صحيح مسلم
كتاب الحيض— حیض کے احکام و مسائل
باب جَوَازِ أَكْلِ الْمُحْدِثِ الطَّعَامَ وَأَنَّهُ لاَ كَرَاهَةَ فِي ذَلِكَ وَأَنَّ الْوُضُوءَ لَيْسَ عَلَى الْفَوْرِ: باب: بے وضو کھانا درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں، اور وضو فی الفور واجب نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ ، فَذَكَرُوا لَهُ الْوُضُوءَ ، فَقَالَ : أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ ، فَأَتَوَضَّأَ ؟ " .حماد نے عمرو سے، انہوں نے سعید بن حویرث سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ہاتھ دھو کر) بیت الخلاء سے نکلے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا، لوگوں نے آپ سے وضو کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”(کیا) میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں کہ وضو کروں؟“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ مِنَ الْغَائِطِ ، وَأُتِيَ بِطَعَامٍ ، فَقِيلَ لَهُ : أَلَا تَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ : لِمَ أَأُصَلِّي ، فَأَتَوَضَّأَ ؟ " .سفیان بن عیینہ نے عمرو سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہتے تھے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ قضائے حاجت کی جگہ سے (ہاتھ دھو کر) آئے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا، آپ سے عرض کی گئی: کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ نے جواب دیا: ”کس لیے؟ کیا مجھے نماز پڑھنی ہے کہ وضو کروں؟“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ مَوْلَى آلِ السَّائِبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَائِطِ ، فَلَمَّا جَاءَ ، قُدِّمَ لَهُ طَعَامٌ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَوَضَّأُ ؟ قَالَ : لِمَ أَلِلصَّلَاةِ ؟ " .محمد بن مسلم طائفی نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے آل سائب کے آزاد کردہ غلام سعید بن حویرث سے روایت کی کہ اس نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو (یہ) کہتے ہوئے سنا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ آئے تو آپ کو کھانا پیش کیا گیا، آپ سے عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ نے جواب دیا: ”کس لیے؟ کیا نماز کے لیے؟“
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حُوَيْرِثٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَضَى حَاجَتَهُ مِنَ الْخَلَاءِ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ ، فَأَكَلَ ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً ، قَالَ : وَزَادَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ لَهُ : إِنَّكَ لَمْ تَوَضَّأْ ، قَالَ : مَا أَرَدْتُ صَلَاةً فَأَتَوَضَّأَ ؟ " ، وَزَعَمَ عَمْرٌو ، أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ .حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت الخلاء والی ضرورت پوری کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمایا اور پانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا اور ابن جریج کا قول ہے کہ مجھے عمرو بن دینار نے سعید بن حویرث سے چیز زائد بتائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں فرمایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”میں نے نماز پڑھنے کا ارادہ نہیں کیا، کہ وضو کروں۔“ اور عمرو کا قول ہے اس نے سعید بن حویرث سے سنا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کی جگہ سے نکلے تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، تو لوگوں نے پوچھا: کیا ہم لوگ وضو کا پانی نہ لائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ” مجھے وضو کرنے کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 132]
➋ اگر ہاتھ صاف ہوں تو کھانے کے وقت دوبارہ دھونے کا اہتمام ضروری نہیں، بہتر ہے۔
➌ ہر وقت باوضو رہنا مستحب ہے مگر واجب نہیں۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے، تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، لوگوں نے عرض کیا: کیا ہم آپ کے پاس وضو کا پانی نہ لائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے وضو کرنے کا حکم صرف اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3760]
1۔
اگر ہاتھ صاف ہوں تو کھانے کے وقت دوبارہ دھونے کا اہتمام کوئی سنت نہیں ہے۔
2۔
بیت الخلا میں فراغت کے بعد ہاتھ اچھی طرح صاف کرنا ضروری ہیں کھانے کےلئے انہیں دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں۔
3۔
ہر وقت باوضو رہنا مستحب ہے مگر واجب نہیں۔
4۔
کھانے کے وقت وضو کا اہتمام بہتر ہے۔
ضروری نہیں۔
➊ علماء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ بے وضو شخص کے لیے کھانا پینا، اللہ تعالٰی کا ذکر کرنا، قرآن کی تلاوت کرنا اور جماع کرنا جائز ہے اور بلا طہارت ان میں سے کوئی عمل بھی مکروہ نہیں ہے۔ [نووي: 68/4]
➋ کھانے پینے کے بعد وضو کرنا نہ واجب ہے اور نہ مستحب، اسی طرح وضو ٹوٹنے کے معاََ بعد وضو کرنا ضروری نہیں بلکہ صحت نماز کے لیے وضو شرط ہے اور نماز کی ادائیگی کے لیے وضو کرنا فرض ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب کر کے فورا بعد وضو کرنا واجب نہیں ہے، وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔