حدیث نمبر: 359
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَمَعَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَأُتِيَ بِهَدِيَّةٍ خُبْزٍ وَلَحْمٍ ، فَأَكَلَ ثَلَاثَ لُقَمٍ ، ثُمَّ صَلَّى بِالنَّاسِ ، وَمَا مَسَّ مَاءً " ،

محمد بن عمرو بن حلحلہ نے محمد بن عمرو بن عطاء سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے زیب تن فرمائے، پھر نماز کے لیے نکلے تو آپ کو روٹی اور گوشت کا تحفہ پیش کیا گیا، آپ نے تین لقمے تناول فرمائے، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی اور پانی کو نہیں چھوا۔

وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ حَلْحَلَةَ وَفِيهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، شَهِدَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : صَلَّى وَلَمْ يَقُلْ بِالنَّاسِ .

محمد بن عمرو بن عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا پھر اوپر والی حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کام کرتے دیکھا اور کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی یہ نہیں کہا لوگوں کو نماز پڑھائی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 359
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے کپڑے پہنے، پھر نماز کے لیے نکلے تو آپﷺ کو روٹی اور گوشت کا تحفہ پیش کیا گیا، آپﷺ نے تین لقمے تناول فرمائے، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:800]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: (1)
امام مسلم پہلے ان روایات کو لائے ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کرنا پڑتا ہے اس کے بعد وہ احادیث لائے ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہےکہ آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، اس اسلوب اور انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ امام مسلم کے نزدیک پہلی قسم کی روایات منسوخ ہیں، اس لیے عربی نسخہ میں دونوں قسم کی احادیث پر الگ الگ باب قائم کیے گئے ہیں، اگرچہ برصغیر کے نسخوں میں دونوں قسم کی احادیث پر (الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ)
کا باب قائم کیا گیا ہے اور وضو کے حکم کی صراحت نہیں کی گئی۔
(2)
جمہور سلف وخلف، صحابہ و تابعین اور آئمہ اربعہ کا قول یہی ہے کہ آگ پر پکے کھانے کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹتا، لیکن بعض تابعین، عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ، زہری رحمۃ اللہ علیہ، حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ، اور ابو قلابہ رحمۃ اللہ علیہ کا نظریہ یہ ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے صحیح نظریہ، جمہور کا ہے کیونکہ خلفائے راشدین کا عمل اس کا مؤید ہے، اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث نسخ پر صراحتاً دلالت کرتی ہے۔
(3)
کھانے کے بعد نماز والے وضو کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہاتھ اور منہ کی صفائی کے لیے بہتر ہے کہ کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ منہ دھو لیے جائیں، کیونکہ کھانا کھانے کے بعد ہاتھ منہ کھانے سے متاثر ہوتے ہیں اور آپﷺ نے دودھ کی چکناہٹ کی بنا پر کلی کی ہے۔
آج کل کھانے چکناہٹ سے بھرپور ہوتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 359 سے ماخوذ ہے۔