حدیث نمبر: 458
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ ب ق وَالْقُرْءَانِ الْمَجِيدِ سورة ق آية 1 ، وَكَانَ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا " .

زائدہ نے کہا: ہمیں سماک بن حرب نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں «ق والقرآن المجيد» پڑھا کرتے تھے، اس کے باوجود آپ کی نماز ہلکی تھی۔

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، عَنِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَانَ يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ ، وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ هَؤُلَاءِ ، قَالَ : وَأَنْبَأَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ ب ق وَالْقُرْءَانِ سورة ق آية 1 وَنَحْوِهَا " .

حضرت سماک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نماز پڑھاتے تھے، اور ان لوگوں کی طرح لمبی لمبی سورتوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھاتے تھے، اور انہوں نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صبح کی نماز میں «ق وَالْقُرْآنِ» اور اس جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 458
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فجر کی نماز میں ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ پڑھا کرتے تھے، اور بعد میں آپﷺ کی نماز ہلکی ہوتی تھی، یا اس کے باوجود آپﷺ کی نماز ہلکی تھی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1027]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: (وَكَانَت صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا)
اس جملہ کے علماء نے مختلف معانی بیان کیے ہیں۔

سورہ ق پڑھنے کے باوجود آپﷺ کی نماز ہلکی تھی اس لیے آپﷺ نے اس تخفیف کو برقرار رکھا اور حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگلی روایت میں سورہ ق کی قراءت کو تخفیف قراردے رہے ہیں۔

فجر کے بعد والی نمازیں، یعنی ظہر، عصر، مغرب اور عشاء یہ سب فجر کی بنسبت ہلکی ہوتی تھیں اور ان میں بہ نسبت فجر کے آپﷺ قرائت کم کرتے تھے۔

ابتدائی دور میں جب صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی تعداد کم تھی اور آپﷺ کے پیچھے نمازپڑھنے والے ﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ﴾ تھے جو ایمان وعمل میں بلند ترین درجہ پر فائز تھے۔
آپ کی نمازیں عموماً طویل ہوتی تھی بعد کے دور میں جب آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کی تعداد بڑھ گئی اور وہ تاجر پیشہ یا زراعت پیشہ لوگ تھے اور ان میں ایسے لوگ بھی تھے، جو ایمان وعمل میں پہلوں کے مقابلہ میں کم تر تھے، اور نمازیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی بنا پر، ان میں مریض، کمزور اور بوڑھوں کی تعداد بھی بڑھ گئی تھی تو آپﷺ پہلے کی بہ نسبت نماز ہلکی پڑھنے لگے۔

آپ پہلی رکعت میں ہمیشہ سورہ ق پڑھتے تھے جیسا کہ زیادہ بن علاقہ نے اپنے چچا سے بیان کیا ہے اور دوسری رکعت میں آپﷺ تخفیف کرتے تھے۔
آپﷺ کی عادت مبارکہ یہی تھی کہ پہلی رکعت لمبی پڑھتے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 458 سے ماخوذ ہے۔