صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ تَفَاضُلِ الإِسْلاَمِ وَأَيِّ أُمُورِهِ أَفْضَلُ: باب: خصائل اسلام کا بیان اور اس بات کا بیان کہ اسلام میں کون سا کام افضل ہے۔
حدیث نمبر: 41
حَدَّثَنَا حسن الحلواني وَعَبْدُ بْنُ حميد جميعا ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ ، قَالَ : عبد : أَنْبَأَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ ، وَيَدِهِ " .حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”مسلم وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوط رہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ’’مسلم وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوط رہیں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:162]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث میں جس ایذا رسانی کو اسلام کے منافی بتلایا گیا ہے، اس سے مراد وہ تکلیف ہے جو بغیر کسی صحیح وجہ اور معقول یا شرعی واخلاقی سبب کے ہو، ورنہ بشرط طاقت وقدرت مجرموں کو سزا دینا اور ظالموں کی زیادتیوں، شرانگیزوں کی شرانگیزیوں اور مفسدوں کی فساد انگیزیوں کو بزور بازو دفع کرنا یا کم از کم ان کو زبان سے منع کرنا مسلمانوں کا فرض منصبی ہے، اگر ایسا نہ کیا جائے تو دنیا امن وراحت سے محروم ہو کر جہنم کدہ بن جائے، جیسا کہ آج کل دنیا جہنم کدہ بن چکی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 41 سے ماخوذ ہے۔