صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب نَهْيِ الْمَأْمُومِ عَنْ جَهْرِهِ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ إِمَامِهِ: باب: امام کے پیچھے مقتدی کا بلند آواز سے قرأت کرنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ ، أَوِ الْعَصْرِ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ قَرَأَ خَلْفِي ، ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، قَالَ رَجُلٌ : أَنَا ، وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ ، قَالَ : قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " .حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی، اور پوچھا، ”تم میں سے کس نے میرے پیچھے سورة «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» پڑھی؟“ تو ایک آدمی نے جواب دیا، میں نے اور اس سے میرا مقصد صرف خیر ہی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جانا، تم میں سے کوئی میرے ساتھ قراءت میں الجھ رہا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى الظُّهْرَ ، فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ ، ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " أَيُّكُمْ قَرَأَ " ، أَوْ " أَيُّكُمُ الْقَارِئُ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا ، فَقَالَ : " قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " .شعبہ نے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے سنا، وہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی تو ایک آدمی نے آپ کے پیچھے «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» پڑھنا شروع کر دی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”تم میں سے کس نے پڑھا“ یا (فرمایا:) ”تم میں سے پڑھنے والا کون ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: میں ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”میں سمجھا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس میں الجھا رہا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ ، وَقَالَ : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " .قتادہ کے ایک اور شاگرد ابن ابی عروبہ نے اسی سند کے ساتھ (مذکورہ بالا) روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اور فرمایا: ”میں جان گیا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس میں الجھا رہا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
میں بھی آپﷺ کے پیچھے فاتحہ کے بعد کوئی سورت بلند آواز میں پڑھ لیتے تھے اس لیے آپﷺ نے فاتحہ کے بعد والی قرآءت پر اعتراض کیا اور آہستہ پڑھنے کا حکم دیا۔
جس سے معلوم ہوا سری نمازوں میں فاتحہ کے بعد بھی کوئی سورت آہستہ پڑھی جائے گی جہری نمازوں (رکعتوں)
میں فاتحہ کے سوا کوئی قرآءت نہیں ہے الا یہ کہ مقتدی امام سے اس قدر فاصلہ پر ہو کہ وہاں تک قرآءت کی آواز نہ پہنچ رہی ہو تو پھر وہ فاتحہ کے بعد بھی قرآءت کرے گا لیکن یہ قرآءت آہستہ ہو گی۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی تو ایک آدمی نے آپ کے پیچھے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی؟ “ تو اس آدمی نے عرض کیا: میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈال دیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 918]
➋ سری نماز میں سورۂ فاتحہ کے علاوہ زائد سورت بھی پڑھ سکتا ہے، لہٰذا باب میں امام صاحب رحمہ اللہ کے الفاظ ”قرأت نہ کرنا“ سے مراد ہے، بلند آواز سے نہ پڑھنا یا فاتحہ سے زائد نہ پڑھنا۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر پڑھائی، اور ایک آدمی آپ کے پیچھے قرآت کر رہا تھا، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو پوچھا: ” تم میں سے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی ہے؟ “ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے، اور میری نیت صرف خیر کی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے بعض نے مجھ سے سورۃ پڑھنے میں خلجان میں دال دیا “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 919]
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، تو ایک شخص نے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی، تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ نے پوچھا: ” «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی ہے؟ “ تو ایک شخص نے عرض کیا: میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈال دیا ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1745]
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر پڑھائی، تو جب آپ پلٹے تو فرمایا: ”تم میں سے کس نے (ہمارے پیچھے) سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی ہے؟“، تو ایک آدمی نے کہا: میں نے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے میرے دل میں خلجان ڈال دیا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 829]
➊ قرآن کریم کو لحن عرب میں پڑھنا مستحب اور مطلو ب ہے، اور اس میں اپنی سی کوشش اور محنت کرتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ مگر بدوی اور عجمی لوگوں کے لئے عربی اسلوب اور قواعد تجوید پر کماحقہ پورا اترنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے آپ نے مختلف طبقات کے لوگوں کی قرأت کی توثیق فرما کر امت پر آسانی اور احسان فرمایا ہے۔
➋ ایسے لوگوں کا پیدا ہو جانا جو قرأت قرآن کو ریا، شہرت اور حطام دنیا (دنیوی ساز و سامان) جمع کرنے کا ذریعہ بنا لیں، آثار قیامت میں سے ہے۔
➌ ظاہر الفاظ کی تجوید میں مبالغہ اور آواز زیر و بم ہی کو قراءت جاننا اور مفہوم و معنی سے صرف نظر کر لینا ازحد معیو ب ہے۔
➍ تلاوت قرآن اور اس کے درس تدریس میں اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھنا واجب ہے۔
➎ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم «احق ما اخذتم عليه ا جرا كتاب الله» سب سے عمدہ چیز جس پر تم ا جر (عوض و اجرت) لے سکتے ہو، اللہ کی کتاب ہے۔ [صحيح بخاري كتاب الا جارة باب 16]
اور مذکورہ بالا حدیث میں تطبیق یہ ہے کہ عظیمت، عوض نہ لینے میں ہے۔ تاہم امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ معلم اس سلسلے میں کوئی شرط نہ کرے۔ ویسے کچھ دیا جاوے تو قبول کر لے۔ جناب حسن بصری رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں دس درہم ادا کیے۔ [حواله مذكور]
بہرحال مدرس اور داعی حضرات مجاہد کی طرح ہیں، اگر اعلائے کلمۃ اللہ کی نیت رکھتے ہوں اور عوض لیں تو ان شاء اللہ مباح ہے، کوئی جر م نہیں۔ لیکن نیت محض مال کھانا ہو تو حرام ہے اور دنیا و آخرت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی خسارے کا سودا نہیں۔