صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب النَّهْيِ عَنْ مُبَادَرَةِ الإِمَامِ بِالتَّكْبِيرِ وَغَيْرِهِ: باب: امام سے تکبیر وغیرہ میں آگے بڑھنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا ، يَقُولُ : " لَا تُبَادِرُوا الإِمَامَ ، إِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَالَ : وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقُولُوا : آمِينَ ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تعلیم دیتے تھے کہ امام سے سبقت (جلدی) نہ کرو، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو، اور جب وہ «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم آمین کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِهِ ، إِلَّا قَوْلَهُ : وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقُولُوا : آمِينَ ، وَزَادَ : وَلَا تَرْفَعُوا قَبْلَهُ .سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد (ابوصالح) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی روایت کی، سوائے اس حصے کے: ”جب وہ «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم «آمِينَ» کہو“ اور یہ حصہ بڑھایا: ”اور تم اس سے پہلے (سر) نہ اٹھاؤ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھاتے کہ ہم رکوع اور سجدے میں امام سے پہل نہ کریں اور (فرماتے) جب امام «اللہ اکبر» کہے تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 960]
فوائد و مسائل:
(1)
نمازشروع کرتے وقت اور ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہوتے وقت امام سے پہلے حرکت کرنا سخت منع ہے۔
(2)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین ایک حالت سے دوسری حالت میں منقتل ہوتے وقت رسول اللہ ﷺ سے اس قدر پیچھے رہتے تھے۔
کہ رسول اللہ ﷺ جب اللہ اکبر کہہ کر سجدے میں جاتے تھے۔
تو جب تک آپﷺ زمین پر سر مبارک نہ رکھ دیتے۔
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین قومے ہی میں کھڑے رہتے سجدے کے لئے نہ جھکتے تھے۔
دیکھئے:(صحیح البخاري، الأذان، باب متی یسجد من خلف الإمام؟، حدیث 690، وصحیح مسلم، الصلاۃ، باب متابعة الإمام والعمل بعدہ، حدیث: 474)