صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب اعْتِدَالِ أَرْكَانِ الصَّلاَةِ وَتَخْفِيفِهَا فِي تَمَامٍ: باب: نماز میں تمام ارکان اعتدال سے پورا کرنے اور نماز کو ہلکا کرنے کا بیان۔
وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ كلاهما ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ حَامِدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " رَمَقْتُ الصَّلَاةَ مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ ، فَرَكْعَتَهُ ، فَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ رُكُوعِهِ ، فَسَجْدَتَهُ ، فَجَلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ، فَسَجْدَتَهُ ، فَجَلْسَتَهُ مَا بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ " .ہلال بن ابی حمید نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں (پڑھی جانے والی) نماز کو غور سے دیکھا تو میں نے آپ کے قیام، رکوع، رکوع کے بعد اعتدال اور آپ کے سجدے، دونوں سجدوں کے درمیان جلسے (بیٹھنے) اور آپ کے دوسرے سجدے اور اس کے بعد سلام اور رخ پھیرنے کے درمیان وقفے کو تقریباً برابر پایا۔
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : غَلَبَ عَلَى الْكُوفَةِ رَجُلٌ ، قَدْ سَمَّاهُ زَمَنَ ابْنِ الأَشْعَثِ ، فَأَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَكَانَ يُصَلِّي ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَامَ قَدْرَ مَا أَقُولُ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ ، وَمِلْءَ الأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ ، بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " ، قَالَ الْحَكَمُ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، فَقَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ : " كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُكُوعُهُ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، وَسُجُودُهُ ، وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ، قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ " ، قَالَ شُعْبَةُ : فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، فَقَالَ : قَدْ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، فَلَمْ تَكُنْ صَلَاتُهُ هَكَذَا ،عبید اللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ ابن اشعث کے زمانے میں ایک شخص (حکم نے اس کا نام لیا) کوفہ (کے اقتدار) پر قابض ہو گیا، اس نے ابوعبیدہ بن عبداللہ (بن مسعود) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، وہ نماز پڑھاتے تھے، جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے ہوتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیتا: ”اے اللہ! ہمارے رب! حمد تیرے ہی لیے ہے جس سے آسمان و زمین بھر جائیں اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے بھر جائے۔ اے عظمت و ثنا کے سزاوار! جو تو دے اس کو کوئی بھی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اور نہ ہی کسی مرتبے والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے۔“ (صرف تیری رحمت ہے جو فائدہ دے سکتی ہے۔) حکم نے کہا: میں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (قیام)، آپ کا رکوع اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے، آپ کے سجدے اور دونوں سجدوں کے درمیان (والا بیٹھنے) کا وقفہ تقریباً برابر تھے۔ شعبہ نے کہا: میں نے اس کا ذکر عمرو بن مرہ سے کیا تو انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کو دیکھا ہے، ان کی نماز اس طرح نہیں ہوتی تھی۔ (وہ ثقہ تھے۔ ان کی روایت قابل اعتماد ہے چاہے وہ اس پر پوری طرح عمل نہ کر سکتے ہوں۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، أَنَّ مَطَرَ بْنَ نَاجِيَةَ ، لَمَّا ظَهَرَ عَلَى الْكُوفَةِ ، أَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ ، أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ .محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی کہ جب مطر بن ناجیہ کوفہ پر قابض ہو گیا تو اس نے ابوعبیدہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ... اور (پوری) حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
بلکہ بعض دفعہ آپﷺ نے ایسے بھی کیا ہے جبکہ آپﷺ نے قراءت انتہائی مختصر کی ہے، مثلاً آپﷺ نے بعض دفعہ صبح کی نماز میں معوذتین کی قراءت بھی کی ہے تو ایسے اوقات میں تمام ارکان نماز میں فرق تھوڑا رہ جاتا ہے بالکل برابر نہیں ہوتے، اس لیے صحابی نے قَرِیباً مِّنَ السَّواءِ کہا، لیکن جب آپﷺ قراءت طویل کرتے تھے، مثلاً آپﷺ نے صبح کی نماز میں سورۃ واقعہ، یٰس، ق کی تلاوت فرمائی ہے۔
ظہر میں الم تنزیل السجدہ، لقمان، ذاریات کی تلاوت فرمائی ہے اور شام کی نماز میں اعراف، دخان، طور اور مراسلات کی قراءت فرمائی ہے تو ایسے حالات میں، رکوع وسجود اور قومہ وجلسہ قیام کے برابر کیسے ہو سکتے ہیں؟ یا اس حدیث کا مقصد یہ لینا ہو گا تمام ارکان میں آپﷺ تناسب کا لحاظ رکھتے تھے کہ اگر قراءت لمبی کرتے تو رکوع، سجود اور قومہ وجلسہ بھی لمبا کرتے تھے، یہ نہیں کہ قراءت تو طویل ہو اور باقی ارکان بہت مختصر ہوں جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔
(كَانَتْ صَلَاةُ رَسُوْلِ اللهِ صلى الله عليه وسلم مُتَقَارِبَةً)
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں تناسب ہوتا تھا۔
(یعنی تمام ارکان متناسب ہوتے تھے۔
اس لیے بعض دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قومہ اور جلسہ میں اتنی دیر ٹھہرے رہتے، کہ مقتدیوں کو خیال ہوتا شاید آپﷺ بھول گئے ہیں)
۔
اگر قرات میں طول کرتے تو اسی نسبت سے اور ارکان کو بھی طویل کرتے تھے۔
اگر قرات میں تخفیف کرتے تو اور ارکان کو بھی ہلکا کرتے۔
(1)
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رکوع کے بعد کھڑا ہونا، یعنی قومہ ایک طویل رکن ہے اور حضرت انس ؓ کی حدیث زیادہ صراحت کے ساتھ ہے بلکہ وہ تو اس کے متعلق نص صریح کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے کسی کمزور دلیل کے سہارے اس سے روگردانی درست نہیں، مثلاً: یہ کہا جائے کہ قومہ میں رکوع و سجود کی طرح تسبیحات کا دہرانا مسنون نہیں، اس لیے اسے مختصر ہونا چاہیے کیونکہ یہ تو نص صریح کے مقابلے میں قیاس کرنا ہے جو کسی صورت میں صحیح نہیں، علاوہ ازیں قومے میں جو ذکر مسنون ہے وہ رکوع کے ذکر سے زیادہ طویل ہے کیونکہ سبحان ربي العظيم تین مرتبہ کہنا (اللهم ربنا لك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه)
کے برابر ہے جبکہ قومے میں اس سے بھی طویل دعا منقول ہے، چنانچہ صحیح مسلم کی روایت میں حمدا كثيرا طيبا کے بعد مزید یہ الفاظ ہیں: (ملء السموت و ملء الأرض وملء ما شئت من شيئ بعد)
اس کے علاوہ بھی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے متعدد اذکار مسنونہ نقل کیے ہیں جنہیں قومے میں پڑھنا مشروع ہے۔
(فتح الباري: 2/374،373) (2)
حدیث براء کے ایک معنی یہ بھی بیان کیے گئے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز اعتدال پر مبنی ہوتی تھی، وہ اس طرح کہ جب قیام میں قراءت لمبی ہوتی تو باقی ارکان، یعنی رکوع، سجود وغیرہ بھی طویل ہوتے اور جب قراءت ہلکی ہوتی تو باقی ارکان میں بھی اختصار ہوتا، مثلاً: ایک روایت میں ہے کہ آپ نے صبح کی نماز میں سورۂ صافات پڑھی، چنانچہ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے سجدے میں تسبیحات کا شمار کیا تو وہ دس کے قریب تھیں۔
اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جب آپ سورۂ صافات سے چھوٹی سورت پڑھتے تو سجدے میں دس سے کم تسبیحات کہتے تھے حتی کہ کم از کم سجدے کی تسبیحات کی تعداد تین تک مروی ہے۔
(فتح الباري: 374/2)
(1)
رسول اللہ ﷺ دو سجدوں کے درمیان بڑے اطمینان اور سکون سے بیٹھتے تھے اور یہ بیٹھنا فرض ہے۔
اور اس مین طمانیت و اعتدال بھی فرض ہے، لیکن افسوس کہ عام لوگوں کو اس قعدے کا علم ہی نہیں کہ وہ کیا ہوتا ہے۔
(2)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھتے تھے: (اللهم اغفرلي وارحمني وعافني واهدني وارزقني) (سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 850)
’’اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت سے رکھ، مجھے ہدایت دے اور مجھے روزی عطا فرما۔
‘‘ حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے: (رب اغفرلي، رب اغفرلي) (سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 874)
’’اے میرے رب! مجھے معاف فرما۔
اے میرے رب! مجھے معاف فرما۔
‘‘
«. . . كَانَ رُكُوعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُجُودُهُ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ مَا خَلَا الْقِيَامَ وَالْقُعُودَ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ . . .»
”. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع و سجود، دونوں سجدوں کے درمیان کا وقفہ اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو تقریباً سب برابر تھے۔ سوا قیام اور تشہد کے قعود کے . . .“ [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ: 792]
باب اور حدیث میں مناسبت:
باب اور حدیث میں مناسبت یہ ہے کہ رکوع اور سجود اور قومہ اور جلسہ آپس میں برابر ہوں ایک طریق میں یہ ہے قومہ بہت طول کرتے تھے یعنی سارے رکن رکوع، سجدہ، قومہ وغیرہ سب اطمینان سے ہوا کرتے تھے تو اس میں رکوع کا حکم بھی شامل ہو گیا کیوں کہ جب رکوع میں اطمنان حاصل ہوا تو لازماً پیٹھ بھی برابر ہو گئی یہیں سے باب اور حدیث میں مناسبت ہے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں!
اس حدیث کے بعض طرق میں جن کو امام مسلم رحمہ اللہ نے نکالا ہے اعتدال لمبا کرنے کا ذکر ہے۔ تو اس سے تمام ارکان کا لمبا ہونا ثابت ہوا۔
◈ امام عبداللہ بن سالم البصری الشافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’شاید کے امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب کے ذریعہ اس روایت کی طرف اشارہ فرمایا ہو جس کے الفاظ ابوداؤد میں ہیں کہ گھٹنے پر ہتھیلیاں رکھیں اور انگلیوں کو کھول دیں (یعنی رکوع میں) پھر رکوع کیا کہ پیٹھ کو جھکا لیا نہ سر کو جھکایا نہ بلند کیا (بلکہ رکوع میں سر کو بالکل پیٹھ کے برابر رکھا) پس اسی میں «استواء الظهر» پیٹھ برابر کرنے کا اشارہ موجود ہے۔“ [ضياء الساري، ج8، ص136]
فائده:
اس حدیث سے یہ واضح ہوا کہ رکوع، سجود، قومہ اور جلسہ ان سب کی میعاد برابر تھی اور قومہ، قیام اور التحیات یہ تینوں رکن برابر تھے یہاں غور طلب مسئلہ یہ ہے کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے قومہ اور قیام کا جداگانہ نام لیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ قومہ قیام نہیں ہے۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے جس طرح سجدوں کے لئے صرف سجدہ کا ذکر کیا تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام سجدے نام اور ہیئت کے اعتبار سے برابر ہیں لیکن قیام کا نام الگ لیا اور قومہ کا تو لہٰذا قومہ قیام کے احکامات میں داخل نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
حضرت انس ؓ کی روایت میں ہے کہ آپ رکوع سے سر اٹھا کر اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ کہنے والا کہتا آپ بھول گئے ہیں۔
حدیث کی مطابقت ترجمہ باب سے اس طرح ہے کہ اس سے رکوع میں دیر تک ٹھہرنا ثابت ہوتا ہے۔
تو باب کا ایک جزو یعنی اطمینان اس سے نکل آیا اور اعتدال یعنی رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا وہ بھی اس روایت سے ثابت ہوچکا ہے۔
حافظ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے بعض طریقوں میں جن کو مسلم نے نکالا ہے اعتدال لمبا کرنے کا ذکر ہے تو اس سے تمام ارکان کا لمبا کرنا ثابت ہوگیا۔
(1)
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ لکھتے ہیں کہ امام شافعی ؒ کے نزدیک اعتدالِ ارکان کی تین اقسام ہیں: ٭ قیام اور تشہد میں ٹھہرنا۔
یہ مناسب حد تک طویل ہونا چاہیے کہ نمازی کو دیکھ کر کہا جا سکے کہ وہ کسی خاص چیز میں مصروف ہے۔
٭ رکوع و سجود میں ٹھہرنا۔
یہ پہلی قسم سے کم ہونا چاہیے، البتہ حالت انتقال سے زیادہ توقف معلوم ہو۔
٭ قومہ اور دو سجدوں کے درمیان ٹھہرنا۔
یہ ہلکا ہونا چاہیے ایسا معلوم ہو کہ حالت انتقال میں ہے۔
(2)
شاہ صاحب کی مذکورہ تفصیل احادیث میں ذکر کردہ تفصیل کے خلاف ہے۔
قومہ اور دو سجدوں کے درمیان ٹھہرنے کے متعلق حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو قیام فرماتے، اتنی دیر کھڑے رہتے کہ کہنے والا کہتا کہ شاید آپ بھول گئے ہیں۔
اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر بیٹھتے کہ کہنے والا کہتا کہ شاید آپ بھول گئے ہیں۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 821)
اسی طرح رکوع و سجود کی طوالت کا ذکر بھی احادیث میں آیا ہے، البتہ قیام میں تنوع ہوتا تھا۔
بعض اوقات دوران سفر میں آپ نے صبح کی نماز میں معوذتین بھی پڑھی ہیں۔
اور بعض اوقات طویل قراءت شروع فرمائی لیکن کسی بچے کے روزے کی آواز سنائی دی تو رکوع کر دیا۔
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا قیام و قعود اور مذکورہ چاروں چیزیں برابر ہوتی تھیں۔
معلوم ہوتا ہے کہ یہ رواۃ حدیث کا تصرف ہے کیونکہ تسویہ صرف چار ہی میں ہے۔
واللہ أعلم۔
(3)
اس مقام پر ایک اعتراض ہے کہ مذکورہ روایت سے عنوان ثابت نہیں ہوتا کیونکہ عنوان اتمام رکوع کی حد بیان کرنا ہے جبکہ حدیث میں ایک دوسرے کی مساوات کا ذکر ہے، اس مساوات سے اعتدال ثابت نہیں ہوتا؟ اس کا جواب علامہ سندھی نے یہ دیا ہے کہ بعض امور کا حکم خارج سے معلوم ہوتا ہے۔
اس مقام پر بھی اعتدال کی مقدار خارج سے معلوم ہو گی کیونکہ دیگر روایات میں رکوع اور سجود کی تسبیحات کا ذکر ہے جن سے اعتدال کی مقدار کا پتہ چلتا ہے، پھر ان امور کا ایک دوسرے کے مساوی ہونا بھی ایک حد ہے۔
(4)
حافظ ابن حجر ؒ عنوان سے حدیث کی مطابقت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث سے رکوع، سجدہ، قومہ اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی مساوات ثابت ہوتی ہے اور صحیح مسلم کی کچھ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قومہ طویل ہوتا تھا تو اس سے تمام ارکان کا طویل ہونا ثابت ہو گیا کیونکہ ان میں مساوات کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
(فتح الباري: 357/2)
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے، جب رکوع سے سر اٹھاتے، جب سجدہ کرتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو آپ کی نماز تقریباً برابر برابر ہوتی تھی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 279]
1؎:
یہ حدیث اس بات پر صریحاً دلالت کرتی ہے کہ رکوع کے بعد سیدھے کھڑا ہونا اور دونوں سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا ایک ایسا رکن ہے جسے کسی بھی حال میں چھوڑنا صحیح نہیں، بعض لوگ سیدھے کھڑے ہوئے بغیر سجدے کے لیے جھک جاتے ہیں، اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان بغیر سیدھے بیٹھے دوسرے سجدے میں چلے جاتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ رکوع اور سجدے کی طرح ان میں تسبیحات کا اعادہ اور ان کا تکرار مسنون نہیں ہے تو یہ دلیل انتہائی کمزور ہے کیونکہ نص کے مقابلہ میں قیاس ہے جو درست نہیں، نیز رکوع کے بعد جو ذکر مشروع ہے وہ رکوع اور سجدے میں مشروع ذکر سے لمبا ہے۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو (اور ابوکامل کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو) حالت نماز میں بغور دیکھا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کو آپ کے رکوع اور سجدے کی طرح، اور رکوع سے آپ کے سیدھے ہونے کو آپ کے سجدے کی طرح، اور دونوں سجدوں کے درمیان آپ کے بیٹھنے کو، اور سلام پھیرنے اور نمازیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان بیٹھنے کو، پھر دوسرے سجدہ سے قریب قریب برابر پایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور مسدد کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع اور دونوں رکعتوں کے درمیان آپ کا اعتدال پھر آپ کا سجدہ پھر دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا اور پھر دوسرا سجدہ پھر آپ کا سلام پھیرنے اور لوگوں کی طرف چہرہ کرنے کے درمیان بیٹھنا، یہ سب تقریباً برابر ہوتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 854]
➊ سنن ابوداؤد کے بعض نسخوں میں اس حدیث کے آخر میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں۔ «واعتدله بين الركعتين فسجدته فجلسته بين التسليم والانصراف قريبا من السواء» اور رکوع اور سجدوں کے مابین اعتدال (قومہ)، پھر سجدہ اور سلام اور پھرنے کے مابین بیٹھنا تقریباً برابر ہوتے تھے۔
➋ حدیث کے الفاظ کی روایت میں قدرے اختلاف ہے۔ ان الفاظ کی توجیہ یہ ہے کہ «سجدته ما بين التسليم والانصراف» سے سجدہ سہو مراد ہو سکتا ہے۔ اور «واعتدله بين الركعتين» میں «ركعتين» سے ممکن ہے «علي سبيل التغليب» رکوع اور سجدہ مراد ہو۔ [بذل المجهود]
«فسجدته ما بين التسليم والانصراف» سے آخری رکعت کا آخری یعنی دوسرا سجدہ بھی مراد ہو سکتا ہے۔
➌ رکوع، قومہ، سجدہ، بین السجدتین اور بعد سلام بیٹھنے میں اطمینان ہونا چاہیے اور حسب طول قرأت ان ارکان کو بھی مناسب طول دینا مشروع و مسنون ہے بالکل برابری مراد نہیں ہے۔
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع، سجدہ اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا سب قریب قریب برابر ہوتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 852]
«قُعُودُهُ، وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ» اس جملے میں نسخوں کا اختلاف ہے۔ منذری میں ہے «كان سجوده وركوعه وما بين السجدتين» ایک دوسرے نسخے میں «قعوده» کے بعد ”واؤ“ عاطفہ نہیں ہے۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو بغور دیکھا، تو میں نے پایا کہ آپ کا قیام ۱؎، آپ کا رکوع، اور رکوع کے بعد آپ کا سیدھا کھڑا ہونا، پھر آپ کا سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا، پھر دوسرا سجدہ کرنا، پھر سلام پھیرنے اور مقتدیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان بیٹھنا تقریباً برابر برابر ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1333]
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1066]