صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب اسْتِخْلاَفِ الإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسٍ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدَرَ عَلَيْهِ وَنَسْخِ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقِّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ: باب: مرض، سفر یا اور کسی عذر کی وجہ سے امام کا نماز میں کسی کو خلیفہ بنانا، اور اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کھڑے ہو کر نماز پڑھے اگر کھڑے ہونے کی طاقت رکھتا ہو، کیونکہ قیام کی طاقت رکھنے والے مقتدی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ ، فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ ، رَجُلٌ رَقِيقٌ ، مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ ، لَا يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ : " مُرِي أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ " ، قَالَ : فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ ، حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور آپ کی بیماری نے شدت اختیار کی تو آپ نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: وہ نرم دل آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھا سکیں گے۔ آپ نے فرمایا: ”(اے عائشہ!) ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف علیہ السلام کے ساتھ (معاملہ کرنے) والیوں کی طرح ہو۔“ انہوں (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) نے کہا: اس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھانے لگے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
امامت کے سلسلے میں حضرت امام بخاری ؒ کا موقف یہ ہے کہ اس کے لیے اہل علم و فضل کا انتخاب کرنا چاہیے۔
دین سے بے بہرہ شخص اس منصب کے قطعاً لائق نہیں، خواہ بہترین قاری ہی کیوں نہ ہو کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بڑھ کر صاحب علم و فضل تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے انھیں مصلائے امامت پر مقرر فرمایا، لہٰذا اس عظیم منصب کے شایان شان یہی ہے کہ اس آدمی کو یہ اعزاز بخشا جائے جو علم وفضل میں عظیم تر ہو۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امام صاحب کا مقصود جمہور کے موقف کی تائید کرنا ہو کہ علمائے حضرات بہ نسبت قراء حضرات کے منصب امامت کے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں حضرت ابی بن کعب ؓ سب سے بڑے قاری تھے۔
جیسا کہ نص حدیث سے ثابت ہے، اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا انتخاب فرمایا کیونکہ وہ علم وفضل میں سب سے زیادہ فائق تھے۔
(حاشیة السندي: 124/1) (2)
ایک حدیث میں ہے کہ لوگوں کا امام ایسا ہونا چاہیے جو قرآن کا زیادہ حافظ ہو، اگر اس وصف میں سب برابر ہوں تو پھر وہ شخص امام بنے جسے سنت نبوی کا زیادہ علم ہو۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1532(673)
نیز حضرت ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے ایک اذان کہے اور امامت وہ شخص کرائے جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1532(673)
ان احادیث کا تقاضا ہے کہ امامت کا منصب حافظ قرآن کو دینا چاہیے۔
جمہور اس قسم کی احادیث کو منسوخ قرار دیتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے آخری وقت حضرت ابو بکر ؓ کو منصب امامت پر فائز فرمایا، لیکن ان احادیث کو منسوخ قرار دینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ حضرت ابو بکر صديق ؓ حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ سنت کے سب سے بڑے عالم تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے انھی اوصافِ فاضلہ کی بنا پر منصب امامت ان کے حوالے فرمایا۔
حدیث مسلم میں أعلم بالسنة سے مراد وہ شخص ہے جو بقدر ضرورت قرآن مجید صحیح طور پر پڑھنے کے ساتھ ساتھ نماز سے متعلقہ مسائل بہ نسبت دوسروں کے زیادہ جانتا ہو، چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے زیادہ علم، فہم، تقویٰ اور خوف وخشیت والے تھے۔
(رضي اللہ عنه)
آنحضرت ﷺ کا مقصد اس جملہ سے یہ تھا کہ حضرت ابو بکر ؓکے بارے میں تمہاری یہ رائے ظاہری طور پر ہے ورنہ دل سے ان کی امامت تسلیم ہے۔
1۔
حضرت یوسف ؑ پر فریضۃ ہونے والی عورتوں سے مراد وہ بیگمات مصر ہیں جنھیں عزیز مصر کی بیوی نے بڑے اہتمام سے اپنے گھر جمع کیا تھا۔
جنھوں نے بظاہر اس کو حضرت یوسف ؑ سے محبت کرنے پر ملامت کی تھی مگر وہ خود بھی دل کی گہرائی سے حسن یوسف سے متاثر تھیں بیگمات مصر حضرت یوسف ؑ کا حسن و جمال دیکھ کر اس قدر محونظارہ اور بےخود ہو گئیں کہ ان کی چھریاں پھلوں پر چلنے کی بجائے ان کے اپنے ہاتھوں پر چل گئیں۔
ان میں سے ہر ایک حضرت یوسف ؑ کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
لیکن یوسف ؑ نے تمام دلکشیوں اور رعنائیوں کے باوجود ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا بھی گوارانہ کیا۔
یہ منظر دیکھ کر وہ بے ساختہ پکار اٹھیں کہ یہ انسان نہیں بلکہ کوئی معزز فرشتہ ہے کیونکہ ان کے نزدیک یہ ناممکن تھا کہ ایک نوجوان انسان جنسی خواہشات سے اس قدر بالا تر ہو کہ دل پھینک قسم کے ماحول میں وہ ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے۔
اس واقعے سے اس دور کی اخلاقی حالت پر بھی خاصی روشنی پڑتی ہے کہ بے حیائی کس قدر عام تھی اور فحاشی پھیلانے میں عورتوں کو کس قدر آزادی اور بے باکی حاصل تھی اور ان کے مقابلے میں مرد کتنے کمزور یا کس قدر دیوث تھے؟ بہر حال اللہ تعالیٰ نے سیدنایوسف ؑ کو ایسا عزم واستقلال بخشا کہ مصر کی عورتوں کا ان پر جادو نہ چل سکا۔
2۔
صواحب یوسف کہنے سے رسول اللہ ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ حضرت ابو بکر ؓکے متعلق تمھاری یہ رائے ظاہری رکھ رکھاؤ کے طور پر ہے بصورت دیگر تم بھی حضرت ابو بکر ؓ کی امامت کو تسلیم کر چکی ہو۔