صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب أَمْرِ الأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلاَةِ فِي تَمَامٍ: باب: اماموں کے لیے نماز کو پورا اور تخفیف کرنے کا حکم۔
وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يُوجِزُ فِي الصَّلَاةِ وَيُتِمُّ " .عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تخفیف کرتے اور مکمل ادا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ " .قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سب سے زیادہ) مکمل صورت میں سب سے زیادہ تخفیف کے ساتھ نماز پڑھانے والے تھے۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِك ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ ، أَخَفَّ صَلَاةً ، وَلَا أَتَمَّ صَلَاةً ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے کبھی کسی ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ ہلکی اور زیادہ مکمل نماز پڑھانے والا ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
امام بخاری ؒ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نماز میں اختصار اس کے اکمال کے منافی نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے اختصار کے باوجود اکمال ثابت ہے، اس لیے مستحب یہ ہے کہ نماز میں اتنی طوالت نہ کرے کہ مقتدی حضرات کے لیے گرانی کا باعث ہو اور نہ اس قدر اختصار ہوکہ ارکان و تعدیل میں نقص واقع ہو۔
اس کی وضاحت ایک حدیث میں ہے، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مختصر اور اسے مکمل طور پر ادا کرنے والا ہو۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 708)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختصر اور کامل نماز پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 985]
فائده:
اس سے نماز کی تخفیف کا مطلب واضح ہوگیا کہ ارکان کی ادایئگی پورے خشوع اور اطمینان سے کی جائے لیکن تلاوت اور تسبیحات کی مقدار اتنی زیادہ نہ ہو کہ مقتدی پریشان ہوں۔