صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ وَإِقَامَتِهَا وَفَضْلِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ مِنْهَا وَالاِزْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الأَوَّلِ وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الإِمَامِ: باب: صفوں کو سیدھا کرنے اور پہلی صف کی فضیلت اور پہلی صف پر سبقت کرنے اور فضیلت والوں کو امام کے قریب ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ ، وَيَقُولُ : اسْتَوُوا ، وَلَا تَخْتَلِفُوا ، فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ ، لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الأَحْلَامِ وَالنُّهَى ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا " ،عبداللہ بن ادریس، ابومعاویہ اور وکیع نے اعمش سے روایت کی، انہوں نے عمارہ بن عمیر تیمی سے، انہوں نے ابومعمر سے اور انہوں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں (ہمیں برابر کھڑا کرنے کے لیے) ہمارے کندھوں کو ہاتھ لگا کر فرماتے: ”برابر ہو جاؤ اور جدا جدا کھڑے نہ ہو کہ اس سے تمہارے دل باہم مختلف ہو جائیں، میرے ساتھ تم میں سے پختہ عقل والے دانش مند (کھڑے) ہوں، ان کے بعد وہ جو (دانش مندی میں) ان کے قریب ہوں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں۔“ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آج تم ایک دوسرے سے شدید ترین اختلاف رکھتے ہو۔
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، قَالَ : ح ، وحَدَّثَنَا ابْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .جریر، عیسیٰ بن یونس اور سفیان بن عیینہ نے (اعمش سے) باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، وَصَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الأَحْلَامِ وَالنُّهَى ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثَلَاثًا ، وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الأَسْوَاقِ " .حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے میرے قریب بالغ اور عقلمند کھڑے ہوں، پھر جو اس صفت میں ان کے قریب ہوں (اس طرح تین بار فرمایا) اور تم بازاروں کے اختلاط اور شور و شغب سے بچو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
الأَحْلَام: حِلم کی جمع ہے، صبر، آہستگی، بردباری، کبھی جہالت وبے وقوفی کے مقابلہ میں آ جاتا ہے، اس صورت میں معنی عقل ودانش ہوتا ہے، قرآن مجید میں ہے۔
﴿أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلَامُهُم بِهٰذَا﴾، کیا ان کی عقلیں انہیں یہ حکم دیتی ہے (طور)
اگر اس کو حلم کی جمع بنائیں تو پھر بلوغت کے معنی میں ہو گا، اس صورت میں معنی میں ایک نیا مفہوم پیدا ہو جائے گا کیونکہ نهي بھی نهية کی جمع ہے اس کا معنی بھی عقل ہے کیونکہ وہ برائیوں سے روکتی ہے۔
فوائد ومسائل: 1۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کےقریب وہ لوگ کھڑے ہوں جن کو اللہ تعالیٰ نے فہم ودانش سے نوازا ہے ان کے بعد اس صفت میں درجہ دوم والے، ان کے بعد درجہ سوم والے، یہ ترتیب بالکل فطری بھی ہے اور تعلیم وتربیت کی مصلحت کا تقاضا بھی یہی ہے تاکہ امام سے اگر بھول چوک ہو جائے تو اس کی اصلاح کر سکیں اور بوقت ضرورت امام کی نیابت بھی کر سکیں۔
اس لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، زربن جیش اور ابووائل رضی اللہ تعالیٰ عنہم بچے کو صف سے نکال دیتے تھے۔
2۔
حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کا مخاطب وہ لوگ تھے جو فتنہ وفساد برپا کر رہے تھے اور اس کا سبب یہی تھا کہ وہ صف بندی میں اعتدال اور تسویہ (برابری)
کی پابندی نہیں کرتے۔
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں (صف بندی کے وقت) ہمارے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے، اور فرماتے: " تم آگے پیچھے نہ کھڑے ہو کہ تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑ جائے، اور تم میں سے ہوش مند اور باشعور لوگ مجھ سے قریب رہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو (اس وصف میں) ان سے قریب ہو "، ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی بنا پر تم میں آج اختلافات زیادہ ہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابومعمر کا نام عبداللہ بن سخبرہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 808]
➋ «لَا تَخْتَلِفُوا» ایک معنی تو ترجمہ میں بیان کیے گئے ہیں۔ دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ آپس میں جھگڑا نہ کیا کرو۔ دل ایک دوسرے سے متنفر ہو جائیں گے۔ ظاہر کا اثر باطن پر بھی ہوتا ہے۔ سیدھے اور مل کر کھڑے ہوں تو دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے۔ آگے پیچھے اور دور دور کھڑے ہونے سے دلوں میں دوری پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ فطری چیز ہے۔ اس کا انکار ممکن نہیں۔ دوست مل کر بیٹھتے ہیں اور دشمن ایک دوسرے کے سائے سے بھی بھاگتے ہیں۔
➌ صف اول میں علم و فضل اور بڑی عمر والے لوگ کھڑے ہونے چاہئیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بالغ عاقل نوجوان جماعت اور نماز کے شوقین اور پابند کو جو پہلے آکر اگلی صف میں بیٹھا ہو بعد میں آنے والا بزرگ اٹھا کر اس کی جگہ پر بیٹھ جائے۔ یہ نوجوانوں کی دل شکنی بھی ہے حق تلفی بھی اور شریعت کے خلاف بھی۔ شریعت کی رو سے جو پہلے آکر جس جگہ بیٹھ گیا ہے اسی کا حق ہے۔ اہل عقل و دانش کو امام کے قریب کھڑے ہونے کا جو حکم ہے وہ ترغیبی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سمجھ دار نوجوان اس کے اہل نہیں ہے۔ دوسری صف میں ان سے ملتی جلتی عقل اور عمر والے۔ تیسری میں ان سے ملتی ہوئی عقل اور عمر والے حتیٰ کہ چھوٹے بچے آخری صف میں الا یہ کہ بچوں کے اکٹھے کھڑے ہونے سے شرارتوں کا خطرہ ہو تو انہیں بڑوں کے ساتھ کھڑا کیا جا سکتا ہے مگر پہلی صف سے پیچھے۔
➍ آج تم میں سخت اختلاف ہے۔ یعنی تم بہت آگے پیچھے کھڑے ہوتے ہو۔ صفوں کو توڑتے ہو۔ مل کر کھڑے نہیں ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ آج تم میں بہت معاشرتی اختلاف پایا جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ تم صفیں سیدھی اور درست نہیں بناتے۔
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مونڈھوں پہ ہاتھ پھیرتے ۱؎ اور فرماتے: " صفیں سیدھی رکھو، اختلاف نہ کرو ۲؎ ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف پیدا ہو جائے گا، اور تم میں سے جو ہوش مند اور باشعور ہوں مجھ سے قریب رہیں، پھر (اس وصف میں) وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں۔" [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 813]
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہمارے کندھوں پہ ہاتھ پھیرتے اور فرماتے: " الگ الگ نہ رہو، ورنہ تمہارے دل الگ الگ ہو جائیں گے، اور تم میں جو عقل اور شعور والے ہیں وہ میرے نزدیک کھڑے ہوں، پھر وہ لوگ جو عقل و شعور میں ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 976]
فوائد و مسائل:
(1)
نماز باجماعت ادا کرتے وقت نمازیوں کی صف بالکل سیدھی ہونی چاہیے۔
نمازیوں کو ایک دوسرے کے آگے پیچھے نہیں ہونا چاہیے۔
(2)
امام کوچاہیے کہ مقتدیوں کی صفوں کا خیال رکھے۔
اورانھیں صفیں سیدھی رکھنے کی تاکید کرے۔
(3)
صحابہ کرامرضوان للہ عنہم اجمعین رسول اللہ ﷺکے اس ارشاد کی تعمیل اس طرح کرتے تھے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خوب کھڑے ہوتے تھے۔
حتیٰ کہ کندھے سے کندھا قدم سے قدم اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا لیتے تھے۔ دیکھیے: (صحیح البخاري، الأذان، باب إلزاق المنکب بالمنکب والقدم بالقدم فی الصف، حدیث: 725 و سنن أبي داود، صلاة، باب تسویة الصفوف، حدیث: 662)
(4)
صفوں کا ٹیڑھا ہونا اور نمازیوں کا ایک دوسرے سے ہٹ کر کھڑا ہونا اختلافات اور جھگڑے پیدا ہونے کا باعث ہے۔
اس طرح باہم مل کرکھڑے ہونے سے باہمی محبت پیدا ہوتی ہے۔
اور اختلافات ختم ہوتے ہیں۔
اس لئے اس سنت پر توجہ اور اہتمام سے عمل کرنا چاہیے۔
(5)
اگلی صفوں میں معمر افراد اور صاحب علم افراد کو کھڑا ہونا چاہیے۔
اس کے بعد نوجوان اور نسبتاً کم علم والے کھڑے ہوں۔
پھر بچے اور آخر میں عورتوں کی صف ہونی چاہیے۔
(6)
جوانوں کو چاہیے کہ بزرگوں کےمقام اور ان کی عظمت کا لحاظ رکھیں۔