مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 374
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ ، فَذَكَرُوا لَهُ الْوُضُوءَ ، فَقَالَ : أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ ، فَأَتَوَضَّأَ ؟ " .

حماد نے عمرو سے، انہوں نے سعید بن حویرث سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ہاتھ دھو کر) بیت الخلاء سے نکلے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا، لوگوں نے آپ سے وضو کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”(کیا) میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں کہ وضو کروں؟“

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ مِنَ الْغَائِطِ ، وَأُتِيَ بِطَعَامٍ ، فَقِيلَ لَهُ : أَلَا تَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ : لِمَ أَأُصَلِّي ، فَأَتَوَضَّأَ ؟ " .

سفیان بن عیینہ نے عمرو سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہتے تھے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ قضائے حاجت کی جگہ سے (ہاتھ دھو کر) آئے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا، آپ سے عرض کی گئی: کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ نے جواب دیا: ”کس لیے؟ کیا مجھے نماز پڑھنی ہے کہ وضو کروں؟“

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ مَوْلَى آلِ السَّائِبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَائِطِ ، فَلَمَّا جَاءَ ، قُدِّمَ لَهُ طَعَامٌ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَوَضَّأُ ؟ قَالَ : لِمَ أَلِلصَّلَاةِ ؟ " .

محمد بن مسلم طائفی نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے آل سائب کے آزاد کردہ غلام سعید بن حویرث سے روایت کی کہ اس نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو (یہ) کہتے ہوئے سنا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ آئے تو آپ کو کھانا پیش کیا گیا، آپ سے عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ نے جواب دیا: ”کس لیے؟ کیا نماز کے لیے؟“

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حُوَيْرِثٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَضَى حَاجَتَهُ مِنَ الْخَلَاءِ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ ، فَأَكَلَ ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً ، قَالَ : وَزَادَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ لَهُ : إِنَّكَ لَمْ تَوَضَّأْ ، قَالَ : مَا أَرَدْتُ صَلَاةً فَأَتَوَضَّأَ ؟ " ، وَزَعَمَ عَمْرٌو ، أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ .

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت الخلاء والی ضرورت پوری کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمایا اور پانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا اور ابن جریج کا قول ہے کہ مجھے عمرو بن دینار نے سعید بن حویرث سے چیز زائد بتائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں فرمایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”میں نے نماز پڑھنے کا ارادہ نہیں کیا، کہ وضو کروں۔“ اور عمرو کا قول ہے اس نے سعید بن حویرث سے سنا ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 374
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 132 | صحيح مسلم: 374 | سنن ترمذي: 1847 | سنن ابي داود: 3760 | صحيح ابن خزيمه: 35 | مسند الحميدي: 484

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ بیت الخلاء سے نکلے تو آپﷺ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا، لوگوں نے آپﷺ سے وضو کا تذکرہ کیا، آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں کہ وضو کروں؟‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:827]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بالاتفاق وضو کے بغیر کھانا پینا اور ذکر واذکار کرنا اور زبانی تلاوت کرنا جائز ہے یہی حدیث اس کی دلیل ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 374 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 132 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کی جگہ سے نکلے تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، تو لوگوں نے پوچھا: کیا ہم لوگ وضو کا پانی نہ لائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: مجھے وضو کرنے کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 132]
132۔ اردو حاشیہ: ➊ نماز کے وقت وضو کا حکم بھی تب ہے اگر وہ بے وضو ہو یا اسے حکم استحباب پر محمول کیا جائے گا۔
➋ اگر ہاتھ صاف ہوں تو کھانے کے وقت دوبارہ دھونے کا اہتمام ضروری نہیں، بہتر ہے۔
➌ ہر وقت باوضو رہنا مستحب ہے مگر واجب نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 132 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3760 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کھانے کے وقت دونوں ہاتھ دھونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے، تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، لوگوں نے عرض کیا: کیا ہم آپ کے پاس وضو کا پانی نہ لائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے وضو کرنے کا حکم صرف اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3760]
فوائد ومسائل:

اگر ہاتھ صاف ہوں تو کھانے کے وقت دوبارہ دھونے کا اہتمام کوئی سنت نہیں ہے۔


بیت الخلا میں فراغت کے بعد ہاتھ اچھی طرح صاف کرنا ضروری ہیں کھانے کےلئے انہیں دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں۔


ہر وقت باوضو رہنا مستحب ہے مگر واجب نہیں۔


کھانے کے وقت وضو کا اہتمام بہتر ہے۔
ضروری نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3760 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح ابن خزيمه / حدیث: 35 کی شرح از الشیخ محمد فاروق رفیع ✍️
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلا سے (قضائے حاجت کے بعد) نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا۔ صحابہ کرام نے عرض کی کہ کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی لائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا... [صحيح ابن خزيمه ح: 35]
فوائد:

➊ علماء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ بے وضو شخص کے لیے کھانا پینا، اللہ تعالٰی کا ذکر کرنا، قرآن کی تلاوت کرنا اور جماع کرنا جائز ہے اور بلا طہارت ان میں سے کوئی عمل بھی مکروہ نہیں ہے۔ [نووي: 68/4]

➋ کھانے پینے کے بعد وضو کرنا نہ واجب ہے اور نہ مستحب، اسی طرح وضو ٹوٹنے کے معاََ بعد وضو کرنا ضروری نہیں بلکہ صحت نماز کے لیے وضو شرط ہے اور نماز کی ادائیگی کے لیے وضو کرنا فرض ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 35 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 484 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
484- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کرکے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، تو عرض کی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو نہیں کریں گے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نماز تو نہیں پڑھنے لگا، جو وضو کروں۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:484]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب کر کے فورا بعد وضو کرنا واجب نہیں ہے، وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 484 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔