صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ: باب: صبح کی نماز میں قرأت۔
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ وَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأ : ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ حَتَّى قَرَأَ : وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ سورة ق آية 1 - 10 ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أُرَدِّدُهَا ، وَلَا أَدْرِي مَا قَالَ " .قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کرائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ» شروع کی حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ» پڑھا تو میں اس آیت کو بار بار پڑھنے لگا لیکن اس کا مطلب و معنی نہیں سمجھ سکا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ : " سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ : وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ سورة ق آية 10 " .حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے فجر کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو «وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ» اور کھجور کے بلند و بالا درخت جن کے خوشے تہ بہ تہ (گھنے) میں، پڑھتے سنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ، فَقَرَأَ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ : وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ ، وَرُبَّمَا ، قَالَ : ق " .حضرت زیاد بن علاقہ رضی اللہ عنہ اپنے چچا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رکعت میں «وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ» پڑھا اور بعض دفعہ کہا، سورة ق پڑھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
زیاد بن علاقہ کے چچا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی، تو آپ نے ایک رکعت میں «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھی ۱؎، شعبہ کہتے ہیں: میں نے زیاد سے پر ہجوم بازار میں ملاقات کی تو انہوں نے کہا: سورۃ «ق» پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 951]
قطبہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فجر میں پہلی رکعت میں «والنخل باسقات» پڑھتے سنا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 306]
1؎:
اس سے مراد سورۂ ق ہے۔
2؎:
مفصل: قرآن کا آخری ساتواں حصہ ہے جو صحیح قول کے مطابق سورہ قؔ سے شروع ہوتا ہے اور سورہ بروج پر ختم ہوتا ہے۔
قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں آیت کریمہ: «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھتے ہوئے سنا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 816]
فائده:
سورہ فاتحہ کے بعد قرآن مجید میں سے کسی بھی مقام سے حسب خواہش تلاوت کی جاسکتی ہے۔
قرآن مجید میں ہے۔
﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ (المزمل: 20)
۔
’’جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکو پڑھ لو۔‘‘
اس حدیث میں بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے فجر کی نماز میں سورۃ ق کی تلاوت فرمائی۔