صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: باب: جب رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا رَفَعَ ظَهْرَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ ، وَمِلْءَ الأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " .حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، جب رکوع سے اپنی رضی بدھا توتا سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، اللَّھُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ (الحدیث)، کہتا: ”اے اللہ! ہمارا آقا و مالک تیرا لیا ہی تعریف و توصیف ہے، آسمانوں کی پورائی اور زمین کی پورائی اور جس چیز کی بھرائی تو ان کا سوا چاہا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ ، وَمِلْءَ الأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " .شعبہ نے عبید بن حسن سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: ”اللهم ربنا لك الحمد ملء السماوات والأرض وما شئت من شيء بعد。“ (اے اللہ ہمارے رب! تیری ہی تعریف ہے آسمان اور زمین تک اور اس کے علاوہ جہاں تک تو چاہے اس چیز کی وسعت تک۔)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، مِلْءَ السَّمَاءِ ، وَمِلْءَ الأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا ، كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الْوَسَخِ " ،محمد بن جعفر نے شعبہ سے، انہوں نے مجزاہ بن زاہر سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر رہے تھے کہ آپ فرمایا کرتے تھے: ”اللهم لك الحمد ملء السماوات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد، اللهم طهرني بالثلج والبرد والماء البارد، اللهم طهرني من الذنوب والخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الوسخ。“ (اے اللہ! تیرے لیے ہے حمد آسمان بھر، زمین بھر اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے اس کی وسعت بھر۔ اے اللہ! مجھے پاک کر دے برف کے ساتھ، اولوں کے ساتھ اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ۔ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَكِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، فِي رِوَايَةِ مُعَاذٍ : كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّرَنِ ، وَفِي رِوَايَةِ يَزِيدَ : مِنَ الدَّنَسِ .عبید اللہ کے والد معاذ عنبری اور یزید بن ہارون دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ معاذ کی روایت میں (من الوسخ کے بجائے) من الدرن اور یزید کی روایت میں من الدنس کے الفاظ ہیں (تینوں لفظوں کے معنی ایک ہی ہیں)۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد» ، ” اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لیے آسمانوں اور زمین بھر کر حمد ہے، اور اس کے بعد اس چیز بھر کر جو تو چاہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 878]
فوائد و مسائل:
(1)
نماز کا اصل مقصد ذکر الٰہی ہے۔
ارشاد ربانی ہے۔
﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ (طہٰ: 14)
’’میری یاد کےلیے نماز قائم کر‘‘ اس لئے رسول اللہﷺ نے ہمیں نماز کے رکوع وسجود اور قومہ جلسہ وغیرہ میں پڑھنے کےلئے بہت سے اذکار سکھائے ہیں۔
ان اذکار اور دعائوں کو یاد کھنا چاہیے۔
اور نمازوں میں پڑھتے رہنا چاہیے۔
بالخصوص تہجد کی نماز میں طویل دعایئں اور اذکار پڑھ کر زیادہ سے زیادہ ثواب اور قُرب الٰہی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
(2)
بعض روایات میں بالا الفاظ کے بعد یہ اضافہ ہے۔
(أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ)
’’اے تعریفوں اور عظمتوں والے بندہ (تیری تعریف میں)
جو کچھ بھی کہے اس میں سب سے سچی بات یہ ہے اور ہم سب تیرے ہی بندے ہیں۔
کہ اے اللہ! جو کچھ تو عطا فرمائے۔
اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو روک لے، وہ چیز کوئی دے نہیں سکتا۔
کسی (دنیوی)
شان وشوکت والے کی شان وشوکت تیرے غضب سے بچاؤ کےلئے اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔‘‘
(صحیح مسلم، الصلاۃ، باب ما یقول إذا رفع راسه من الرکوع، حدیث: 477)