حدیث نمبر: 435
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ : " أَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ إِقَامَةَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ " .

ہمام بن منبہ نے کہا: یہ ہے جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، پھر انہوں نے ان میں سے متعدد احادیث بیان کیں اور کہا: ”نماز میں صف سیدھی رکھو کیونکہ صف کو سیدھا رکھنا نماز کے حسن (ادائیگی) کا حصہ ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 435
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 681 | صحيفه همام بن منبه: 45

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 681 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´صف میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام کو (صف کے) بیچ میں کھڑا کرو، اور خالی جگہوں کو پر کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 681]
681۔ اردو حاشیہ:
یعنی امام صفوں کے آگے اس طرح کھڑا ہو کہ وہ مقتدیوں کے وسط (درمیان) میں ہو، یہ نہ ہو کہ مقتدی دائیں یا بائیں، کسی ایک جانب زیادہ تعداد میں ہوں، ایسی صورت میں امام وسط میں نہیں رہے گا۔ یہی صورت آخری صف میں بھی ہو، جس میں چند افراد ہوں، یعنی وہ صف کے ایک کنارے پر کھڑے نہ ہوں، بلکہ درمیان میں (امام کے دائیں اور بائیں) کھڑے ہوں تاکہ امام درمیان میں رہے۔ لیکن روایت کا یہ پہلا حصہ ضعیف ہے، اس لیے اسے مستحب تو قرار دیا جا سکتا ہے، ضروری نہیں۔ البتہ حدیث کا دوسرا حصہ ’’ صف کے خلا کو پر کرو۔ صحیح ہے، کیونکہ یہ حکم دوسری احادیث سے بھی ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 681 سے ماخوذ ہے۔