صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ: باب: رکوع اور سجدہ میں کیا کہے۔
حدیث نمبر: 483
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ ، دِقَّهُ ، وَجِلَّهُ ، وَأَوَّلَهُ ، وَآخِرَهُ ، وَعَلَانِيَتَهُ ، وَسِرَّهُ " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ سجدہ میں یہ دعا کرتے تھے، ”اے اللہ میرے سارے گناہ بخش دے، چھوٹے بھی اور بڑے بھی، پہلے بھی اور پچھلے بھی کھلے ہوئے بھی اور چھپے ہوئے بھی۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ سجدہ میں یہ دعا کرتے تھے، ’’اے اللہ میرے سارے گناہ بخش دے، چھوٹے بھی اور بڑے بھی، پہلے بھی اور پچھلے بھی کھلے ہوئے بھی اور چھپے ہوئے بھی۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1084]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
دَقَّه: جو چھوٹے یا تھوڑے ہیں۔
(2)
جِلَّه: بڑے یا زیادہ ہیں۔
(1)
دَقَّه: جو چھوٹے یا تھوڑے ہیں۔
(2)
جِلَّه: بڑے یا زیادہ ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 483 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 878 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´رکوع اور سجدے میں دعا کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدوں میں یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم اغفر لي ذنبي كله دقه وجله وأوله وآخره» یعنی ”اے اللہ! تو میرے تمام چھوٹے بڑے اور اگلے پچھلے گناہ بخش دے۔“ ابن السرح نے اپنی روایت میں «علانيته وسره» کی زیادتی کی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 878]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدوں میں یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم اغفر لي ذنبي كله دقه وجله وأوله وآخره» یعنی ”اے اللہ! تو میرے تمام چھوٹے بڑے اور اگلے پچھلے گناہ بخش دے۔“ ابن السرح نے اپنی روایت میں «علانيته وسره» کی زیادتی کی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 878]
878۔ اردو حاشیہ:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس انداز کی دعائیں اظہار تشکر اور عبدیت کے لئے تھیں اور امت کے لئے تعلیم بھی۔
➋ مذکورہ اور آگے آنے والی دعاؤں سے یہ بات پوری طرح واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب ہیں نہ مختار کل، بلکہ اللہ تعالیٰ کے عہد کامل اور عبد مامور (حکم الہیٰ کے پابند) ہیں۔
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس انداز کی دعائیں اظہار تشکر اور عبدیت کے لئے تھیں اور امت کے لئے تعلیم بھی۔
➋ مذکورہ اور آگے آنے والی دعاؤں سے یہ بات پوری طرح واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب ہیں نہ مختار کل، بلکہ اللہ تعالیٰ کے عہد کامل اور عبد مامور (حکم الہیٰ کے پابند) ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 878 سے ماخوذ ہے۔