صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب التَّوَسُّطِ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلاَةِ الْجَهْرِيَّةِ بَيْنَ الْجَهْرِ وَالإِسْرَارِ إِذَا خَافَ مِنَ الْجَهْرِ مَفْسَدَةً: باب: جب فتنہ کا اندیشہ ہو تو جہری نمازوں میں قراءت درمیانی آواز سے کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 447
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 ، قَالَتْ : أُنْزِلَ هَذَا فِي الدُّعَاءِ ،یحییٰ بن زکریا نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اسی فرمان: ”نہ اپنی نماز میں (قراءت) بلند کریں اور نہ آہستہ“ کے بارے میں روایت کی کہ انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح قَالَ : وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَوَكِيعٌ . ح قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .حماد بن زید، ابواسامہ، وکیع اور ابومعاویہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ہشام سے اسی سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 447
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6327
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: نہ اپنی قرأت کو بلند کر اور نہ آہستہ کے بارے میں روایت ہے کہ آیت دعا کے بارے میں اتری ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1002]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: نماز میں قراءت اور دعا نمازمیں ہو یا نماز سے باہر، ان کو موقعہ اور محل کے مطابق بلند کیا جائے گا، جہری نمازوں میں قراءت اور دعائے قنوت بلند آواز سے ہو گی تاکہ مقتدیوں تک آواز پہنچ سکے۔
اسی طرح ضرورت کے موقعہ پر اجتماعی دعا میں امام آواز کچھ نہ کچھ بلند کرے گا لیکن کہیں بھی اعتدال وتوسط کو نظر انداز نہیں کرے گا۔
اسی طرح ضرورت کے موقعہ پر اجتماعی دعا میں امام آواز کچھ نہ کچھ بلند کرے گا لیکن کہیں بھی اعتدال وتوسط کو نظر انداز نہیں کرے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 447 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6327 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6327. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے درج زیل آیت: ”اپنی نماز نہ بہت زور زور سے پڑھیں نہ بالکل آہستہ آواز سے۔۔۔۔“ کے متعلق فرمایا کہ یہ دعا کے بارے میں نازل ہوئی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6327]
حدیث حاشیہ: لفظ آمین بھی دعا ہے اسے سورۃ فاتحہ کے ختم پر جہری نمازوں میں بلند آواز سے کہنا سنت نبوی ہے جس پر تینوں اماموں کا عمل ہے یعنی امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہم۔
مگر حنفیہ اس سے محروم ہیں ”وَلَا تُخافِت بِھَا“ پر ان کو غور کرکے درمیان راستہ اختیار کرنا چاہئے۔
مگر حنفیہ اس سے محروم ہیں ”وَلَا تُخافِت بِھَا“ پر ان کو غور کرکے درمیان راستہ اختیار کرنا چاہئے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6327 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6327 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6327. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے درج زیل آیت: ”اپنی نماز نہ بہت زور زور سے پڑھیں نہ بالکل آہستہ آواز سے۔۔۔۔“ کے متعلق فرمایا کہ یہ دعا کے بارے میں نازل ہوئی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6327]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مذکورہ بالا آیت نماز کے متعلق نازل ہوئی۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: تم نماز میں قرآن کی قراءت اتنی بلند آواز سے نہ کرو کہ مشرک قرآن کو برا بھلا کہیں اور نہ اس قدر آہستہ پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ درمیانی راہ اختیار کریں۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4722)
جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ممکن ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دوران نماز میں دعا کے متعلق فرمایا ہو، اس طرح دونوں اقوال میں تطبیق ہو جاتی ہے۔
(فتح الباري: 515/8) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی تطبیق سے عنوان ثابت کیا ہے، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ابن مردویہ کے حوالے سے اس آیت کی شان نزول ذکر کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کے پاس نماز پڑھتے تو بلند آواز سے دعا کرتے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
(فتح الباري: 515/8)
(1)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مذکورہ بالا آیت نماز کے متعلق نازل ہوئی۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: تم نماز میں قرآن کی قراءت اتنی بلند آواز سے نہ کرو کہ مشرک قرآن کو برا بھلا کہیں اور نہ اس قدر آہستہ پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ درمیانی راہ اختیار کریں۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4722)
جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ممکن ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دوران نماز میں دعا کے متعلق فرمایا ہو، اس طرح دونوں اقوال میں تطبیق ہو جاتی ہے۔
(فتح الباري: 515/8) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی تطبیق سے عنوان ثابت کیا ہے، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ابن مردویہ کے حوالے سے اس آیت کی شان نزول ذکر کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کے پاس نماز پڑھتے تو بلند آواز سے دعا کرتے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
(فتح الباري: 515/8)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6327 سے ماخوذ ہے۔