صحيح مسلم
كتاب الحيض— حیض کے احکام و مسائل
باب اسْتِحْبَابِ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى الرَّأْسِ وَغَيْرِهِ ثَلاَثًا: باب: سر وغیرہ پر تین مرتبہ پانی ڈالنے کا مستحب ہونا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : تَمَارَوْا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : أَمَّا أَنَا ، فَإِنِّي أَغْسِلُ رَأْسِي كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا أَنَا ، فَإِنِّي أُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ أَكُفٍّ " .حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غسل کے بارے میں جھگڑا کیا، بعض نے کہا، میں تو بس اتنی اتنی دفعہ سر دھو لیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو سر پر تین چلو ڈالتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَقَالَ : أَمَّا أَنَا ، فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا " .شعبہ نے ابواسحاق سے، انہوں نے سلیمان بن صرد سے، انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ کے پاس غسل جنابت کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”لیکن میں، میں تو اپنے سر پر تین بار پانی بہاتا ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
تَمَارُوا: باہمی اختلاف اور جھگڑا کیا۔
اَكُفٍّ: كف کی جمع ہے، ہتھیلی کو کہتے ہیں اور یہاں مراد چلو ہے۔
«. . . قَالَ: حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا، وَأَشَارَ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا " . . . .»
”. . . ہم سے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا۔ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/بَابُ مَنْ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا:: 254]
ابونعیم نے مستخرج میں روایت کیا ہے کہ لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غسل جنابت کا ذکر کیا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ انہوں نے جھگڑا کیا تب آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔
«. . . حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا، وَأَشَارَ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا . . .»
”. . . ہم سے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا۔ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/بَابُ مَنْ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا: 254]
[187۔ البخاري فى: 5 كتاب الغسل: 4 باب من افاض على راسه ثلاثًا 254، مسلم 327، ابن ماجه 570]
فھم الحدیث:
معلوم ہوا کہ دوران غسل بدن پر تین مرتبہ پانی بہانا مستحب ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ [شرح مسلم للنووي 246/2]
تاہم واجب صرف ایک مرتبہ پانی بہانا ہی ہے کہ پیچھے حدیث گزری ہے۔
1۔
امام بخاری ؒ کا اس عنوان سے مقصد یہ ہے کہ غسل میں اصل بات استیعاب ہے۔
تین بار پانی ڈالنے کا عدد بزات خود مطلوب نہیں، بلکہ تین بار عمل کرنے میں رازیہ ہے کہ تکرار عمل سے عمل میں قوت آجاتی ہے۔
تین بار کا عمل تکرار کی آخری حد ہے۔
2۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے غسل جنابت کے متعلق اپنی اپنی حالتیں بیان کیں، کسی نے کہا: میں ایسے کرتا ہوں۔
دوسرے نے کہا: میں ایسے کرتا ہوں۔
اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تو تین بار پانی بہاتا ہوں۔
(صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 740 (327)
بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قبیلہ ثقیف کے لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے غسل جنابت کے سلسلے میں اپنی اپنی حالتیں بیان کیں تو رسول اللہ ﷺ نے وہ جواب دیا جس کا ذکر اس روایت میں ہے۔
(صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 742 (327)
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غسل (جنابت) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رہا میں تو میں اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 425]
➋سر کو اہتمام سے دھونا چاہیے، اس لیے اس میں تین دفعہ دھونے کی مشروعیت ہے۔ اس تعداد سے سر کی جلد اچھی طرح تر ہو جاتی ہے۔ اس سے زائد دفعہ دھونا ممنوع ہے۔ امام صاحب رحمہ اللہ کا باب سے یہی مقصد معلوم ہوتا ہے۔ واللہ أعلم۔
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل کے سلسلے میں جھگڑ پڑے، قوم کا ایک شخص کہنے لگا: میں اس اس طرح غسل کرتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رہا میں تو میں اپنے سر پر تین لپ پانی بہاتا ہوں۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 251]
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل جنابت کے بارے میں بحث و مباحثہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں تو اپنے سر پہ تین چلو پانی ڈالتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 575]
اگر سر میں صحیح طریقے سے پانی ڈالا جائے تو تین لپوں میں پورا سر اچھی طرح تر ہو سکتا ہے۔
ویسے بھی ضرورت سے زیادہ پانی خرچ کرنا فضول خرچی ہے جس سے اللہ کے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
(2)
بحث ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس موضوع پر بات چیت شروع ہوگئی ہے، ہر کسی نے بتایا کہ وہ غسل کس طرح کرتا ہے۔
تعلیم وتربیت کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کسی مسئلے میں شاگردوں کی رائے فرداً فرداً دریافت کی جائے۔
اس کے بعد استاد صحیح بات بتائے تاکہ ہر طالب علم اپنی غلطی معلوم کرکے اسے اچھی طرح یاد رکھ سکے۔
(4)
اس حدیث میں غسل جنابت کے مسائل میں سے صرف ایک مسئلہ بیان کیا گیا ہے، ممکن ہے رسول اللہ نے پورا طریقہ بیان کیا ہو، راوی نے صرف اہم ذکر کردیا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے باقی مسائل ذکر نہ کیے ہوں کیونکہ صحابہ نے وہ باتیں صحیح بتائی ہوں گی’’جو بات ان سے رہ گئی نبیﷺ نے اس کا ذکر فرما دیا۔
واللہ اعلم۔