صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب مُتَابَعَةِ الإِمَامِ وَالْعَمَلِ بَعْدَهُ: باب: امام کی پیروی کرنا اور اس کے عمل کے بعد عمل کرنا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، قَالَ : ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ : " أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، لَمْ أَرَ أَحَدًا يَحْنِي ظَهْرَهُ ، حَتَّى يَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَبْهَتَهُ عَلَى الأَرْضِ ، ثُمَّ يَخِرُّ مَنْ وَرَاءَهُ سُجَّدًا " .زہیر اور ابوخیثمہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ابواسحاق سے اور انہوں نے عبداللہ بن یزید سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت براء رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے کہ وہ لوگ (صحابہ کرام) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔ جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھا لیتے تو میں کسی کو نہ دیکھتا کہ وہ اپنی پشت جھکاتا ہو یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیشانی زمین پر رکھ دیتے، اس کے بعد آپ کے پیچھے والے سجدے میں گرتے۔
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ ، قَال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ ، حَتَّى يَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا ، ثُمَّ نَقَعُ سُجُودًا بَعْدَهُ .سفیان نے ابواسحاق سے، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے اور انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی اور وہ جھوٹ بولنے والے نہ تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو ہم میں سے کوئی ایک بھی اس وقت تک اپنی پشت نہ جھکاتا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں نہ چلے جاتے، پھر ہم آپ کے بعد سجدے میں جاتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ : " أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَكَعَ رَكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، فَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، لَمْ نَزَلْ قِيَامًا ، حَتَّى نَرَاهُ قَدْ وَضَعَ وَجْهَهُ فِي الأَرْضِ ، ثُمَّ نَتَّبِعُهُ " .محارب بن دثار نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن یزید کو منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: براء رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا کہ وہ لوگ (صحابہ کرام) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، جب آپ رکوع میں چلے جاتے تو وہ رکوع کرتے اور جب آپ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو آپ سمع اللہ لمن حمدہ کہتے، ہم کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہم آپ کو دیکھتے کہ آپ نے اپنا چہرہ مبارک زمین پر رکھ دیا ہے، پھر ہم آپ کی پیروی کرتے (سجدے میں جاتے)۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، وَغَيْرُهُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا يَحْنُو أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ ، حَتَّى نَرَاهُ قَدْ سَجَدَ " ، فَقَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْكُوفِيُّونَ أَبَانُ ، وَغَيْرُهُ ، قَالَ : حَتَّى نَرَاهُ يَسْجُدُ .زہیر بن حرب اور ابن نمیر نے کہا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابان وغیرہ نے حکم سے حدیث سنائی، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم (نماز میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے، ہم میں سے کوئی ایک بھی اپنی پشت نہ جھکاتا یہاں تک کہ ہم آپ کو دیکھ لیتے کہ آپ سجدے میں جا چکے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
حافظ ابن حجر ؒ نے اس حدیث کا پس منظر طبرانی کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ راوئ حدیث حضرت عبداللہ بن یزید کوفے میں لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے۔
اس پر انھوں نے یہ حدیث ان کے مذکورہ عمل کی تردید میں بیان فرمائی۔
(فتح الباري: 236/2)
اس حدیث میں امام کی اقتدا کو بیان کیا گیا ہے، چنانچہ امام ابو داود ؒ نے اپنی سنن میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’مقتدی کو امام کی پوری متابعت کرنی چاہیے‘‘ اس کے تحت حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ کی ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم مجھ سے پہلے رکوع اور سجدے میں مت جایا کرو، جس قدر میں رکوع (یاسجدہ)
تم سے پہلے کروں گا اتنا تم پا لو گے جب میں تم سے پہلے اپنا سر اٹھاؤں گا کیونکہ میں موٹا ہو گیا ہوں۔
‘‘ (سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 619)
یعنی جب میں رکوع یا سجدے سے سر اٹھاؤں گا تو تم لوگ رکوع اور سجدے میں رہو گے یہ عوض ہوگا اس قدر دیر کا جو تم میرے بعد رکوع یا سجدے میں گئے تھے۔
جب رسول اللہ ﷺ کا بدن بھاری ہوگیا تو آپ نے اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بطور خاص ہدایت فرمائی کہ میری اتباع میں حسب عادت جاری رہنے کی وجہ سے کہیں مسابقت اور مبادرت کے مرتکب نہ ہو جائیں۔
اس سے واضح طور پر مقارنت کی نفی ثابت ہوتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مقتدی حضرات اپنے امام کے افعال پر نظر رکھیں، جب وہ کسی رکن میں مصروف ہو جائے، پھر انھیں اس رکن میں مصروف ہونے کی اجازت ہے، اس سے پہلے یا اس کے ساتھ یا رکن سے فراغت کے بعد اس میں مصروف ہونے کی اجازت نہیں۔
(فتح الباري: 236/2)
اس لیے ناک اور پیشانی ہر دو کا زمین سے لگانا واجب ہے۔
پھر دونوں ہاتھوں اور دونوں گھٹنوں کا زمین پر ٹیکنا اور دونوں پیروں کی انگلیوں کو قبلہ رخ موڑ کر رکھنا یہ کل سات اعضاءہوئے جن میں سجدہ ہوتا ہے۔
(1)
امام سے پہلے مقتدی کے لیے کسی رکن میں مصروف ہونا منع ہے، اس لیے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس حکم امتناعی کا بہت خیال رکھتے تھے۔
(2)
علامہ کرمانی ؒ نے اس حدیث کی عنوان سے مطابقت بایں الفاظ بیان کی ہے کہ عام طور پر دوران سجدہ میں پیشانی کو دیگر چھ اعضاء کی معاونت ہی سے زمین پر رکھا جاتا ہے، چونکہ اس حدیث میں دیگر اعضائے سجدہ کا ذکر نہیں ہے، اس لیے دیگر احادیث جن میں صرف پیشانی کا ذکر ہے تو وہ دوسرے اعضائے سجدہ کے مقابلے میں اس کے اشرف عضو ہونے کی وجہ سے ہے۔
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ پیشانی پر سجدہ کرنا واجب ہے، اس لیے بعض روایات میں صرف پیشانی کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے اور باقی اعضاء پر سجدہ مستحب ہے، اس لیے بعض روایات میں انہیں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
(فتح الباري: 384/2)
لیکن یہ موقف صحیح نہیں کیونکہ سات اعضاء پر سجدہ کرنے کو لفظ امر سے تعبیر کیا گیا ہے جو وجوب کے لیے ہے، لہٰذا کسی عضو کو چھوڑ کر باقی اعضاء پر اکتفا کرنا صحیح نہیں۔
ہاں، اگر کوئی عذر مانع ہو تو الگ بات ہے۔
براء رضی اللہ عنہ (جو جھوٹے نہ تھے ۱؎) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، اور آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو وہ سیدھے کھڑے رہتے یہاں تک کہ وہ دیکھ لیتے کہ آپ سجدہ میں جا چکے ہیں، پھر وہ سجدہ میں جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 830]