صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب فَضْلِ السُّجُودِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ: باب: سجدوں کی فضیلت اور اس کی ترغیب۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ ، قَالَ : " لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ ، يُدْخِلُنِي اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ ؟ أَوَ قَالَ : قُلْتُ : بِأَحَبِّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ ، فَسَكَتَ ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ ، فَسَكَت ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ : سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً ، إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً " ، قَالَ مَعْدَانُ : ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ لِي مِثْلَ ، مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ .معدان بن ابی طلحہ یعمری نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے کروں تو اللہ اس کی وجہ سے مجھے جنت میں داخل فرما دے، یا انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: جو عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہو، تو ثوبان رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار کی (اور میری بات کا کوئی جواب نہ دیا) پھر میں نے دوبارہ ان سے سوال کیا، انہوں نے خاموشی اختیار کی، پھر میں نے ان سے تیسری دفعہ یہی سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا: ”تم اللہ کے حضور کثرت سے سجدے کیا کرو کیونکہ تم اللہ کے لیے جو بھی سجدہ کرو گے اللہ اس کے نتیجے میں تمہارا درجہ ضرور بلند کرے گا اور تمہارا کوئی گناہ معاف کر دے گا۔“ معدان نے کہا: پھر میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا تو ان سے (یہی) سوال کیا، انہوں نے بھی مجھے وہی کہا جو ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی الله عنہ سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے اور مجھے جنت میں داخل کرے، تو وہ کافی دیر تک خاموش رہے پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ تم کثرت سے سجدے کیا کرو ۱؎ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” جو بھی بندہ اللہ کے واسطے کوئی سجدہ کرے گا اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 388]
1؎:
یعنی: زیادہ سے زیادہ نفل نمازیں پڑھا کرو، اور ظاہر بات ہے کہ زیادہ سے زیادہ نمازیں پڑھے گا تو ان میں زیادہ سے زیادہ رکوع اور سجدے ہوں گے۔