صحيح مسلم
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب اسْتِحْبَابِ الْقَوْلِ مِثْلَ قَوْلِ الْمُؤَذِّنِ لِمَنْ سَمِعَهُ ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَسْأَلُ اللَّهَ لَهُ الْوَسِيلَةَ: باب: اذن سننے والے کے لئے اسی طرح کہنا چاہیے جس طرح مؤذن نے کہا اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وسیلہ کی دعا کرنے کا استحباب۔
حدثني إسحاق بن منصور أخبرنا أبو جعفر محمد بن جَهْضَمٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسَافٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ أَحَدُكُمُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " .حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مؤذن «اللہ أکبر، اللہ أکبر» کہے تو تم میں سے (ہر) ایک «اللہ أکبر، اللہ أکبر» کہے، پھر وہ (مؤذن) کہے «أشہد أن لا إلہ إلا اللہ» تو وہ بھی کہے: «أشہد أن لا إلہ إلا اللہ»، پھر (مؤذن) «أشہد أن محمدا رسول اللہ» کہے تو وہ بھی «أشہد أن محمدا رسول اللہ» کہے، پھر وہ (مؤذن) «حي على الصلاة» کہے تو وہ «لا حول ولا قوة إلا باللہ» کہے، پھر مؤذن «حي على الفلاح» کہے، تو وہ «لا حول ولا قوة إلا باللہ» کہے، پھر (مؤذن) «اللہ أکبر، اللہ أکبر» کہے، تو وہ بھی «اللہ أکبر، اللہ أکبر» کہے، پھر (مؤذن) «لا إلہ إلا اللہ» کہے تو وہ بھی اپنے دل سے «لا إلہ إلا اللہ» کہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اذان کے دو پہلو ہیں ایک حیثیت سے وہ نماز باجماعت کا اعلان اور بلاوا ہے اس حیثیت سے ہر مسلمان کا فریضہ ہے کہ وہ اذان سنتے ہی نماز میں شرکت کی تیاری اور اہتمام کرے اور بروقت مسجد میں پہنچ کر جماعت میں شریک ہو۔
اذان کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ ایمان کی دعوت و پکاراور دین حق کا منشور ہے اور اس حیثیت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر مسلمان اذان سنتے ہی اس ایمانی دعوت کے ہر جزو اور ہر بول کی اور دین حق کے اس منشور کی ہر دفعہ کی اپنے دل کی گہرائی اور زبان سے تصدیق کرے اور مؤذن کے ساتھ ان کلمات کو کہے اس طرح مسلمان آبادی ہر اذان کے وقت اپنے ایمانی عہد و میثاق اور دین حق کے منشور پر عمل پیرا ہونے کے عہد کی تجدید کرے (2)
ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سامع اذان سن کر مؤذن والے کلمات بھی دہرا سکتا ہے اور (حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ. حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ)
کے جواب میں (لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّابِاللَّهِ)
بھی کہہ سکتا ہے دونوں طرح جواب دینا درست ہے اور بقول بعض دونوں کو جمع بھی کیا جا سکتا ہے۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مؤذن: «الله أكبر الله أكبر» کہے تو تم میں سے جو (اخلاص کے ساتھ) «الله أكبر الله أكبر» کہے، پھر جب وہ «أشهد أن لا إله إلا الله» کہے تو یہ بھی «أشهد أن لا إله إلا الله» کہے، اور جب وہ «أشهد أن محمدا رسول الله» کہے تو یہ بھی «أشهد أن محمدا رسول الله» کہے، جب وہ «حى على الصلاة» کہے تو یہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہے، جب وہ «حى على الفلاح» کہے تو یہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہے، پھر جب وہ «الله أكبر الله أكبر» کہے تو یہ بھی «الله أكبر الله أكبر» کہے، اور جب وہ «لا إله إلا الله» کہے تو یہ بھی «لا إله إلا الله» کہے تو وہ جنت میں جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 527]
جنت کا داخلہ توحید و رسالت اور شریعت کی قول و عمل سے تصدیق ہی پر مبنی ہے۔ اور اذان ان سب کی جامع ہے۔
➋ «لاحول ولا قوة إلابالله» کا معنی ہے کہ کسی برائی اور شر سے بچنا اور کسی نیکی یا خیر و صلاح کی توفیق اللہ کے بغیر ممکن نہیں۔
➌ اس حدیث سے اذان کا جواب دینے کی فضیلت واضح ہے، البتہ «حي على الصلوة» اور «حي على الفلاح» کے جواب میں «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہنا ہے۔