حدیث نمبر: 467
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَمَّ أَحَدُكُمُ النَّاسَ ، فَلْيُخَفِّفْ ، فَإِنَّ فِيهِمْ ، الصَّغِيرَ ، وَالْكَبِيرَ ، وَالضَّعِيفَ ، وَالْمَرِيضَ ، فَإِذَا صَلَّى وَحْدَهُ ، فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ " .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے (ان کا امام بنے) تو وہ ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ نمازیوں میں بچے، بوڑھے، کمزور اور بیمار بھی ہوتے ہیں، اور جب اکیلا پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے۔“

حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَا قَامَ أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ ، فَلْيُخَفِّفْ الصَّلَاةَ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ ، وَفِيهِمُ الضَّعِيفَ ، وَإِذَا قَامَ وَحْدَهُ ، فَلْيُطِلْ صَلَاتَهُ مَا شَاءَ " .

ہمام بن منبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں یہ احادیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کا امام بنے تو وہ نماز میں تخفیف کرے کیونکہ لوگوں میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا پڑھے تو اپنی نماز جتنی چاہے طویل کر لے۔“

وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ ، فَلْيُخَفِّفْ ، فَإِنَّ فِي النَّاسِ ، الضَّعِيفَ ، وَالسَّقِيمَ ، وَذَا الْحَاجَةِ " ،

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے، کیونکہ لوگوں میں کمزور، بیمار اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔“

وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : بَدَلَ السَّقِيمَ ، الْكَبِيرَ .

امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں ہاں اتنا فرق ہے کہ یہاں راوی سے سقیم (بیمار) کی جگہ کبیر (بوڑھا) کہا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 467
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 703 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
703. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو تخفیف کرے کیونکہ ان میں کمزور، بیمار اور بوڑھے ہوتے ہیں اور جب وہ خود اکیلا پڑھے تو جس قدر چاہے طوالت کرے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:703]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی اپنی الگ نماز (فرض یا نفل)
کوجتنا چاہے طول دے سکتا ہے، لیکن جب امام ہو کر نماز پڑھائے تو مقتدی حضرات کا خیال رکھے، یعنی وہ قراءت کو طول نہ دے اور رکوع وسجود میں بھی اس کا خیال رکھے۔
نماز تراویح میں بھی یہ اصول پیش نظر ہونا چاہیے۔
جو حفاظ نماز تراویح میں اس قدر زیادہ قراءت کریں کہ مقتدیوں پر شاق ہو، انھیں چاہیے کہ وہ اس ہدایت نبوی کو سامنے رکھیں۔
اکیلے نماز پڑھنے والے شخص کو بھی چاہیے کہ وہ اس بات کا خیال رکھے کہ نماز کو اتنا طویل نہ کرے کہ دوسری نماز کا وقت شروع ہوجائے، کیونکہ حدیث میں اس کی ممانعت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’انسان کی کوتاہی میں سے ہے کہ وہ نماز کو اتنی دیر سے پڑھے کہ دوسری نماز کا وقت آجائے۔
‘‘ (صحیح مسلم، المساجد، حديث: 562 (681)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 703 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 236 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جب تم میں سے کوئی امامت کرے تو نماز ہلکی پڑھائے۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرے تو چاہیئے کہ ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ ان میں چھوٹے، بڑے، کمزور اور بیمار سبھی ہوتے ہیں اور جب وہ تنہا نماز پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 236]
اردو حاشہ:
1؎:
ہلکی نماز پڑھائے کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ارکان کی ادائیگی میں اطمینان و سکون اور خشوع و خضوع اور اعتدال نہ ہو، تعدیل ارکان فرض ہے، نیز اگلی حدیث سے واضح ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہلکی نماز پڑھاتے تھے تب بھی کامل نماز پڑھاتے حتی کہ مغرب میں بھی سورہ طور یا سورہ المرسلات پڑھتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 236 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 795 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نماز ہلکی پڑھنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ ان میں بیمار، بڑے بوڑھے، اور حاجت مند لوگ (بھی) ہوتے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 795]
795۔ اردو حاشیہ:
نماز ہلکی اور مختصر ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ قرأت مختصر اور اذکار تسبیحات کی تعداد مناسب حد تک کم ہو، اہم شرط یہ ہے کہ ارکان میں اعتدال و اطمینان ہو، عدم اعتدال سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 795 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 93 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´امام کو بیمار اور بوڑھے لوگوں کاخیال رکھنا چاہئیے`
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو اس میں تخفیف کرے کیونکہ لوگوں میں بیمار، کمزور اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلے نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی پڑھے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 93]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 703، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ امام کو چاہئے کہ مسنون قرأت کے علاوہ عام فرض نمازوں میں لمبی قرأت نہ کرے۔
➋ مقتدیوں کا خیال رکھنا مسنون ہے۔
➌ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں (نماز میں) تخفیف کا حکم دیتے اور ہمیں سورۂ صافات کی قرأت کے ساتھ نماز پڑھاتے تھے۔ [السنن المجتبيٰ للنسائي 2/95 ح827 وسنده حسن وصححه ابن خزيمه: 1606]
● تخفیف سے مراد یہ نہیں ہے کہ رکوع وسجود ادھورے کئے جائیں بلکہ تخفیف کا مطلب یہ ہے کہ خشوع وخضوع کے ساتھ مختصر اور مسنون نماز ادا کی جائے۔
➍ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! اللہ کے بندوں کے دلوں میں اللہ کی نفرت پیدا نہ کرو۔ پوچھا گیا: یہ کیسے ہے؟ فرمایا: ایک آدمی لوگوں کا امام بن کر اتنی لمبی نماز پڑھائے کہ لوگ بغض کرنے لگیں اور لوگوں کی نصیحت کے لئے تقریر کرنے بیٹھے تو اتنی لمبی تقریر کرے کہ لوگ بغض کرنے لگیں۔ [التمهيد 19/11، طبع جديده ج4 ص264 وسنده حسن]
● معلوم ہوا کہ ساری ساری رات تقریریں یا بہت لمبی تقریریں کرنا اچھا کام نہیں ہے۔ تقریر ہو یا نماز دونوں صورتوں میں لوگوں کا خیال رکھنا چاہئے۔
➎ نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں ایک نماز میں ابن عمر (رضی اللہ عنہ) کے پیچھے کھڑا ہوگیا، میرے ساتھ کوئی دوسرا نہیں تھا پھر انہوں نے مجھے اپنے برابر کردیا۔ [الموطأ 1/134 ح300 وسنده صحيح]
➏ ایک آدمی کے باپ کا علم نہیں تھا کہ کون ہے تو اسے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے امامت سے ہٹا دیا تھا۔ دیکھئے الموطأ [1/134 ح301 وهو صحيح]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 326 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 325 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نماز باجماعت اور امامت کے مسائل کا بیان`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کے فرائض انجام دے تو اسے قرآت میں تخفیف کرنی چاہیئے۔ اس لئے کہ مقتدیوں میں بچے، بوڑھے، کمزور اور حاجت مند لوگ ہوتے ہیں جب تنہا نماز پڑھے تو پھر جس طرح چاہے پڑھے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 325»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الأذان، باب إذا صلي لنفسه فليطول ما شاء، حديث:703، واللفظ مركب، ومسلم، الصلاة، باب أمر الأئمة بتخفيف الصلاة في تمام، حديث:467.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک آدمی جب فریضہ ٔ امامت ادا کر رہا ہو تو اس وقت نماز میں لمبی قراء ت سے احتیاط کرنی چاہیے‘ اس لیے کہ جماعت میں ہر قسم کے لوگ شریک ہوتے ہیں۔
سب کی ضروریات و حاجات پیش نظر رکھنی چاہییں‘ البتہ جب آدمی اکیلا نماز پڑھتا ہے تو اسے اپنے اشغال‘ ضروریات اور حالات کا اچھی طرح علم ہوتا ہے۔
تو ایسا آدمی فرصت اور قوت کے مطابق جتنی چاہے لمبی قراء ت کرے اسے اختیار ہے‘ مگر بیماری اور ضرورت کے وقت اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا کسی صورت میں بھی درست اور جائز نہیں۔
شریعت نے نفس کا بھی حق رکھا ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 325 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1017 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1017-اسماعیل بن ابوخالد اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں مدینہ منورہ آیا میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہاں مہمان ٹھہرا ان کے اور میرے موالی کے درمیان قرابت کا رشتہ تھا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے اور مختصر نماز پڑھاتے تھے۔ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نماز پڑھایا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی زیادہ مختصر نماز پڑھایا کرتے تھے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1017]
فائدہ:
اس سے ثابت ہوا کہ امام کو نماز ہلکی پڑھانی چاہیے، اس پر پہلے تفصیل گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1016 سے ماخوذ ہے۔