صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ إِذَا لَمْ يَتَرَتَّبْ عَلَيْهِ فِتْنَةٌ وَأَنَّهَا لاَ تَخْرُجُ مُطَيَّبَةً: باب: جب فتنہ کا ڈر نہ ہو تو عورتوں کے مساجد میں جانے کا جواز بشرطیکہ وہ خوشبو نہ لگائیں۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : " لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ ، لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ ، كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ : أَنِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُنِعْنَ الْمَسْجِدَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں، آج عورتوں نے جو نئے انداز (بناؤ سنگھار کے لیے) نکال لیے ہیں، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ لیتے تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے، جیسا کہ بنو اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ تو میں نے امرہ رحمہ اللہ سے پوچھا کیا بنو اسرائیل کی عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا گیا تھا؟ اس نے کہا، ہاں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .ہمیں محمد بن مثنی رحمہ اللہ نے عبدالوہاب ثقفی رحمہ اللہ سے نیز ہمیں عمرو ناقد رحمہ اللہ سے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے نیز ہمیں ابو بکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے ابو خالد احمر رحمہ اللہ سے نیز ہمیں اسحاق بن ابراہیم رحمہ اللہ نے عیسیٰ بن یونس رحمہ اللہ سے اور ان سب نے یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کی اسی سند سے یہی حدیث سنائی۔
تشریح، فوائد و مسائل
لیکن افسوس حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ قول صرف مسجدوں میں حاضری کے وقت یاد آتا ہے اور کسی جگہ اس کو یاد کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی، جب کہ اصل صورت حال یہ ہے کہ اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالات نہیں دیکھے تو اللہ تعالیٰ جو علام الغیوب ہے اس کو تو ان حالات کا پتہ تھا اس نے اپنے رسول کو کیوں یہ حکم نہ دیا کہ اس قسم کے حالات پیدا ہو جائیں گے، اس لیے تم عورتوں کومسجدوں سے روک دو۔
مزید براں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے خود بھی نہیں روکا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے یہ زمانہ نہ پایا اور نہ منع فرمایا، اور شریعت کے احکام کسی کی رائے اور قیاس سے نہیں بدل سکتے، اس لیے عورتوں کو مسجدوں سے روکنے کی بجائے، دوسری فساد کی جگہوں سے روکا جائے اور مسجدوں میں آنے کے لیے شرعی آداب کی تلقین کی جائے، مزید براں ہارسنگھار اور میک اپ سب عورتین تو نہیں کرتیں سب کو کیوں روکا جاتا ہے۔
اور بنی اسرائیلی عورتوں کو شریعت کے ذویعہ روکا گیا تھا نہ کہ کسی شخص کی رائے اور قیاس سے، نیز اس حدیث سے ثابت ہوا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا آپ ﷺ کو عالم الغیب نہیں سمجھتی تھیں، وگرنہ یہ نہ فرماتیں ’’اگر وہ دیکھ لیتے۔
‘‘