حدیث نمبر: 472
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " إِنِّي لَا آلُو ، أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ ، كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا ، قَالَ : فَكَانَ أَنَسٌ ، يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، انْتَصَبَ قَائِمًا ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : قَدْ نَسِيَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ مَكَثَ ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : قَدْ نَسِيَ " .

خلف بن ہشام نے حماد بن زید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ثابت سے اور انہوں نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں تمہیں ایسی نماز پڑھانے میں کوتاہی نہیں کرتا، جیسی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا (کہ وہ) ہمیں پڑھاتے تھے۔ ثابت نے کہا: انس رضی اللہ عنہ ایک ایسا کام کیا کرتے تھے جو میں تمہیں کرتے ہوئے نہیں دیکھتا۔ جب وہ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا کہ وہ بھول گئے ہیں اور جب وہ سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو ٹھہرے رہتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا: وہ بھول گئے ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 472
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 800

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 800 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
800. حضرت ثابت سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت انس ؓ ہمیں نبی ﷺ کی نماز کا اندازہ بیان کرتے تھے، چنانچہ وہ نماز میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ ہم (آپس میں) کہتے: شاید آپ بھول گئے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:800]
حدیث حاشیہ: قسطلانی ؒ نے کہا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اعتدال یعنی رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا ایک لمبا رکن ہے۔
جن لوگوں نے اس کا انکار کیا ان کا قول فاسد اور ناقابل توجہ ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 800 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 800 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
800. حضرت ثابت سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت انس ؓ ہمیں نبی ﷺ کی نماز کا اندازہ بیان کرتے تھے، چنانچہ وہ نماز میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ ہم (آپس میں) کہتے: شاید آپ بھول گئے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:800]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس روایت میں اختصار ہے۔
امام بخاری ؒ نے باب المكث بین السجدتین میں اسے تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ حضرت ثابت کہتے ہیں کہ حضرت انس ؓ نماز پڑھتے وقت ایسے کام کرتے تھے کہ میں نے تم لوگوں کو وہ کام کرتے نہیں دیکھا۔
وہ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ کہنے والا کہتا: شاید آپ بھول گئے ہوں۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 821) (2)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ثابت کے زمانے میں لوگ قومہ اور دو سجدوں کے درمیان بھی نشست کو لمبا نہیں کرتے تھے جبکہ حضرت انس ؓ انہیں اس قدر لمبا کرتے تھے کہ دیکھنے والے خیال کرتے شاید آپ بھول گئے ہیں۔
(3)
شارحین نے بھول جانے کے کئی ایک مفہوم بیان کیے ہیں، مثلاً: ٭ سجدہ کرنا بھول گئے ہیں۔
٭ آپ بھول گئے کہ شاید نماز میں نہیں کھڑے۔
٭ آپ بھول کر یہ سمجھتے ہوں کہ شاید قنوت کا وقت ہے۔
(فتح الباري: 373/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 800 سے ماخوذ ہے۔