صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب النَّهْيِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ: باب: رکوع اور سجود میں قرآن پاک پڑھنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا ، أَوْ سَاجِدًا " .حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے رکوع اور سجدہ میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا۔
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنَ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ : " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ ، وَأَنَا رَاكِعٌ ، أَوْ سَاجِدٌ " .ولید بن کثیر سے روایت ہے کہ مجھے ابراہیم بن عبداللہ بن حنین نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، جب میں رکوع یا سجدے میں ہوں، قرآن پڑھنے سے روکا۔
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ ، وَالسُّجُودِ ، وَلَا أَقُولُ : نَهَاكُمْ " .زید بن اسلم نے ابراہیم بن عبداللہ بن حنین سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع اور سجدے میں (قرآن کی) قراءت کرنے سے منع کیا۔ میں (یہ) نہیں کہتا: تمہیں منع کیا۔ (حضرت علی نے اپنے حوالے سے جو سنا وہی بتایا۔ پچھلی احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ حکم سب کے لیے ہے۔)
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَال : " نَهَانِي حِبِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا ، أَوْ سَاجِدًا " .داؤد بن قیس نے کہا: مجھے ابراہیم بن عبداللہ بن حنین نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ میں رکوع یا سجدے میں قرآن پڑھوں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ . ح وحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : ح . وحَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : ح وحَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ . ح إِلَّا الضَّحَّاكَ ، وَابْنَ عَجْلَانَ ، فَإِنَّهُمَا زَادَا ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كُلُّهُمْ قَالُوا : " نَهَانِي عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ ، وَأَنَا رَاكِعٌ " ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي رِوَايَتِهِمْ ، النَّهْيَ عَنْهَا فِي السُّجُودِ ، كَمَا ذَكَرَ الزُّهْرِيُّ ، وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، وَدَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ .نافع، یزید بن ابی حبیب، ضحاک بن عثمان، ابن عجلان، اسامہ بن زید، محمد بن عمرو اور محمد بن اسحاق سب نے مختلف سندوں سے ابراہیم بن عبداللہ بن حنین سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، البتہ ان میں ضحاک اور ابن عجلان نے اضافہ کرتے ہوئے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے حضرت علی سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے مجھے رکوع کی حالت میں قرآن کی قراءت سے روکا اور ان میں سے کسی نے اپنی روایت میں (ابراہیم کے پچھلی روایتوں: 1076–1079 میں مذکورہ شاگردوں) زہری، زید بن اسلم، ولید بن کثیر اور داؤد بن قیس کی روایات کی طرح سجدے میں قراءت کرنے سے روکنے کا ذکر نہیں کیا۔
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيل ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : فِي السُّجُودِ .عبداللہ بن حنین کے ایک اور شاگرد محمد بن مکندر سے یہی حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی لیکن سجدے میں قراءت کا ذکر نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسی کے بنے ہوئے ریشمی اور زرد رنگ کے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1725]
وضاحت:
1؎:
معصفر وہ کپڑا ہے جو عصفر سے رنگا ہواہو، اس کا رنگ سرخی اور زردی کے درمیان ہوتاہے، اس رنگ کا لباس عام طور سے کاہن، جوگی اور سادھو پہنتے ہیں، ممکن ہے نبی اکرمﷺ کے زمانے کے کاہنوں کا لباس یہی رہاہوجس کی وجہ سے اسے پہننے سے منع کیا گیا۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "علی! تم نماز میں امام کو لقمہ مت دیا کرو۔" ابوداؤد کہتے ہیں: ابواسحاق نے حارث سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں اور حدیث ان میں سے نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 908]
اس حدیث کے ایک راوی حارث بن عبداللہ کوفی، ابوزہیر الاعور کو کئی ایک محدثین نے کذاب کہا ہے۔ اس کے مقابلے میں پچھلے باب میں مذکور حضرت ابی رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیح ہے۔ لہٰذا امام اگر قرأت میں بھول رہا ہو تو اسے بتا دینا چاہیے۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا کہ میں اس میں اور اس میں انگوٹھی پہنوں، یعنی چھنگلی اور انگوٹھے میں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3648]
فوائد و مسائل:
(1)
یہ روایت گو سنداً صحیح ہے تا ہم ان الفاظ کے ساتھ شاذ ہے کیونکہ صحیح روایات میں چھنگلی (چھوٹی انگلی)
میں انگوٹھی پہننے کا اثبات ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث: 2095)
مزید تفصیل کے لیے ملا حظہ ہو: (الضعيفة، رقم: 5499، والإرواء، 3/ 299، 304)
چھنگلی کے علاوہ اس کے ساتھ والی انگلی (بنصر)
میں بھی انگوٹھی پہنی جا سکتی ہے ان کے علاوہ کسی اور انگلی میں انگوٹھی پہننا ممنوع ہے۔
علاوہ ازیں دونوں ہاتھوں میں پہننا جائز ہے تاہم دائیں ہاتھ میں پہننا دائیں ہاتھ کی عمومی فضیلت کے تحت افضل ہے۔
واللہ أعلم۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے اور گدے استعمال کرنے سے منع فرمایا یعنی سرخ ریشمی گدے زین پوش۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3654]
فوائد و مسائل:
(میثرہ)
یہ ایک قسم کی چادر تھی جو گھوڑے کی کاٹھی پر رکھ کر بیٹھتے تھے۔
یہ ریشم کی ہوتے تھی اس لیے مردوں کو اس کے استعمال سے منع کیا گیا۔
یہ عجمیوں کا رواج تھا اس لیے غیر مسلموں سے مشابہت کی وجہ سے بھی منع ہو گیا۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسی ۱؎ اور حریر ۲؎ اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے روکا ہے، اور اس بات سے بھی کہ میں رکوع کی حالت میں قرآن پڑھوں۔ دوسری بار راوی نے «أن أقرأ وأنا راكع» کے بجائے «أن أقرأ راكعا» کہا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1041]
علی رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشمی کپڑے اور سرخ زین (گدے) کے استعمال سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5169]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کے چھلوں، ریشمی کپڑوں، سرخ زین، جَو اور گیہوں کے شراب سے منع فرمایا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اس سے پہلی حدیث زیادہ قرین صواب ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5171]
(2) ہر نشہ آور مشروب حرام ہے، خواہ کسی چیز سے بنا ہو، قلیل ہو یا کثیر۔ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
صعصعہ بن صوحان کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں منع فرمایئے اس چیز سے جس سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، وہ بولے: مجھے منع فرمایا: کدو سے بنے اور سبز رنگ کے برتن سے، سونے کے چھلے، ریشمی لباس اور حریر اور سرخ زین کے استعمال سے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5172]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زرد رنگ کے کپڑے، سونے کی انگوٹھی اور ریشمی کپڑے پہننے اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں) لیث بن سعد نے عمرو بن سعید کے برخلاف روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5183]
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے لال زین، ریشمی کپڑوں اور سونے کی انگوٹھی استعمال کرنے سے منع کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5187]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کہو: «اللہم اهدني وسددني» اللہ! مجھے ہدایت دے، مجھے درست رکھ "، اور آپ نے منع فرمایا کہ میں انگوٹھی اس میں اور اس میں پہنوں۔ اور اشارہ کیا شہادت کی اور بیچ کی انگلی کی طرف۔ عاصم بن کلیب نے ان میں سے صرف ایک کا تذکرہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5215]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شہادت اور بیچ کی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5288]
علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے چھلے، ریشمی کپڑے، لال زین پوش اور جو کے مشروب سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5614]