صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ: باب: رکوع اور سجدہ میں کیا کہے۔
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : " كَيْفَ تَقُولُ أَنْتَ فِي الرُّكُوعِ ؟ قَالَ : أَمَّا سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ ، لا إله إلا أنت ، فأخبرني ابن أبي مليكة ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ، فَتَحَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ ، أَوْ سَاجِدٌ ، يَقُولُ : سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، إِنِّي لَفِي شَأْنٍ ، وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ " .ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء سے پوچھا: آپ رکوع میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جہاں تک (دعا) «سبحانك وبحمدك، لا إلہ إلا أنت» ”تو پاک ہے (اے اللہ!) اپنی حمد کے ساتھ، کوئی معبود برحق نہیں تیرے سوا“ کا تعلق ہے تو مجھے ابن ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے کہا: ایک رات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا تو میں نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنی کسی (اور) بیوی کے پاس چلے گئے ہیں، میں نے تلاش کیا، پھر آپ رکوع یا سجدے میں تھے، کہہ رہے تھے: «سبحانك وبحمدك، لا إلہ إلا أنت»۔ میں نے کہا: آپ پر میرے ماں باپ قربان! میں ایک کیفیت میں تھی اور آپ ایک ہی کیفیت میں تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
افْتَقَدْتُ: اورفَقَدتُ، فقدان سے ہیں اور دونوں کا معنی ہے میں نے آپﷺ کو گم پایا، آپﷺ مجھے نہ ملے۔
(2)
تَحَسَّسْتُ: حس سےہے، ڈھونڈنا، تلاش کرنا، تحس الشئي کا معنی ہوتا ہے، حواس سے پتہ لگانا۔
(3)
شَأْنٍ: حال، کہتے میں ما شأنك: تمہارا کیا حال ہے، یعنی میں غیرت میں مبتلا تھی اور آپﷺ دنیا سے الگ تھلگ ہو کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ رازونیاز میں مشغول تھے۔