حدیث نمبر: 485
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : " كَيْفَ تَقُولُ أَنْتَ فِي الرُّكُوعِ ؟ قَالَ : أَمَّا سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ ، لا إله إلا أنت ، فأخبرني ابن أبي مليكة ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ، فَتَحَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ ، أَوْ سَاجِدٌ ، يَقُولُ : سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، إِنِّي لَفِي شَأْنٍ ، وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ " .

ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء سے پوچھا: آپ رکوع میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جہاں تک (دعا) «سبحانك وبحمدك، لا إلہ إلا أنت» ”تو پاک ہے (اے اللہ!) اپنی حمد کے ساتھ، کوئی معبود برحق نہیں تیرے سوا“ کا تعلق ہے تو مجھے ابن ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے کہا: ایک رات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا تو میں نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنی کسی (اور) بیوی کے پاس چلے گئے ہیں، میں نے تلاش کیا، پھر آپ رکوع یا سجدے میں تھے، کہہ رہے تھے: «سبحانك وبحمدك، لا إلہ إلا أنت»۔ میں نے کہا: آپ پر میرے ماں باپ قربان! میں ایک کیفیت میں تھی اور آپ ایک ہی کیفیت میں تھے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 485
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
ابن جریج سے روایت ہے کہ میں نے عطاء سے پوچھا، آپ رکوع میں کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا: سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، کیونکہ مجھے ابن ابی ملکیہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت سنائی، ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کو بستر پر نہ پایا، میں نے خیال کیا، شاید آپﷺ کسی بیوی کے پاس چلے گئے ہیں تو میں نے آپﷺ کو تلاش کیا، پھر واپس آئی تو آپﷺ رکوع یا سجدہ میں تھے اور فرما رہے تھے: سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، تو اپنی حمد کے ساتھ، پاک... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1089]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
افْتَقَدْتُ: اورفَقَدتُ، فقدان سے ہیں اور دونوں کا معنی ہے میں نے آپﷺ کو گم پایا، آپﷺ مجھے نہ ملے۔
(2)
تَحَسَّسْتُ: حس سےہے، ڈھونڈنا، تلاش کرنا، تحس الشئي کا معنی ہوتا ہے، حواس سے پتہ لگانا۔
(3)
شَأْنٍ: حال، کہتے میں ما شأنك: تمہارا کیا حال ہے، یعنی میں غیرت میں مبتلا تھی اور آپﷺ دنیا سے الگ تھلگ ہو کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ رازونیاز میں مشغول تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 485 سے ماخوذ ہے۔