صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب أَمْرِ الأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلاَةِ فِي تَمَامٍ: باب: اماموں کے لیے نماز کو پورا اور تخفیف کرنے کا حکم۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيُّ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : أُمَّ قَوْمَكَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا ، قَالَ : ادْنُهْ ، فَجَلَّسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ فِي صَدْرِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ ، ثُمَّ قَالَ : تَحَوَّلْ ، فَوَضَعَهَا فِي ظَهْرِي بَيْنَ كَتِفَيَّ ، ثُمَّ قَالَ : أُمَّ قَوْمَكَ ، فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا ، فَلْيُخَفِّفْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ ، وَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ ، وَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ ، وَإِنَّ فِيهِمُ ذَا الْحَاجَةِ ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ وَحْدَهُ ، فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ " .موسیٰ بن طلحہ نے کہا: مجھے حضرت عثمان بن ابی عاص ثقفی رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اپنی قوم کی امامت کراؤ۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں اپنے دل میں کچھ محسوس کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”میرے قریب ہو جاؤ۔“ آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر اپنی ہتھیلی میری دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھی، اس کے بعد فرمایا: ”رخ پھیرو۔“ اس کے بعد آپ نے ہتھیلی میری پشت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھی، پھر فرمایا: ”اپنی قوم کی امامت کراؤ اور جو لوگوں کا امام بنے، وہ تخفیف کرے کیونکہ ان میں بوڑھے ہوتے ہیں، ان میں بیمار ہوتے ہیں، ان میں کمزور ہوتے ہیں اور ان میں ضرورت مند ہوتے ہیں، جب تم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : حَدَّثَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ ، قَالَ : " آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا ، فَأَخِفَّ بِهِمُ الصَّلَاةَ " .سعید بن مسیب نے کہا: حضرت عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری بات جو میرے ذمے لگائی یہ تھی: ”جب تم لوگوں کی امامت کراؤ تو انہیں نماز ہلکی پڑھاؤ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(أَنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي)
کے علماء نے مختلف مفہوم مراد لیے ہیں: 1۔
میں امام بن کر عجب اورتکبر میں مبتلا ہونے سے ڈرتا ہوں۔
2۔
میں شرم وحیا اور اس کام کی ادائیگی میں کمزوری محسوس کرتا ہوں۔
3۔
میں نماز میں وسوسہ میں مبتلا ہو جاتا ہوں، اور اس کی تائید میں عثمان ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت سے ہوتی ہے۔
جس میں یہ آیا ہے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شیطان میری نماز میں حرج ڈال دیتا ہے، مجھے قرآن پڑھتے بھلا دیتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی برکت سے ان کی یہ خرابی دور ہو گئی۔
2۔
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے نماز میں سب لوگوں کو شریک ہونا چاہیے اپنی کمزوری بیماری یا ضرورت کو جماعت سے پیچھے رہنے کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے اور امام کو بھی اپنے مقتدیوں کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
عَهِدَ إِلَيْهِ: (س)
اس کو وصیت وتلقین کی۔