صحيح مسلم
مقدمة— مقدمہ
باب فِي التَّحْذِيرِ مِنَ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا کتنا بڑا گناہ ہے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ رَبِيعَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ الْمَسْجِدَ ، وَالْمُغِيرَةُ أَمِيرُ الْكُوفَةِ ، قَال : فَقَالَ الْمُغِيرَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ ، لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ ، فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .علی بن ابی ربیعہ والبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں مسجد میں پہنچا، جس وقت کوفہ کے گورنر حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ تھے تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”میری طرف بات منسوب کرنا کسی اور کی طرف بات منسوب کرنے کی طرح نہیں ہے، جو مجھ پر عمداً جھوٹ باندھے گا، وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے۔“
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الأَسدِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ ، لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ .محمد بن قیس اسدی نے علی بن ربیعہ اسدی سے، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی لیکن ”بلاشبہ مجھ پر جھوٹ بولنا اس طرح نہیں جیسے کسی ایک (عام) آدمی پر جھوٹ بولنا ہے۔“ (اس جملہ) بیان نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
آپ ﷺ کی طرف جو بات منسوب ہوگی، وہ دین وشریعت بن جائے گی، لیکن کسی اور کی بات دین وشریعت نہیں بنتی، اس لیے آپ کی طرف منسوب کرنا، اتنا ہلکا اور آسان نہیں ہے، جتنا کسی اور کی طرف بات منسوب کرنا آسان ہے، کسی اور کی طرف بات منسوب کرنے میں اتنا خطرہ اور خوف لاحق نہیں ہوسکتا، جو آپ ﷺ کی طرف کسی بات کے منسوب کرنے کی صورت میں لاحق ہوسکتا ہے اور لاحق ہوناچاہیے۔
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 41]
ان روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کا عذاب مذکور ہے اور حقیقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنا تمام جہان کے جھوٹ سے بدتر ہے۔