صحيح مسلم
كتاب الحيض— حیض کے احکام و مسائل
باب نَسْخِ: «الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ»: باب: ایسی چیز سے وضو کا حکم منسوخ ہونا جسے آگ نے چھوا ہو۔
حدیث نمبر: 356
قَالَ قَالَ عَمْرٌو ، وَحَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ الأَشَجِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا ، ثُمَّ صَلَّى ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاں دستی کا گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
قَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِذَلِكَ .یعقوب بن اشج نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث بیان کی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 210 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
´کوئی شخص ستو کھا کر صرف کلی کرے اور نیا وضو نہ کرے`
«. . . عَنْ مَيْمُونَةَ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " . . . .»
". . . میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں (بکری کا) شانہ کھایا پھر نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں فرمایا . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ مَنْ مَضْمَضَ مِنَ السَّوِيقِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ:: 210]
«. . . عَنْ مَيْمُونَةَ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " . . . .»
". . . میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں (بکری کا) شانہ کھایا پھر نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں فرمایا . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ مَنْ مَضْمَضَ مِنَ السَّوِيقِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ:: 210]
تشریح:
یہاں حضرت امام رحمہ اللہ نے ثابت فرمایا کہ بکری کا شانہ کھانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں فرمایا تو ستو کھا کر بھی وضو نہیں ہے۔ جیسا کہ پہلی حدیث میں ہے۔
یہاں حضرت امام رحمہ اللہ نے ثابت فرمایا کہ بکری کا شانہ کھانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں فرمایا تو ستو کھا کر بھی وضو نہیں ہے۔ جیسا کہ پہلی حدیث میں ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 210 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 210 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
210. حضرت میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے پاس بکری کے شانے کا گوشت تناول فرمایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:210]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث میں نہ ستو وغیرہ کا ذکر ہے اور نہ کلی وغیرہ کرنے کا بیان ہے۔
شراح بخاری نے اس کی مختلف توجیہات پیش کی ہیں: (1)
۔
اس حدیث کا تعلق باب سابق سے ہے، لیکن باب در باب کے اصول پر اس سے پہلے ذکر کردہ حدیث پر ایک نیا عنوان قائم کر کے یہ بتایا کہ آگ سے تیار کردہ چیزوں کے استعمال پر منہ کو صاف کرنے کے لیے صرف کلی کافی ہے۔
(2)
۔
حدیث میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر یہاں کاتب کی غلطی سے بے محل ہو گیا ہے، کیونکہ فربری کے نسخے میں یہ حدیث باب سابق کے تحت ذکر ہوئی ہے۔
علامہ عینی نے اس کو راجح قراردیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ عام طور پر کتاب نقل کرنے کے لیے خوشخط کاتب کا انتخاب کیا جا تا ہے اور اکثر عمدہ خط والے کاتب جاہل ہوتے ہیں اور جہلاء سے اس قسم کی غلطی ہو سکتی ہے۔
(عمدة القاري: 582/2) (3)
۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ترک مضمضہ والی حدیث میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ذکر کر کے اس کے غیر واجب ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے، یعنی کھائی ہوئی چیز چکناہٹ والی تھی اس سے کلی کرنا چاہیے تھی، لیکن بیان جواز کے لیے رسول اللہ ﷺ نے اسے ترک کردیا۔
(فتح الباري: 408/1)
اس میں شک نہیں کہ کلی کو منہ کی صفائی کے لیے رکھا گیا ہے، ستو میں اجزاء کے انتشار اور گوشت میں چکناہٹ کے اثرات دور کرنے کے لیے کلی کی جاتی ہے۔
اگر منہ کے لعاب کے ساتھ وہ اجزاء تحلیل ہو جائیں اسی طرح کچھ دیر گزرنے کے بعد گوشت کی چکناہٹ بھی ختم ہو جائے تو کلی کرنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی، البتہ اگر ان چیزوں کے استعمال کے فوراً بعد نماز ادا کرنا ہو تو کلی کرنی ہوگی، کیونکہ مقصد منہ کی صفائی ہے تاکہ قراءت میں تکلیف نہ ہو۔
اگر نماز کے وقت منہ کسی وجہ سے خود بخود صاف ہوجائے تو کلی کی ضرورت نہیں۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ حدیث میمونہ کو: ''مضمضة من السویق" کے تحت لائے ہیں۔
معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک روایت میں اختصار ہے اگرچہ اس میں کلی کا ذکر نہیں لیکن کلی کرنا مراد میں داخل ہے، کیونکہ پہلے باب میں گوشت کے استعمال کے بعد وضو لازم نہ ہونے سے ستو کے بعد بھی وضو لازم نہ ہونے پر استدلال کیا تھا اور یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب ستو کے استعمال کے بعد کلی کی جاتی ہے حالانکہ اس میں چکناہٹ نہیں ہوتی تو گوشت یا دوسری چکناہٹ والی چیزوں کے استعمال کے بعد کلی کرنا بالاولیٰ درست ہو گا۔
1۔
اس حدیث میں نہ ستو وغیرہ کا ذکر ہے اور نہ کلی وغیرہ کرنے کا بیان ہے۔
شراح بخاری نے اس کی مختلف توجیہات پیش کی ہیں: (1)
۔
اس حدیث کا تعلق باب سابق سے ہے، لیکن باب در باب کے اصول پر اس سے پہلے ذکر کردہ حدیث پر ایک نیا عنوان قائم کر کے یہ بتایا کہ آگ سے تیار کردہ چیزوں کے استعمال پر منہ کو صاف کرنے کے لیے صرف کلی کافی ہے۔
(2)
۔
حدیث میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر یہاں کاتب کی غلطی سے بے محل ہو گیا ہے، کیونکہ فربری کے نسخے میں یہ حدیث باب سابق کے تحت ذکر ہوئی ہے۔
علامہ عینی نے اس کو راجح قراردیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ عام طور پر کتاب نقل کرنے کے لیے خوشخط کاتب کا انتخاب کیا جا تا ہے اور اکثر عمدہ خط والے کاتب جاہل ہوتے ہیں اور جہلاء سے اس قسم کی غلطی ہو سکتی ہے۔
(عمدة القاري: 582/2) (3)
۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ترک مضمضہ والی حدیث میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ذکر کر کے اس کے غیر واجب ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے، یعنی کھائی ہوئی چیز چکناہٹ والی تھی اس سے کلی کرنا چاہیے تھی، لیکن بیان جواز کے لیے رسول اللہ ﷺ نے اسے ترک کردیا۔
(فتح الباري: 408/1)
اس میں شک نہیں کہ کلی کو منہ کی صفائی کے لیے رکھا گیا ہے، ستو میں اجزاء کے انتشار اور گوشت میں چکناہٹ کے اثرات دور کرنے کے لیے کلی کی جاتی ہے۔
اگر منہ کے لعاب کے ساتھ وہ اجزاء تحلیل ہو جائیں اسی طرح کچھ دیر گزرنے کے بعد گوشت کی چکناہٹ بھی ختم ہو جائے تو کلی کرنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی، البتہ اگر ان چیزوں کے استعمال کے فوراً بعد نماز ادا کرنا ہو تو کلی کرنی ہوگی، کیونکہ مقصد منہ کی صفائی ہے تاکہ قراءت میں تکلیف نہ ہو۔
اگر نماز کے وقت منہ کسی وجہ سے خود بخود صاف ہوجائے تو کلی کی ضرورت نہیں۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ حدیث میمونہ کو: ''مضمضة من السویق" کے تحت لائے ہیں۔
معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک روایت میں اختصار ہے اگرچہ اس میں کلی کا ذکر نہیں لیکن کلی کرنا مراد میں داخل ہے، کیونکہ پہلے باب میں گوشت کے استعمال کے بعد وضو لازم نہ ہونے سے ستو کے بعد بھی وضو لازم نہ ہونے پر استدلال کیا تھا اور یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب ستو کے استعمال کے بعد کلی کی جاتی ہے حالانکہ اس میں چکناہٹ نہیں ہوتی تو گوشت یا دوسری چکناہٹ والی چیزوں کے استعمال کے بعد کلی کرنا بالاولیٰ درست ہو گا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 210 سے ماخوذ ہے۔