حدیث نمبر: 368
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جميعا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : " كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا ، كَيْفَ يَصْنَعُ بِالصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَا يَتَيَمَّمُ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : فَكَيْفَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة المائدة آية 6 ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذِهِ الآيَةِ ، لَأَوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ ، أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ : أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ ، بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ، فَأَجْنَبْتُ ، فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً ، ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَى الْيَمِينِ وَظَاهِرَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَوَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ .

شقیق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ابو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے پوچھا، بتائیے، اگر انسان جنبی ہو جائے اور ایک ماہ تک اسے پانی نہ ملے تو وہ تیمم نہ کرے؟ تو نماز کا کیا کرے؟ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، وہ تیمم نہ کرے، اگرچہ اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے تو اس پر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا تو سورہ مائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب، «فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا» (اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو)۔ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، اگر انہیں اس آیت کی بنا پر رخصت دے دی جائے تو خطرہ ہے، جب انہیں پانی ٹھنڈا محسوس ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم کر لیں گے تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا، کیا آپ نے عمار رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت کے لیے بھیجا، میں جنبی ہو گیا، اور مجھے پانی نہ ملا تو میں، چوپائے کی طرح زمین پر لوٹ پوٹ ہوا (اور نماز پڑھ لی) پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے بس اپنے دونوں ہاتھوں سے اس طرح کرنا کافی تھا۔“ پھر اپنے دونوں ہاتھ ایک ہی دفعہ زمین پر مارے، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور اپنے چہرے پر ملا تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ کے قول پر قناعت و اطمینان کا اظہار نہیں کیا۔

وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا ، وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الأَرْضِ ، فَنَفَضَ يَدَيْهِ ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ ، وَكَفَّيْهِ " .

عبدالواحد نے کہا: ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی، کہا: حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے پوچھا ... پھر ابومعاویہ کی (سابقہ) حدیث پورے واقعے سمیت بیان کی، مگر یہ کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے اس طرح کر لینا ہی کافی تھا۔“ اور اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، (پھر) اپنے دونوں ہاتھ جھاڑے اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کیا۔

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً ، فَقَالَ : لَا تُصَلِّ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ ، فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ ، وَأَمَّا أَنَا ، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ وَصَلَّيْتُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ الأَرْضَ ، ثُمَّ تَنْفُخَ ، ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ ، وَكَفَّيْكَ " ، فَقَالَ عُمَرُ : اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ ، قَالَ : إِنْ شِئْتَ لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ ، قَالَ الْحَكَمُ ، وَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، مِثْلَ حَدِيثِ ذَرٍّ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ ، عَنْ ذَرٍّ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ الَّذِي ذَكَرَ الْحَكَمُ ، فَقَالَ عُمَرُ : نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ .

یحییٰ بن سعید قطان نے شعبہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھ سے حکم نے ذر (بن عبداللہ بن زرارہ) سے، انہوں نے سعید بن عبدالرحمن بن ابزیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا: میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا۔ تو انہوں نے جواب دیا: نماز نہ پڑھ۔ اس پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں، جب میں اور آپ ایک فوجی دستے میں تھے تو ہم جنبی ہو گئے اور پانی نہ ملا تو آپ نے نماز نہ پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا اور نماز پڑھ لی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا کہ اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے، پھر ان میں پھونک مار کر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی ہتھیلیوں کا مسح کر لیتے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمار! اللہ سے ڈرو۔ (عمار رضی اللہ عنہ نے) جواب دیا: اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ واقعہ بیان نہیں کرتا۔ حکم نے کہا: یہی روایت مجھے (ذر کے واسطے کے بغیر) ابن عبدالرحمن بن ابزیٰ نے اپنے والد سے براہ راست بھی سنائی جو بعینہ ذر کی حدیث کی طرح تھی۔ کہا: مجھے سلمہ نے ذر کے حوالے سے حکم کی بیان کردہ سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے جس چیز (کی ذمہ داری) کو اٹھا لیا ہے ہم اسے آپ ہی پر ڈالتے ہیں (آپ اپنے اعتماد پر یہ روایت بیان کر سکتے ہیں)۔

وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَرًّا ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، قَالَ : قَالَ الْحَكَمُ : وَقَدْ سَمِعْتَهُ مِنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَجْنَبْتُ ، فَلَمْ أَجِدْ مَاءً ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ ، قَالَ عَمَّارٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنْ شِئْتَ لِمَا جَعَلَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ حَقِّكَ ، لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا ، وَلَمْ يَذْكُرْ ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ ، عَنْ ذَرٍّ .

نضر بن شمیل نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا: میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا۔ اس کے بعد (مذکورہ بالا) حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو آپ کے اس حق کی بنا پر جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر رکھا ہے، میں یہ حدیث کسی کو نہ سناؤں گا۔ اور (شعبہ نے یہاں) مجھے سلمہ نے ذر حدیث بیان کی (کے الفاظ) کا ذکر نہیں کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 368
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
شقیق سے روایت ہے کہ میں عبداللہ اور ابو موسیٰ کی خدمت میں حاضر تھا ابو موسیٰ ؓ نے ابو عبدالرحمٰن سے پوچھا، بتایئے، اگر انسان جنبی ہو جائے اور ایک ماہ تک اسے پانی نہ ملے تو وہ تیمّم نہ کرے؟ تو نماز کا کیا کرے؟ اس پر عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا، وہ تیمّم نہ کرے، اگرچہ اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے تو اس پر ابو موسیٰ نے کہا تو سورة مائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب، اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمّم کرو"۔ اس پر عبداللہ رضی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:818]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: (1)
اس حدیث سے معلوم ہوا اگر پانی نہ ملے تو غسل جنابت کی جگہ وہی تیمم کافی ہو گا جو وضو کے قائم مقام ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو ایک دفعہ مٹی پر مارا جائے گا اور اگر ان پر تنکے لگ جائیں یا مٹی زیادہ لگ جائے تو ان پر پھونک مار کر منہ اور دونوں ہاتھوں پر کلائی تک مسح کر لیں گے اور اس سے نماز پڑھ لیں گے۔
(2)
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول پر قناعت نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تھا، آپ بھی اس سفر میں میرے ساتھ تھے اور آپ کے سامنے یہ واقعہ پیش آیا تھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ واقعہ یاد نہیں تھا اس لیے انھوں نے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث بیان کرنے سے نہیں روکا صرف اپنی موجوگی کا انکار کیا امام احمد رحمۃ اللہ علیہ، امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہ اور محدثین کا مؤقف اس روایت کے مطابق ہے اور یہی صحیح اور مختار ہے۔
(3)
جنابت کی صورت میں اگر پانی نہ ملے تو تیمم کر کے نماز پڑھنے پر امت کا اجماع ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سد ذریعہ کے طور پر جنابت کی صورت میں تیمم کی اجازت نہیں دیتے تاکہ لوگ اس رخصت سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں وگرنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ان احادیث کے بیان کرنے سے روک دیتے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 368 سے ماخوذ ہے۔