صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب حُجَّةِ مَنْ قَالَ الْبَسْمَلَةُ آيَةٌ مِنْ أَوَّلِ كُلِّ سُورَةٍ سِوَى بَرَاءَةَ: باب: سورة براءت کے علاوہ بسم اللہ کو قرآن کی ہر سورت کی پہلی آیت کہنے والوں کی دلیل۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا ، فَقُلْنَا : مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ ، فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ : إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ { 1 } فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ { 2 } إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ { 3 } سورة الكوثر آية 1-3 " ، ثُمَّ قَالَ : أَتَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ ؟ فَقُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَإِنَّهُ نَهْرٌ ، وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ ، هُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ ، فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ ، فَأَقُولُ : رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي ، فَيَقُولُ : مَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَتْ بَعْدَكَ ؟ ، زَادَ ابْنُ حُجْرٍ فِي حَدِيثِهِ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فِي الْمَسْجِدِ ، وَقَالَ : مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ ؟علی بن حجر سعدی اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے (الفاظ انہی کے ہیں) علی بن مسہر سے روایت کی، انہوں نے مختار بن فلفل سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے جب اسی اثناء میں آپ کچھ دیر کے لیے نیند جیسی کیفیت میں چلے گئے، پھر آپ مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنسے؟ آپ نے فرمایا: ”ابھی مجھ پر ایک سورت نازل کی گئی ہے۔“ پھر آپ نے پڑھا: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ» (بلاشبہ ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا۔ پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں، یقیناً آپ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہے)۔ پھر آپ نے کہا: ”کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”وہ ایک نہر ہے جس کا میرے رب عز و جل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، اس پر بہت بھلائی ہے اور وہ ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت پانی پینے کے لیے آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں۔ ان میں سے ایک شخص کو کھینچ لیا جائے گا تو میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ میری امت سے ہے۔ تو وہ فرمائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالیں۔“ (علی) ابن حجر نے اپنی حدیث میں (یہ) اضافہ کیا: آپ مسجد میں ہمارے درمیان تھے اور (أحدثوا بعدك کی جگہ) «أَحْدَثَ بَعْدَكَ» (اس نے نئی بات نکالی) کہا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِغْفَاءَةً ، بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ عَلَيْهِ حَوْضٌ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ .حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ اونگھ طاری ہوئی، جیسا کہ ابن مسہر رحمہ اللہ کی روایت میں گزر چکا ہے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ ایک نہر ہے، جس کا میرے رب نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے، یہ جنت میں ہے اور اس پر حوض ہے، اس میں برتنوں کے ستارے کی تعداد میں ہونے کا ذکر نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
بَيْنَ اَظْهُرِنَا: ہمارے اندر، ہم میں۔
(2)
اَغْفٰي اِغْفَاءَةً: جھپکی اور اونگھ کا طاری ہونا۔
(3)
شَانِئَكَ: تیرا دشمن، تجھ سے بغض وعنادر رکھنے والا۔
(4)
اَلْاَبْتَرْ: دُم کٹا، جس کی نسل نہ چلے۔
ہر خیرو برکت سے محروم۔
(5)
يُخْتَلَجُ: چھینا جائے گا، الگ کیا جائے گا۔
(6)
اَحْدَثَ: دین میں نئی بات نکالنا، کوئی واقعہ یا جرم کر گزرنا۔
فوائد ومسائل: (1)
اس حدیث سے ثابت ہو تا ہے کہ بِسْمِ اللہ ہرسورۃ کا حصہ اور جز ہے جسے آپﷺ ہر سورۃ سے پہلے پڑھتے تھے اور سورۃ براءت کا استثناء ایک الگ دلیل کی بنا پر ہے اور اسی بنا پر ہر سورۃ کے شروع میں اس کو مصحف میں لکھا گیا ہے اور سورۃ اقرا کی ابتدا کی آیا ت جو سب سے پہلی وحی ہیں ان میں یہی تعلیم دی گئی کہ ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ ’’اپنے رب کے نام سے قرآءت کا آغاز کیجئے‘‘ اور اس کے شروع میں بِسْمِ اللہ موجود ہے۔
اس لیے یہ کہنا کہ اگربسملہ ہر سورت کا جز و ہوتی تو اقراکے شروع میں نازل ہوتی درست نہیں ہے کیونکہ اگر یہ اس سے پہلے نازل ہوئی تھی تو اس سے پہلے لکھ کیسے دی گئی؟ (2)
اس حدیث سے علم غیب کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اثبات بلا محل ہے۔
نیز ایک حقیقت کو تسلیم کر کے ہیر پھیر سے دوسری بات کہنا علم کے منافی بات ہے جب یہ تسلیم ہے کہ’’مطلقاً عَالِمُ الْغَیْب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ہر چند کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء الٰہی سے علم غیب حاصل ہے لیکن مطلقاً یہ نہیں کہنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کا علم ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ آپﷺ غیب پر مطلع ہیں یا آپﷺ پر غیب ظاہر کیا گیا ہے یا آپﷺ کو علم غیب عطا کیا گیا ہے (شرح صحیح مسلم سعیدی صاحب1/ 1160)
بلکہ اس سے اوپر یہاں تک لکھا گیا ہے عام مسلمانوں اولیاء اللہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے ہر شخص کو اس کے ظرف کے مطابق غیب کا علم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام مخلوقات سے زیادہ غیب کا علم ہے۔
تو امت کو اس بحث و مسئلہ میں کیوں الجھایا جاتا ہے کہ آپﷺ کو عَالِمُ الْغَیْب نہ ماننے والا گستاخ و بےادب ہے اور کافر ہے امت کا کونسا فرد ہے جو اس کا انکار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جس چیز کا علم دیا وہ آپﷺ کو حاصل ہو گیا جس چیز سے آگاہ نہ کیا، آپﷺ خود آگاہ نہ ہو سکے، جس کی صریح دلیل اس حدیث کے اندر (إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ)
کی صورت میں موجود ہے۔
ایک حدیث میں تین دن کی مسافت بیان فرمائی تھی اور اس میں ایک ماہ کی مسافت کا ذکر ہے؟ ان میں تضاد نہیں ہے کیونکہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کی مسافت بیان کی اس وقت اتنی ہی مقدار ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر فضل و احسان فرمایا اور حوض کو وسیع کر دیا تو جس قدر حوض وسیع ہوتا گیا اسی اعتبار سے آپ امت کو مطلع کرتے رہے۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض کے آبخوروں کو آسمان کے ستاروں سے تشبیہ دینا بھی اس کی چمک دمک بتانا ہے اور ان کی نورانیت کو بیان کرنا ہے۔
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کے مشروب کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔
اس میں جنت میں سے دو پرنالے گرتے ہیں۔
ان میں سے ایک سونے کا ہے اور دوسرا خالص چاندی سے بنا ہوا ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 5990 (2301)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ارشاد باری «إنا أعطيناك الكوثر» کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ ایک نہر ہے جنت میں جس کے دونوں کناروں پر موتی کے گنبد بنے ہوئے ہیں، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو دی ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3359]
وضاحت:
1؎:
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ’’کوثر وہ خیر کثیر ہے جو نبیﷺکو دی گئی ہے‘‘ اس پر بعض لوگوں نے ان کے شاگرد سعید بن جبیرسے کہا کہ کہا تو یہ جاتا ہے کہ وہ ایک نہر ہے جنت میں؟ تو اس پر سعید بن جبیر نے کہا: یہ نہر بھی منجملہ خیر کثیر ہی کے ہے گویا سعید بن جبیر نے دونوں روایتوں کے درمیان تطبیق دینے کی کوشش کی ہے، ویسے جب بزبان رسالت مآب صحیح سند سے یہ تصریح آ گئی کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے تو پھر کسی اور روایت کی طرف جانے کی ضرورت نہیں (تحفة وتفسیرابن جریر)
مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہلکی اونگھ طاری ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا، تو یا تو آپ نے لوگوں سے کہا، یا لوگوں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! آپ کو ہنسی کیوں آئی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابھی میرے اوپر ایک سورت نازل ہوئی “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «بسم الله الرحمن الرحيم إنا أعطيناك الكوثر» یہاں تک کہ سورت ختم کر لی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: ” کیا تم جانتے ہو کوثر کیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4747]
1: میدان کا حشر کا حوض، نہر کوثر کا ایک حصہ ہو گا۔
2: اس حدیث میں دلیل (بسم الله الرحمن الرحيم) ہر سورت کا جزواور اس کی آیت ہوتی ہے، مگر دوسرا فریق دوسرے دلائل سے اس کو مرجوح کہتا ہے، ایک تیسرا مسلک یہ ہے کہ بسم اللہ صرف سورۃ فاتحہ کی آیت ہے۔
دوسری سورتوں میں اس کو تبرک اور فصل کے طور پر لکھا جاتا ہے، اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں اسے سورۃ فاتحہ کی ایک آیت قرار دیا گیا ہے۔
(الصحیحة:179/3، رقم:1183)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی ابھی مجھ پر ایک سورۃ نازل ہوئی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «بسم الله الرحمن الرحيم * إنا أعطيناك الكوثر» یہاں تک کہ آپ نے پوری سورۃ ختم فرما دی، پھر پوچھا: ”تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟“، لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کو زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوثر ایک نہر کا نام ہے، جسے میرے رب نے مجھے جنت میں دینے کا وعدہ کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 784]
مذکورۃ الصدر دونوں احادیث صحیح اور حسن ہیں۔ لہٰذا ترجیح صحیح احادیث کو ہے۔ نیز اگلے باب کی حدیث کہ «بسم الله» سے دو صورتوں کے مابین فرق و فصل نمایاں ہوتا تھا۔ اس سے یہی جانب راحج معلوم ہوتی ہے کہ «بسم الله» سورت کا جز نہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھیے: نیل الاوطار۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ یکایک آپ کو جھپکی سی آئی، پھر مسکراتے ہوئے نے اپنا سر اٹھایا، تو ہم نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت اتری ہے «بسم اللہ الرحمن الرحيم * إنا أعطيناك الكوثر * فصل لربك وانحر * إن شانئك هو الأبتر» ” شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے، یقیناً ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی، تو آپ اپنے رب کے لیے صلاۃ پڑھیں، اور قربانی کریں، یقیناً آپ کا دشمن ہی لاوارث اور بے نام و نشان ہے “، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ “ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے وعدہ کیا ہے، جس کے آبخورے تاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، میری امت اس حوض پر میرے پاس آئے گی، ان میں سے ایک شخص کھینچ لیا جائے گا تو میں کہوں گا: میرے رب! یہ تو میری امت میں سے ہے؟ تو اللہ تعالیٰ مجھ سے فرمائے گا: تمہیں نہیں معلوم کہ اس نے تمہارے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کی ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 905]
➋ مقتدی اپنے امام سے، چھوٹا اپنے بڑے سے اور اسی طرح مرید اپنے پیر سے کوئی نئی بات دیکھ کر اس کی بابت سوال کر سکتا ہے جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے دیکھا تو آپ سے مسکرانے کا سبب پوچھ لیا۔ بزرگوں اور مشائخ کو ایسے سوال کا جواب بھی دینا چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس سوال کا جواب بھی دیا تھا۔
➌ اس اونگھ سے مراد وحی کی کیفیت ہو گی۔
➍ امام صاحب کا استدلال یہ ہے کہ (بسم اللہ الرحمن الرحیم) سورت کا جز ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا اگرچہ یہ احتمال بھی ہے کہ آپ نے (بسم اللہ الرحمن الرحیم) تبرکا پڑھی ہو۔ دونوں صورتوں میں ہر سورت سے پہلے (بسم اللہ الرحمن الرحیم) پڑھنی ہے، خواہ جز ہو یا تبرک کے طور پر۔ البتہ سروجہر، یعنی آہستہ اور اونچی کی بحث ہو سکتی ہے۔ آپ نے مندرجہ بالا حدیث میں تو جہراً ہی پڑھی ہے مگر یہ نماز سے باہر کی بات ہے۔ نماز کے اندر اکثر روایات آہستہ پڑھنے کے بارے میں آتی ہیں اگرچہ کبھی کبھار جہرا بھی جائز ہے۔
➎ امام شافعی (بسم اللہ الرحمن الرحیم) کو ہر سورت کا جز سمجھتے ہیں جب کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اسے تبرک خیال کرتے ہیں۔ درست بات یہ ہے کہ یہ سورۂ فاتحہ کا جز ہے۔
➏ ”آپ کے بعد اس نے کیا نیاکام کیا۔“ یہ اشارہ ارتداد کی طرف بھی ہو سکتا ہے اور بدعات کے اجرا کی طرف بھی۔ واللہ أعلم۔
➐ بدعت اس قدر خطرناک اور سنگین جرم ہے کہ روزقیامت بدعتی شخص کو حوض کوثر سے دور ہٹا کر جہنم کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔
➑ بدعتی کو حوض کوثر کے پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہیں ہو گا کیونکہ بدعتی نے جرم عظیم کا ارتکاب کیا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو بدلا اور خود کو ”مقام رسالت“ پر فائز کر لیا، لہٰذا اس کے لیے سخت ترین وعید ہے۔ اعاذنا اللہ منه۔
➒ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب نہیں۔
➓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جہان فانی سے رخصت ہو چکے ہیں۔
(11) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مختار کل نہیں۔ قیامت والے دن بھی صرف اسے ہی نجات ملے گی جسے اللہ چاہے گا۔ اور اسے معاف فرمائے گا، لہٰذا درج ذیل عقیدہ تعلیمات نبوی کے منافی اور ایمان کے فنا کا موجب ہے کہ اللہ کے پلڑے میں وحدت کے سوا کیا ہے جو کچھ ہمیں لینا ہے لے لیں گے محمد سے