صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَى التَّوْحِيدِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَطْعًا باب: موحد قطعی جنتی ہے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عِتْبَانَ ، فَقُلْتُ : حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ ، قَالَ : أَصَابَنِي فِي بَصَرِي بَعْضُ الشَّيْءِ ، فَبَعَثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِي ، فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى ، قَالَ : فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَدَخَلَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي مَنْزِلِي ، وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ ، ثُمَّ أَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِكَ ، وَكِبْرَهُ إِلَى مَالِكِ بْنِ دُخْشُمٍ ، قَالُوا : وَدُّوا أَنَّهُ دَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ ، وَوَدُّوا أَنَّهُ أَصَابَهُ شَرٌّ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ، وَقَالَ : أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالُوا : إِنَّهُ يَقُولُ ذَلِكَ وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ ، قَالَ : " لَا يَشْهَدُ أَحَدٌ ، أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَيَدْخُلَ النَّارَ أَوْ تَطْعَمَهُ " ، قَالَ أَنَسٌ : فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثُ ، فَقُلْتُ لِابْنِي : اكْتُبْهُ ، فَكَتَبَهُ .سلیمان بن مغیرہ نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے محمود بن ریبع رضی اللہ عنہ نے حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی۔ (محمود رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ میں مدینہ آیا تو عتبان رضی اللہ عنہ کو ملا اور میں نے کہا: ایک حدیث مجھے آپ کے حوالے سے پہنچی ہے۔ حضرت عتبان نے کہا: میری آنکھوں کو کوئی بیماری لاحق ہو گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ اے اللہ کے رسول! میرا دل چاہتا ہے کہ آپ میرے پاس تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز ادا فرمائیں تاکہ میں اسی (جگہ) کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں میں سے جن کو اللہ نے چاہا، تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں داخل ہوئے، آپ نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کے ساتھی آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ انہوں نے زیادہ اور بڑی بڑی باتیں مالک بن دخشم کے ساتھ جوڑ دیں، وہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حق میں بد دعا فرمائیں اور وہ ہلاک ہو جائے اور ان کی خواہش تھی کہ اس پر کوئی آفت آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور پوچھا: ”کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ صحابہ کرام نے جواب دیا: وہ (زبان سے) یہ کہتا ہے لیکن اس کے دل میں یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایسا شخص نہیں جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو پھر وہ آگ میں داخل ہو یا آگ اسے اپنی خوراک بنا لے۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ حدیث مجھے بہت اچھی لگی (پسند آئی) تو میں نے اپنے بیٹے سے کہا: اسے لکھ لو، اس نے یہ حدیث لکھ لی۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ عَمِيَ ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَال : تَعَالَ ، فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَاءَ قَوْمُهُ وَنُعِتَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، يُقَالُ لَهُ : مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُمِ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ .حماد نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عتبان بن مالک نے بتایا کہ وہ نابینا ہو گئے تھے، اس وجہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ تشریف لائیں اور میرے لیے مسجد کی ایک جگہ متعین کر دیں (تاکہ میں اس میں نماز پڑھ سکوں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان (عتبان) کی قوم کے لوگ بھی آگئے، ان میں سے ایک آدمی، جسے مالک بن دخشم کہا جاتا تھا، غائب رہا... اس کے بعد حماد نے بھی (ثابت کے دوسرے شاگرد) سلیمان بن مغیرہ کی طرح روایت بیان کی۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي ، وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي ، وَإِذَا كَانَتِ الأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ ، وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ ، فَأُصَلِّيَ لَهُمْ وَدِدْتُ ، أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي مُصَلًّى ، فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، قَالَ عِتْبَانُ : فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَذِنْتُ لَهُ ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ؟ قَالَ : فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَبَّرَ ، فَقُمْنَا وَرَاءَهُ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، قَالَ : وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ لَهُ ، قَالَ : فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَنَا ، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ : أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : ذَلِكَ مُنَافِقٌ ، لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ ، أَلَا تَرَاهُ قَدْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ؟ قَالَ : قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَإِنَّمَا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ لِلْمُنَافِقِينَ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيَّ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ ، عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ .یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے جو ان صحابہ کرام میں سے تھے جو انصار میں سے جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے، (بیان کیا) کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری نظر خراب ہو گئی ہے، میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں اور جب بارشیں ہوتی ہیں تو میرے اور ان کے درمیان والی وادی میں سیلاب آجاتا ہے، اس کی وجہ سے میں ان کی مسجد میں نہیں پہنچ سکتا کہ میں انہیں نماز پڑھاؤں تو اے اللہ کے رسول! میں چاہتا ہوں کہ آپ (میرے گھر) تشریف لائیں اور نماز پڑھنے کی کسی ایک جگہ پر نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو (مستقل طور پر) جائے نماز بنا لوں۔ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان شاء اللہ میں ایسا کروں گا۔“ عتبان رضی اللہ عنہ نے کہا: تو صبح کے وقت دن چڑھتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اندر آنے کی) اجازت طلب فرمائی، میں نے تشریف آوری کا کہا، آپ آ کر بیٹھے نہیں یہاں تک کہ گھر کے اندر (کے حصے میں) داخل ہوئے، پھر پوچھا: ”تم اپنے گھر میں کس جگہ چاہتے ہو کہ میں (وہاں) نماز پڑھوں؟“ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر تکبیر (تحریمہ) کہی اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ نے دو رکعتیں ادا فرمائیں، پھر سلام پھیر دیا۔ اس کے بعد ہم نے آپ کو خزیر (گوشت کے چھوٹے ٹکڑوں سے بنے ہوئے کھانے) کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ کے لیے تیار کیا تھا۔ (عتبان رضی اللہ عنہ نے) کہا: (آپ کی آمد کا سن کر) اردگرد سے محلے کے لوگ آگئے حتی کہ گھر میں خاصی تعداد میں لوگ اکٹھے ہو گئے۔ ان میں سے ایک بات کرنے والے نے کہا: مالک بن دخشن کہاں ہے؟ ان میں سے کسی نے کہا: وہ تو منافق ہے، اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بارے میں ایسا نہ کہو، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اس نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے لا إله إلا الله کہا ہے؟“ (عتبان رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ اس (الزام لگانے والے) نے کہا: ہم تو اس کی وجہ اور اس کی خیر خواہی منافقوں ہی کے لیے دیکھتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو آگ پر حرام قرار دیا ہے جو لا إله إلا الله کہتا ہے اور اس کے ذریعے سے اللہ کی رضا کا طلب گار ہے۔“ ابن شہاب نے کہا: میں نے (بعد میں) حصین بن محمد انصاری سے، جو بنو سالم سے تعلق رکھتے ہیں ان کے سرداروں میں سے ہیں، محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس میں ان (محمود رضی اللہ عنہ) کی تصدیق کی۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍكِلَاهُمَا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ رَبِيعٍ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ ، أَوِ الدُّخَيْشِنِ ؟ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ مَحْمُودٌ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، نَفَرًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا قُلْتَ ؟ قَالَ : فَحَلَفْتُ إِنْ رَجَعْتُ إِلَى عِتْبَانَ أَنْ أَسْأَلَهُ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ ، فَوَجَدْتُهُ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ ، وَهُوَ إِمَامُ قَوْمِهِ ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : ثُمَّ نَزَلَتْ بَعْدَ ذَلِكَ فَرَائِضُ وَأُمُورٌ ، نَرَى أَنَّ الأَمْرَ انْتَهَى إِلَيْهَا ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَغْتَرَّ فَلَا يَغْتَرَّ .معمر نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا (پھر یونس کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، البتہ یہ کہا: تو ایک آدمی نے کہا: مالک بن دخشن یا دخیشن کہاں ہے؟ اور حدیث میں یہ اضافہ کیا: محمود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث چند لوگوں کو، جن میں ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، سنائی تو انہوں نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ جو بات تم بیان کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہو۔ اس پر میں نے (دل میں) قسم کھائی کہ اگر میں عتبان رضی اللہ عنہ کے ہاں دوبارہ گیا تو ان سے (اس کے بارے میں ضرور) پوچھوں گا۔ تو میں دوبارہ ان کے پاس آیا، میں نے دیکھا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں، ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی لیکن وہ (اب بھی) اپنی قوم کے امام تھے۔ میں ان کے پہلو میں بیٹھ گیا اور ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے بالکل اسی طرح (ساری) حدیث سنائی جس طرح پہلے سنائی تھی۔ زہری نے کہا: اس واقعے کے بعد بہت سے فرائض اور دیگر امور (احکام) نازل ہوئے اور ہماری نظر میں معاملہ انہی پر تمام ہوا، لہذا جو انسان چاہتا ہے کہ (عتبان رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ظاہری مفہوم سے) دھوکا نہ کھائے، وہ دھوکا کھانے سے بچے۔)
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، قَالَ : إِنِّي لَأَعْقِلُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْوٍ فِي دَارِنَا ، قَالَ مَحْمُودٌ : فَحَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بَصَرِي قَدْ سَاءَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ : فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ، وَحَبَسْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَشِيشَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ زِيَادَةِ يُونُسَ ، وَمَعْمَرٍ .حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس کلی کی سمجھ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمارے گھر میں ایک ڈول سے (پانی لے کر) کی تھی، محمود کہتے ہیں مجھے عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میری نظر میں خرابی پیدا ہو گئی ہے اور دو رکعات نماز پڑھانے تک واقعہ سنایا اور یہ کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے لیے جو کھانا تیار کیا تھا، اس کے لیے آپﷺ کو روک لیا، اس کے بعد یونس اور معمر نے جو اضافہ کیا، وہ بیان نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
عُظْم: عین کے پیش کے ساتھ، بڑا حصہ، كُبْر کاف کے پیش اور زیر کے ساتھ، اکثر حصہ۔
(2)
دَعَا عَلَيْهِ: کسی کے خلاف بد دعا کرنا۔
فوائد ومسائل:
آپ ﷺ نے توحید ورسالت کی شہادت دینےوالے کو کہا کہ وہ دوزخ پر حرام ہے یا اسے آگ نہیں کھائے گی، اس قسم کی بشارتوں میں آپ کا مقصد اور مطمح نظر کسی عمل خیر کی ذاتی خاصیت اور اس کا اصل اثر بتانا ہے اور یہ خاصیت اور اثر اسی وقت ظاہر ہوتا ہے، جب کوئی چیز اس کے مانع موجود نہ ہو جو اس کے اثر کو زائل کرنے والی ہو۔
مثلا طبیب کہتا ہے: جو شخص ہمیشہ اطریفل استعمال کرتا رہے گا وہ ہمشیہ نزلہ سے محفوظ رہے گا، تو کیا اس کا یہ معنی لینا درست ہوگا، اس کے ساتھ کسی پرہیز اوراحتیاط کی ضرورت نہیں ہے، وہ شخص اگرنزلہ پیدا کرنے والی اشیاء مثلا: تیل، ترش، وغیرہ چیزیں بھی برابر کھاتا رہے تو کیا وہ نزلہ سے بچ سکے گا؟ توحید ورسالت کی شہادت کا اصل مقصد، دعوت دین وایمان کو قبول کرنا اور آپ کےلائے ہوئے دین اسلام کو اپنانا ہے جیسا کہ ہم پہلے اس کی وضاحت کر چکے ہیں، اس لیے توحید ورسالت کی شہادت کا اقتضاء یہی ہے کہ ایسا آدمی عذاب ودوزخ سے محفوظ رہے اور جنت میں جائے، لیکن اگر اس نے اپنی بدبختی سے اکچھ ایسے اعمال بھی کیے ہیں جن کا ذاتی تقاضا یا خاصیت واثر قرآن وحدیث کی رو سے عذاب پانا اور دوزخ میں جانا بتلایا گیا ہے، تو ظاہر ہے ان اعمال کا بھی کچھ نہ کچھ اثر ہوگا اور ان کے مطابق (اسے اگر اللہ تعالیٰ نے معاف نہ فرمایا)
تو کچھ عرصہ دوزخ میں گزارنا ہوگا۔
ایک شبہ اور اس کا ازالہ: صحیح مسلم کے بعض شارحین نے لکھا ہے: کہ بعض صحابہ نے مالک بن دخشم کے بارے میں یہ گمان کیا، کہ وہ دل سے کلمہ نہیں پڑھتا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا رد کیا، اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ دلوں کے حال پر مطلع ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے: کہ پیچھے ایسی روایات گزر چکی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ، ہمارا کام ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنا ہے، ہم کسی کے باطن سے آگاہ نہیں، اس لیے اس پر حکم لگانا درست نہیں، اس کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، اسی اصول کے تحت آپ (ﷺ) نے ایک اصولی بات فرمائی ہے کہ "لَا يَشْهَدُ أَحَدٌ" جو بھی شہادت دیتا ہے، اور شہادت دل اور زبان کی یکسانیت کا نام ہے۔
یعنی شہادت دل کی گواہی کا نام ہے، محض زبان سے کہہ دینا شہادت نہیں ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سورۃ منافقون میں، منافقوں کے نشہد کہنے کی تردید فرمائی ہے اور آپ ﷺ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا: (ھل شققت قلبه)
’’کیا تو نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھ لیا تھا‘‘ کہ اس نے اسلام کا اقرار دل سے نہیں کیا اور آپ نے ابن دخشم کے بارے میں نفاق کا شبہ کرنے والے کو فرمایا تھا: (أَلاَ تَرَاهُ قَدْ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ؟)
’’کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کا قائل ہے اور وہ اس سے اللہ ہی کی رضا چاہتا ہے۔
‘‘ آپ نے تراہ کا لفظ استعمال فرمایا ہے تو کیا وہ اس کے دل کے حالا ت سے آگاہ تھا یا اس کے دل میں جھانک رہا تھا، اگر آپ دلوں پر مطلع تھے تو یہ کیوں فرمایا گیا: ﴿لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ﴾ ’’آپ آگاہ نہیں ہیں انہیں ہم ہی جانتے ہیں۔
‘‘ (توبہ: 101)