صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب التَّشَهُّدِ فِي الصَّلاَةِ: باب: نماز میں تشہد کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ صَلَاةً ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ ؟ قَالَ : فَلَمَّا قَضَى أَبُو مُوسَى الصَّلَاةَ وَسَلَّمَ ، انْصَرَفَ ، فَقَالَ : أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ، ثُمّ قَالَ : أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا ، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا ، قَالَ : مَا قُلْتُهَا ، وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا قُلْتُهَا ، وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَمَا تَعْلَمُونَ كَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ ؟ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا ، فَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا ، وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا ، فَقَالَ : إِذَا صَلَّيْتُمْ ، فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ، ثُمَّ لَيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذْ قَالَ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقُولُوا : آمِينَ ، يُجِبْكُمُ اللَّهُ ، فَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ ، فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا ، فَإِنَّ الإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَتِلْكَ بِتِلْكَ ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، يَسْمَعُ اللَّهُ لَكُمْ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ ، فَكَبِّرُوا ، وَاسْجُدُوا ، فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَتِلْكَ بِتِلْكَ ، وَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ ، فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ : التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ ، الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " ،حطان بن عبداللہ رقاشی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک نماز ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی معیت میں پڑھی تو جب بیٹھنے کا وقت آیا، ایک شخص نے کہا، نماز نیکی اور زکوٰة کے ساتھ ملائی گئی ہے، جب ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے نماز پوری کر لی اور سلام پھیر کر منہ موڑا تو پوچھا، یہ کلمہ تم میں سے کس نے کہا ہے؟ سب لوگ چپ رہے انہوں نے پھر پوچھا، تم میں سے کس نے یہ بات کہی؟ تو لوگ چپ رہے تو انہوں نے کہا، اے حطان! شاید تو نے یہ کلمہ کہا ہے؟ میں نے کہا میں نے نہیں کہا ہے، مجھے خوف تھا کہ آپ مجھے اس کے سبب سرزنش کریں گے تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا، میں نے یہ کلمہ کہا ہے، اور میں نے اس سے صرف خیر ہی کا ارادہ کیا ہے تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا، کیا تم جانتے نہیں ہو، تمہیں اپنی نماز میں کیا کہنا چاہیے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور ہمارے لیے، ہمارا طریقہ واضح کیا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو سیدھا کرو، پھر تم میں سے ایک تمہاری امامت کرائے، جب وہ تکبیر کہہ چکے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا، وہ تمہیں شرف قبولیت بخشے گا، اور جب وہ تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم تکبیر کہہ کر رکوع کرو اور امام تم سے پہلے رکوع میں جاتا ہے اور تم سے پہلے اٹھتا ہے۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تقدیم و تاخیر سے برابر ہو گیا۔ اور جب امام «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو، اے اللہ، ہمارے رب تو ہی حمد کا حقدار ہے۔ اللہ تمہاری دعا سنے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ نے جس نے اس کی حمد و تعریف سن لی۔ اور جب امام «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہہ کر سجدہ کرے تو تم «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہو اور سجدہ کرو، کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ میں جاتا اور تم سے پہلے سجدہ سے اٹھتا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبل و بعد (تقدیم و تاخیر) سے کام برابر ہو گیا، (امام نے سجدہ پہلے کیا، پہلے اٹھا، تم نے سجدہ بعد میں کیا، اور بعد میں اٹھے) اور جب بیٹھنے کا وقت آئے تو تم اس سے آغاز کرو «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» بدنی اور مالی عبادتیں، اللہ ہی کے لیے ہیں، سلامتی ہو، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے سب نیک بندوں پر، میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت اور بندگی کے لائق نہیں اور میں اس کی بھی شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور پیغمبر (فرستادہ) ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ، وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ : مِنَ الزِّيَادَةِ ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ : فَإِنَّ اللَّهَ ، قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، إِلَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ وَحْدَهُ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ أَبُو إِسْحَاق ، قَالَ أَبُو بَكْرِ ابْنُ أُخْتِ أَبِي النَّضْرِ : فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ مُسْلِمٌ : تُرِيدُ أَحْفَظَ مِنْ سُلَيْمَانَ ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : فَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : هُوَ صَحِيحٌ ، يَعْنِي وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ، فَقَالَ : هُوَ عِنْدِي صَحِيحٌ ، فَقَالَ : لِمَ ، لَمْ تَضَعْهُ هَا هُنَا ؟ قَالَ : لَيْسَ كُلُّ شَيْءٍ عِنْدِي صَحِيحٍ وَضَعْتُهُ هَا هُنَا ، إِنَّمَا وَضَعْتُ هَا هُنَا مَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ ،امام صاحب رحمہ اللہ نے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ بیان کیا۔ کہ جب امام پڑھے تو تم خاموش رہو، اور ان میں سے کسی کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلوایا ہے، «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»، صرف ابو کامل رحمہ اللہ اکیلا ہی ابو عوانہ رحمہ اللہ سے یہ الفاظ نقل کرتا ہے۔ ابو اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں، ابو نضر رحمہ اللہ کے بھانجے، ابوبکر رحمہ اللہ نے اس حدیث پر بحث کی تو امام مسلم رحمہ اللہ نے جواب دیا آپ کو سلیمان رحمہ اللہ سے زیادہ حافظ مطلوب ہے، (یعنی سلیمان حفظ و ضبط میں پختہ ہے، اس لیے اس کا اضافہ مقبول ہے) تو ابوبکر رحمہ اللہ نے امام مسلم رحمہ اللہ سے پوچھا، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث «إِذَا قَرَأَ فَانْصِتُوا» (جب امام قراءت کرے تم خاموش رہو)، کیسی ہے؟ امام صاحب رحمہ اللہ نے جواب دیا، وہ صحیح ہے اور میں اس کو صحیح سمجھتا ہوں تو ابوبکر رحمہ اللہ نے پوچھا تو آپ نے اسے اپنی کتاب میں بیان کیوں نہیں کیا؟ امام صاحب رحمہ اللہ نے جواب دیا: ہر وہ حدیث جو میرے نزدیک صحیح ہے، میں نے اس کو یہاں نقل نہیں کیا، یہاں تو میں نے ان ہی کی احادیث کو بیان کیا ہے، جن کی صحت پر سب کا اتفاق ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، قَضَى عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ .قتادہ کے ایک اور شاگرد معمر نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث روایت کی اور (اپنی) حدیث میں کہا: ”چنانچہ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے فیصلہ کر دیا: (کہ) اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی (قال کے بجائے قضی کا لفظ روایت کیا)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اور ہمیں ہمارے طریقے بتائے، اور ہماری نماز سکھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں سیدھی کرو، پھر تم میں سے کوئی ایک امامت کرے، اور جب امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے، تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا، اور جب وہ اللہ اکبر کہے، اور رکوع کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور رکوع کرو، امام تم سے پہلے رکوع کرے گا، اور تم سے پہلے رکوع سے سر بھی اٹھائے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی “، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «اللہم ربنا ولك الحمد» کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری پکار سن لے گا ؛ کیونکہ اللہ نے اپنے بنی کی زبان سے فرمایا ہے: اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی، تو جب وہ اللہ اکبر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور سجدہ کرو، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا، اور تم سے پہلے سجدہ سے سر بھی اٹھائے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی، جب وہ قعدے میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کی پہلی دعا یہ ہو: «التحيات الطيبات الصلوات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته سلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” آداب بندگیاں، پاکیزہ خیراتیں، اور صلاتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے رسول! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں “ یہ سات کلمے ۱؎ ہیں اور یہ نماز کا سلام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1065]
➋ ”بدلے میں ہے“ یعنی وہ تم سے پہلے رکوع میں جاتا ہے، اٹھتا بھی اتنی دیر پہلے ہے اور تم جتنی دیر بعد رکوع میں جاتے ہو، اٹھتے بھی اتنی دیر بعد میں ہو، لہٰذا تمھارا رکوع اس کے رکوع کے برابر ہے۔
➌ «التَّحِيَّاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ» تحیۃ کے لغوی معنیٰ ادب و سلام ہیں۔ کسی کو زندگی کی دعا دیتے وقت کہتے ہیں! «حیاك اللہ» ”اللہ آپ کو تادیر زندہ و سلامت رکھے۔“ علاوہ ازیں اس کے معنیٰ عظمت و بزرگی، بادشاہت، دوام و بقا اور زندگی بھی کیے گئے ہیں، نیز «التَّحِيَّاتُ» سے قولی عبادات بھی مراد لی گئی ہیں۔ «الصَّلَوَاتُ» صلاۃ کے معنیٰ دعا یا نماز ہیں۔ اس سے یہاں مراد نماز پنجگانہ یا تمام نمازیں یا عبادات فعلیہ ہیں۔ «الطَّيِّبَاتُ» ہر اچھی بات اور عمدہ کلام کو کہتے ہیں، مثلاً: اللہ کی حمد و ثنا، ذکر الہٰی اور اقوال صالحہ وغیرہ۔ یہاں عام اعمال صالحہ اور مالی عبادات بھی مراد ہو سکتی ہیں۔ واللہ أعلم۔
➍ آپ نے تشہد سے آگے ذکر نہیں فرمایا؎ اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ بس اتنا ہی فرض یا واجب ہے۔ اس سے زائد درود شریف اور دعا واجب نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صلاۃ و سلام کو اکٹھا ذکر کیا ہے۔ مذکورہ تشہد میں سلام تو ہے، صلاۃ نہیں۔ مساوی حیثیت تقاضا کرتی ہے کہ اس کے بعد صلاۃ (درود) بھی واجب ہے۔ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے محبت و شفقت اور شفاعت کبریٰ متقاضی ہیں کہ اور نہیں تو کم از کم اپنی نماز ہی میں امت رسولِ رؤف و رحیم کا حق درود کی صورت میں ادا کرے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے۔
➎ ”سات کلمات“ اس طرح ہیں: ➊ التَّحِيَّاتُ
➋ الصَّلَوَاتُ
➌ الطَّيِّبَاتُ
➌ سَلَامٌ عَلَيْ النبی
➎ سَلَامٌ عَلَي الصَّالِحِينَ
➏ شھادت توحید
➐ شہادت رسالت۔