صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب تَسْبِيحِ الرَّجُلِ وَتَصْفِيقِ الْمَرْأَةِ إِذَا نَابَهُمَا شيء فِي الصَّلاَةِ: باب: جب نماز میں کچھ پیش آ جائے (تو امام کو متنبہ کرنے کے لیے) مرد سبحان اللہ کہیں، اور عورت ہاتھ پر ہاتھ ماریں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " ، زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَقَدْ رَأَيْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُسَبِّحُونَ وَيُشِيرُونَ ،ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، نیز ہارون بن معروف اور حرملہ بن یحییٰ نے کہا: ہمیں ابن وہب نے بتایا، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب کے حوالے سے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(امام کو متنبہ کرنے کا طریقہ) مردوں کے لیے تسبیح (سبحان اللہ کہنا) ہے اور عورتوں کے لیے ہاتھ پر ہاتھ مارنا ہے۔“ حرملہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ ابن شہاب نے کہا: میں نے علم والے لوگوں کو دیکھا، وہ تسبیح کہتے تھے اور اشارہ کرتے تھے۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ،امام صاحب رحمہ اللہ مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، وَزَادَ : فِي الصَّلَاةِ .ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (مذکورہ بالا حدیث) کے مانند روایت بیان کی اور اس میں اضافہ کیا: ”نماز میں (متنبہ کرنے کے لیے)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔" ابن مثنیٰ نے «في الصلاة» کا اضافہ کیا ہے (یعنی نماز میں)۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1208]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔" [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1211]
(وحیدي)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " نماز میں مردوں کے لیے " سبحان اللہ " کہہ کر امام کو اس کے سہو پر متنبہ کرنا اور عورتوں کے لیے دستک دینا ہے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 369]
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب امام نماز میں بھول جائے تو مرد ((سُبْحَانَ اللہِ)) کہہ کر اسے متنبہ کریں اور عورتیں زبان سے کچھ کہنے کے بجائے سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پُشت پر مار کر اسے متنبہ کریں، کچھ لوگ ((سُبْحَانَ اللہِ)) کہنے کے بجائے ((اللہُ اَکْبَرُ)) کہہ کر امام کو متنبہ کرتے ہیں یہ سنت سے ثابت نہیں ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نماز میں مردوں کو «سبحان الله» کہنا چاہیئے اور عورتوں کو تالی بجانی چاہیئے۔" [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 939]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نماز کے دوران میں اگر امام کو کسی امر کے لئے متنبہ کرنا ہو تو مسنون یہ ہے کہ مرد «سبحان الله» کہیں مگر عورت تالی بجائے اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی پشت پر مارے، نہ کہ معروف تالی کی طرح کیونکہ یہ لہوولعب ہے اور نماز میں لہوولعب جائز نہیں۔ عورتوں کو تسبیح کہنے سے اس لئے روکا گیا ہے کہ ان کی آواز کسی فتنے کا باعث نہ بنے اور مردوں کو تالی سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ یہ عورتوں کا کام ہے۔ [عون المعبود]
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا غِرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمٍ . . .»
". . . جس نے اپنی نماز میں کوئی ایسا اشارہ کیا کہ جسے سمجھا جا سکے تو وہ اس کی وجہ سے اسے لوٹائے یعنی اپنی نماز کو . . ." [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة: 944]
[سنن ابي داود 944، سنن الدارقطني: 83/2، شرح معاني الآثار للطحاوي: 453/1]
فقہ الحدیث
↰ یہ حدیث "ضعیف" ہے، اس میں محمد بن اسحاق «حسن الحديث، ثقه الجمهور» مشہور "مد لس" ہیں، جو کہ بصیغہ «عن» روایت کر رہے ہیں، سماع کی تصریح نہیں ملی، پھر یہ "صحیح" احادیث کے خلاف بھی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سبحان الله" کہنا مردوں کے لیے ہے یعنی نماز میں اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہیں، جس نے اپنی نماز میں کوئی ایسا اشارہ کیا کہ جسے سمجھا جا سکے تو وہ اس کی وجہ سے اسے لوٹائے یعنی اپنی نماز کو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث وہم ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 944]
کیونکہ صحیح احادیث سے حسب ضرورت اشارہ کرنا ثابت ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " (نماز میں جب امام بھول جائے، تو اس کو یاد دلانے کے لیے) «سبحان الله» کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1034]
فوائد و مسائل:
(1)
نماز کے دوران میں اگر امام کو غلطی لگ جائے تو اسے متنبہ کرنے کےلئے سبحان اللہ کہنا چاہیے۔
(2)
اگر کوئی مرد امام کو غلطی کا اشارہ نہ دے تو عورتیں بھی امام کو غلطی پر متنبہ کرسکتی ہیں۔
(3)
لیکن عورتوں کو سبحان اللہ نہیں کہنا چاہیے۔
بلکہ ایک ہاتھ کی پشت پر دوسرا ہاتھ مارنا چاہیے۔
(4)
اس سے اشارہ ملتا ہے کہ عورت کو چاہیے کہ بلا ضرورت مردوں کو آواز نہ سنائے۔
(5)
نماز کے بعض مسائل میں مردوں اور عورتوں کےدرمیان فرق ہے یہ مسئلہ بھی ان میں سے ایک ہے۔
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: التسبيح للرجال والتصفيق للنساء . . .»
". . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (نماز میں ضرورت کے وقت) مردوں کیلئے تسبیح («سبحان الله» کہہ کر امام کو مطلع کرنا) اور عورتوں کیلئے تالی بجانا ہے . . ." [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 174]
«اَلتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ» جب نمازی امام کو درپیش ناگہانی صورتحال یا بھول سے مطلع اور متنبہ کرنا چاہے تو وہ سبحان اللہ کہہ کر امام کو اس کی غلطی پر مطلع کرے۔ اور اگر عورت ہو تو وہ تالی بجائے، بایں صورت کہ اپنے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کو بائیں ہاتھ کے اوپر (الٹی جانب) مارے۔
فوائد و مسائل:
➊ جب امام نماز میں بھول جائے تو اسے متوجہ کرنے کے لیے مرد مقتدی «سُبْحَانَ الله» کہہ کر اسے غلطی پر خبردار کرے اور اگر مقتدی عورت ہو تو وہ تالی بجا کر مطلع کرے گی۔ زبان سے «سُبْحَانَ الله» وغیرہ نہیں کہے گی۔
➋ عیسیٰ بن ایوب نے تالی پیٹنے کی صورت اس طرح بیان کی ہے کہ اپنے سیدھے ہاتھ کی دو انگلیاں اپنے بائیں ہاتھ کی پشت، یعنی الٹی جانب پر مارے۔
➌ بعض نادان لوگ «سُبْحَانَ الله» کی بجائے «اللهُ أَكْبَر» کہہ کر امام کو متوجہ کرتے ہیں۔ یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ سنت سے ثابت نہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب مرد امام بھول جائے تو مقتدی کو سبحان اللہ کہنی چاہیے، اور جب عورت جواب دینا چا ہے تو عورتوں کو تالی بجانی چاہیے، اس کی صورت یہ ہے کہ عورت الٹے ہاتھ ایک دوسرے پر مارے گی۔