کسی وقت لوگ بالوں کو باندھنا یا انہیں سمیٹ کر رکھنا اچھا خیال کرتے ہوں تو کیا اس وقت ایسی حالت میں نماز پڑھنا مستحسن ہو گا؟ ہرگز نہیں! اس لیے نماز کے معاملات کو خارجی عادات کے ساتھ مربوط نہیں کرنا چاہیے۔
واللہ أعلم۔
امام بخاری ؒ نے اس عنوان میں پورے وثوق سے کوئی حکم بیان نہیں کیا، اس لیے مقصود بیان کرنے میں شارحین کا اختلاف ہے۔
شاید امام صاحب ؒ اس بات پر تنبیہ کرنا چاہتے ہوں کہ ناک کا زمین پر رکھنے کا حکم پیشانی جیسا ہے، البتہ بعض شارحین نے اس عنوان سے یہ مسئلہ کشید کیا ہے کہ سجدہ کرتے ہوئے صرف ناک پر اکتفا جائز ہے۔
یہ موقف صحیح نہیں کیونکہ شریعت نے ناک اور پیشانی کو ایک عضو قرار دیا ہے۔
ویسے بھی ناک کی اوپر والی ہڈی کا آغاز پیشانی کی ہڈی سے ہوتا ہے، اس لیے ناک کو پیشانی سے کیونکر الگ کیا جا سکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ناک کی طرف اشارہ یہ بتانے کے لیے فرمایا کہ پیشانی پر سجدے کی تکمیل تب ہو گی جب اس کے ساتھ ناک کو بھی زمین پر رکھا جائے۔
واضح رہے کہ فقہاء نے اس سلسلے میں ایک عجیب جزی بیان کی ہے کہ اگر سجدے میں دونوں ہاتھوں اور دونوں گھٹنے زمین پر نہ رکھے جائیں تو اجماع ہے کہ نماز صحیح ہے۔
(فتاوٰی عالمگیری (عربی)
: 70/1)
یہ موقف مذکورہ حدیث کے خلاف ہے، نیز عقل بھی اسے تسلیم نہیں کرتی۔
بھلا دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے زمین پر رکھے بغیر سجدہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے۔
ان احادیث کا حاصل یہ ہے کہ ساتوں اعضائے سجدہ بھی نمازی ہیں، یہ نہیں کہ سجدہ تو نماز پڑھنے والا کرتا ہے اور مذکورہ اعضاء اس کے سجدے کے لیے صرف معاون اور ذریعہ ہیں۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ نمازی کے بال بھی سجدہ کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دوران نماز میں کپڑوں اور بالوں کو سمیٹنے سے منع فرمایا گیا ہے لیکن کپڑے سمیٹنے کی ممانعت کو عام اور مطلق نہ سمجھا جائے کیونکہ اگر ستر کھلنے کا اندیشہ ہو تو کپڑوں کو سمیٹا جا سکتا ہے۔
دراصل پیشانی کا زمین پر رکھنا ہی سجدہ ہے اور ناک بھی پیشانی میں داخل ہے، لہٰذا ناک اور پیشانی دونوں کا زمین پر رکھنا ضروری ہے، چنانچہ بعض روایات میں پیشانی کی صراحت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے ناک کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 812)
اس سے معلوم ہوا کہ پیشانی اور ناک بمنزلہ وضو واحد ہیں۔
اگر انہیں الگ الگ شمار کیا گیا تو اعضائے سجدہ کی تعداد سات نہ رہے گی بلکہ آٹھ ہو جائے گی۔
تجربہ بھی اس بات کا شاہد ہے کہ جب پوری پیشانی زمین پر رکھی جائے تو ناک بھی اس کے ساتھ زمین پر ٹکے گی۔
اگر ناک زمین پر نہ رکھی جائے تو پیشانی کا کچھ حصہ زمین پر ٹکنے سے رہ جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے ناک کی طرف اشارہ کر کے یہ بتایا ہے کہ پیشانی پر سجدے کی تکمیل اسی وقت ممکن ہے جب ناک بھی اس کے ساتھ زمین پر رکھی جائے۔
سر کے بال اگر اتنے بڑے ہیں کہ سجدہ کے وقت زمین پر پڑجائیں یا نماز پڑھتے وقت کپڑے گرد آلود ہو جائیں تو کپڑے اور بالوں کو گرد وغبار سے بچانے کے لیے سمیٹنا نہ چاہیے کہ یہ نماز میں خشوع اور استغراق کے خلاف ہے۔
اور نماز کی اصل روح خشوع حضوع ہی ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ہے ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ ”یعنی مومن وہ ہیں جو خشوع کے ساتھ دل لگا کر نماز پڑھتے ہیں۔
‘‘ دوسری آیت ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ ” کا بھی یہی تقاضا ہے یعنی نمازوں کی حفاظت کرو خاص طور پر درمیان والی نمازکی اور اللہ کے لیے فرمانبردار بندے بن کر کھڑے ہو جاؤ۔
‘‘ یہاں بھی قنوت سے خشوع وخضوع ہی مراد ہے۔
(1)
علامہ عینی ؒ نے داودی کے متعلق لکھا ہے کہ ان کے نزدیک دوران نماز میں بالوں کو اکٹھا کرنا اور کپڑوں کو سمیٹنا، پھر اسی حالت میں نماز پڑھنا منع ہے۔
اگر کوئی نماز سے پہلے بالوں کو اکٹھا کرے اور کپڑوں کو سمیٹ لے اور پھر نماز پڑھے تو ممانعت نہیں جبکہ جمہور محدثین کا موقف ہے کہ اس حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت ہے، خواہ یہ عمل نماز سے پہلے کرے یا دوران نماز میں سر انجام دے۔
(عمدة القاري: 557/4)
بعض شارحین نے امام بخاری رحمہ اللہ کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے کف شعر کے عنوان کو مطلق رکھا ہے اور کف ثیاب کو نماز کے ساتھ مقید کیا ہے۔
اس سے انہوں نے یہ مسئلہ کشید کیا ہے کہ امام بخاری ؒ نے کپڑوں کے متعلق داودی کے موقف کو اختیار کیا ہے، حالانکہ امام بخاری ؒ کی باریک بینی اور دقت نظری کے پیش نظر یہ موقف درست نہیں یہ ان کا تفنن اور اسلوب بیان ہے۔
اس سے داودی کی موافقت کا اندازہ لگانا سخن سازی اور کور ذوقی ہے۔
(2)
واضح رہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث کو پانچ مختلف طرق سے بیان کیا ہے اور ہر ایک طریق پر ایک نیا عنوان قائم کیا ہے۔
ایسے فقیہ اور مجتہد سے یہ بعید ہے کہ وہ ظاہر بین داودی کی موافقت کر کے حرفیت پسندی کا ثبوت دیں گے۔
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے طاؤس سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کا حکم دیا گیا، اس طرح کہ نہ بالوں کو اپنے سمیٹتے نہ کپڑے کو (وہ سات اعضاء یہ ہیں) پیشانی (مع ناک) دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔ [صحيح بخاري 809]
بعض لوگ عن والی روایت پر اعتراض کرتے ہیں کہتے ہیں، سماع کی تصریح یا متابعت ثابت کریں۔
اس روایت میں متابعت یا تصریح سماع ثابت ہے۔ الحمدللہ
(10) صحیح بخاری باب السجود علی سعۃ اعظم ج1 ص113 (ح 809) اس میں شعبہ وغیرہ نے سفیان کی متابعت کی ہے۔ حوالہ مذکورہ (ح 810)
حوالہ: فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) جلد 2، ص 315
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حماد بن زید کی روایت میں ہے: تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور یہ کہ آپ نہ بال سمیٹیں اور نہ کپڑا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 889]
سجدے میں اپنے سر یا داڑھی کے بالوں کو مٹی سے بچاتے ہوئے سمیٹنا درست نہیں اور ایسے ہی کپڑوں کو بھی نہیں سمیٹنا چاہیے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور بال اور کپڑے سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1116]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سات اعضاء: پیشانی اور ناک، دونوں ہتھیلی، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر پر سجدہ کروں، اور بال اور کپڑے نہ سمیٹوں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1097]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے: پیشانی پر، اور آپ نے اپنے ہاتھ سے ناک پر کا اشارہ کیا، اور دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر کے کناروں یعنی انگلیوں پر۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1098]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، اور بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنے سے روکا گیا: اپنی دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنے اور انگلیوں کے سروں پر۔ سفیان کہتے ہیں: ابن طاؤس نے اپنے دونوں ہاتھ پیشانی پر رکھے، اور انہیں اپنی ناک پر گزارا، اور کہا: یہ سب ایک ہے۔ امام نسائی کہتے ہیں: یہ الفاظ محمد بن منصور کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1099]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء ۱؎ پر سجدہ کریں، اور اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹیں ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1094]
➋ سجدے میں جاتے وقت بال یا کپڑوں کو مٹی سے بچانے کے لیے اکٹھا نہیں کرنے چاہئیں بلکہ انہیں زمین پر لگنے دیں۔ اس سے عاجزی پیدا ہو گی، تکبر کی نفی ہو گی، نیز وہ بھی سجدہ کرتے ہیں، اکٹھا کرنے سے ان کا سجدہ نہیں ہو گا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں، اور بال اور کپڑے نہ سمیٹوں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1114]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں نماز میں بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1040]
فوائد ومسائل: (1)
بال سمیٹنے کامطلب یہ ہے کہ انھیں اکھٹا کرکے اس طرح جوڑا بنا لیا جائے۔
جس طرح عورتیں جوڑا بنا لیتی ہیں۔
نماز میں اس طرح کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اگر پہلے سے جوڑا بنایا ہوا ہوتو کھول کر نماز پڑھیں۔
(2)
کپڑے سمیٹنے کا مفہوم یہ ہے کہ سجدہ کرتے وقت کپڑوں کو مٹی سے بچانے کےلے سمیٹنے کی کوشش کرنا مناسب نہیں۔
(3)
حدیث کے ظاہر الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی حالت میں یہ کام ممنوع ہیں۔
لیکن سلف نے کہا ہے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے بھی بال اکھٹے ہوں یا کپڑے سمٹے ہوئے ہوں تو انھیں کھول دیا جائے اور پھر نمازشروع کی جائے۔ (المرعاة وإنجاز الحاجة)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 883]
’’سات ہڈیوں‘‘ سے مراد جسم کےسات اعضاء ہیں جن کی وضاحت اگلی حدیث میں ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات (اعضاء) پر سجدہ کروں، اور بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں۔“ ابن طاؤس کہتے ہیں کہ (وہ سات اعضاء یہ ہیں): دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، دونوں قدم، اور وہ پیشانی و ناک کو ایک شمار کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 884]
فوائد و مسائل:
(1)
سات اعضاء پرسجدہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سجدے میں یہ ساتوں اعضاء زمین پر لگنے چاہییں۔
(2)
ناک اور ماتھے کو ایک اعضاء اس لئے شمار کیا گیا کیونکہ اگلی حدیث میں اس کےلئے ’’چہرے‘‘ کا لفظ آیا ہے۔
(3)
سجدہ کرتے وقت اگر بال زمین پر لگتے ہوں تو پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔
بالوں کپڑوں وغیرہ کو زمین پر موجود معمولی سی گردوغبار سے بچانے کی کوشش میں سجدے اور اس کے اذکار کی طرف توجہ نہیں رہتی۔
جو نماز میں نقص کا باعث ہے۔
(4)
بالوں کوسمیٹنے کا مطلب اس کا جوڑا بنانا بھی ہے۔
جو نماز میں منع ہے عورتوں کو بھی چاہیے کہ نماز میں چوٹی کو جوڑے کی طرح نہ لپیٹیں۔
بلکہ لٹکی رہنے دیں۔
(5)
وضو کرنے کےلئے قمیض وغیرہ کے جو بازو چڑھائے گئے ہوں نماز شروع کرنے سے پہلے انھیں کھول لیا جائے۔
«. . . وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «أمرت أن أسجد على سبعة أعظم: على الجبهة - وأشار بيده إلى أنفه - واليدين والركبتين وأطراف القدمين» . متفق عليه. . . .»
”. . . سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ مجھے سات ہڈیوں (اعضاء) پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔“ اپنے دست مبارک سے اشارہ کر کے فرمایا ’’ پیشانی و ناک پر اور دونوں ہاتھوں اور دونوں گھٹنوں اور دونوں قدموں پر۔“ (بخاری و مسلم) . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 234]
«أُمِرْتُ» صیغہ مجہول ہے۔ حکم صادر فرمانے والا اللہ تعالیٰ ہے۔
«أَعْظُمٍ» ”ظا“ پر ضمہ ہے، «عَظْمٌ» کی جمع ہے۔ اور ناک کی جانب اشارہ اس بات کی دلیل ہے کہ پیشانی اصل ہے اور ناک اس کے تابع ہے۔ حدیث مذکور اس پر دلالت کرتی ہے کہ مذکورہ بالا سات اعضاء پر اکٹھے سجدہ کرنا واجب ہے، اس لیے کہ امر وجوب کے لیے آتا ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیشانی اور ناک دونوں مل کر ایک عضو ہے۔ اگر انہیں الگ الگ عضو شمار کیا جائے تو یہ آٹھ اعضاء بن جاتے ہیں، اس لیے ان دونوں کو ایک ہی عضو شمار کیا جانا چاہیے۔ امام مالک، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہم اللہ تینوں امام اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے شاگردان رشید: امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ بھی اس کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص صرف پیشانی یا صرف ناک زمین پر رکھ کر سجدہ کرے تو یہ سجدہ ناتمام متصور ہو گا بلکہ اسے سجدہ ہی شمار نہیں کیا جائے گا۔ اس کے برعکس امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں الگ الگ عضو ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک عضو اگر زمین پر رکھا گیا تو سجدہ ہو جائے گا اور کسی قسم کا کوئی نقص نہیں رہے گا۔ لیکن ایک تو یہ اکثریت کے خلاف ہے کیونکہ تین امام اور دو مزید حنفی امام ایک طرف اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تنہا ایک طرف۔ پھر یہ مذکورہ بالا حدیث کے بھی خلاف ہے، اس لیے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی رائے کمزور ہے۔
➋ مصنف ابن ابی شیبہ میں سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ سے مرسلاً مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے نمازی کے پاس سے ہوا جس کی ناک زمین پر نہیں لگ رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی کی پیشانی اور ناک زمین پر نہ لگے اس کی تو نماز ہی نہیں ہوتی۔“ [المصنف لابن ابي شيبه: 2356، رقم: 2695] یعنی ناک اور پیشانی دونوں کا حالت سجدہ میں زمین پر لگنا ضروری ہے۔ خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ سجدہ ساتوں اعضاء پر کیا جانا چاہیے ورنہ سجدہ صحیح نہیں ہو گا۔
اس حدیث میں سجدے کے سات اعضاء بیان کیے گئے ہیں۔ حدیث نمبر (501) میں ان کی تفصیل موجود ہے، سجدے میں یہ سات کے سات اعضاء ہی زمین پر لگنے چاہئیں بعض لوگ ناک کو زمین پر نہیں لگاتے، حالانکہ ناک زمین پر لگانا واجب ہے۔ اس حدیث میں نماز میں بالوں کا جوڑا بنا کر سر کے اوپر باندھنے سے منع کیا گیا ہے، اور نماز میں کپڑوں کو اکٹھا کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے، بعض لوگ نماز میں اپنے کپڑوں اور بالوں کو سنوارتے رہتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔
سجدے کے اعضاء کی فضیلت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنمیوں میں سے جن پر اللہ تعالیٰ رحم فرمانا چاہیں گے تو ملائکہ کو حکم دیں گے کہ جو خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے، انھیں باہر نکالو، چنانچہ وہ ان کو باہر نکالیں گے، اور موحدوں کو سجدے کے آثار سے ہی پہچانیں گے، اللہ تعالیٰ نے جہنم پر سجدے کے آ ثار کو جلا نا حرام کر دیا ہے، چنانچہ جب یہ جہنم سے نکالے جائیں گے تو آثار سجدہ کے علاوہ ان کے جسم کے تمام حصوں کو آگ جلا چکی ہو گی، اس لیے ان پر آب حیات ڈالا جائے گا، جس سے وہ اس طرح ابھریں گے جیسے قدرتی بیچ پانی کے بہاؤ میں اگتا ہے۔ [صحيح البخاري كتاب الآذان باب فضل السجود: 806]